جموں وکشمیر میںریاستی درجہ اور اسمبلی کی فوری بحالی ہونی چاہئے،سرجیکل سٹرائیکس کے متعلق بیان سے متفق نہیں فوج کو کوئی ثبوت فراہم کرنے کی ضرورت نہیں | ملک میں نفرت کی گنجائش نہیں،بھارت جوڑو یاتر نفرت کے بیانیہ سے لڑنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوئی :راہول گاندھی

نیوز ڈیسک
جموں// سینئر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی دگ وجے سنگھ کے سرجیکل سٹرائیکس کے متعلق بیان سے متفق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی فوج پر پورا بھروسہ ہے اور جو وہ کرتے ہیں اس کا ثبوت نہیں مانگا جانا چاہئے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ دگ وجے سنگھ کی ذاتی رائے ہے پارٹی کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں ریاستی درجے کی بحالی جلد ازجلد ہونی چاہئے اور یہاں اسمبلی بھی بحال ہونی چاہئے۔ موصوف لیڈر نے ان باتوں کا اظہار منگل کونگروٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے دگ وجے سنگھ کے سرجیکل اسٹرئیکس کے متعلق بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا’’دگ وجے سنگھ جی نے جوکہا ہے اس سے میں اتفاق نہیں کرتا ہوں ہمیں اپنی فوج پر پورا بھروسہ ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں ہمیں اس کا ثبوت نہیں مانگنا چاہئے‘‘۔ان کا کہنا تھا’’یہ ان کی ذاتی رائے ہے پارٹی کو اس رائے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔راہل گاندھی نے کہا کہ ہماری پارٹی ایک جمہوری پارٹی ہے اس میں تانا شاہی نہیں ہے اس میں ہر معاملے پر گفت شنید ہوتی ہے۔کشمیری پنڈتوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کے بارے میں انہوں نے کہا’’پنڈتوں کی اس وفد نے شکایت کی کہ بی جے پی ہمیں ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا’’پنڈتوں نے مجھے بتایا کہ ہمارے لئے جو کچھ کیا گیا وہ کانگریس نے منموہن سنگھ جی کے دور اقتدار کے دوران کیا گیا‘‘۔موصوف لیڈر نے کہا کہ پنڈتوں نے مجھ سے ان کے مسائل پارلیمنٹ میں اجاگر کرنے کی استدعا کی۔انہوں نے کہا کہ ایک لیڈر کے بیان سے یاترا متاثر نہیں ہوسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا’ ’یاترا نے دو نظریوں کو واضح کیا اور اس یاترا نے ملک کے بیانیے کو تبدیل کر دیا‘‘۔دفعہ370 کی بحالی کے بارے میں پوچھے جانے پر موصوف لیڈر نے کہا’’اس پر کانگریس کا واضح اسٹینڈ ہے اور اس سلسلے میں ہماری قرار داد کا مطالعہ کریں‘‘۔راجناتھ سنگھ کے یاترا کے بارے میں ایک بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر راہل گاندھی نے کہا: ’ایک یاترا جو ملک کے لوگوں کو جوڑتی ہے کیسے ملک کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہے میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں‘۔انہوں نے کہا کہ یاترا کا مقصد بھارت کو جوڑنا ہے اور جو ماحول ملک میں بی جے پی اور آر ایس ایس نے پھیلایا ہے اس کے خلاف کھڑا ہونا ہمارا مقصد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر میں ریاستی درجہ جلد سے جلد بحال ہونا چاہئے اور یہاں اسمبلی بھی بحال ہونی چاہئے ۔بھارت جوڑو یاتراکو ملک میں نفرت کے بیانے سے لڑنے میں کامیاب قراردیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ہم اخوات اور مساوات میں یقین رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ملک کے لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے میں یقین نہیں رکھتی ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سے لیکر کنیا کماری تک ہم مذہبی بھائی چارے کو فروغ دینے کی کوشش میں لگے ہیں اور اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ’’میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ہم یاترا کے ذریعے ملک بھر کے لوگوں کو ایک بار پھر ایک ساتھ لانے میں کامیاب رہے ہیں۔ یاترا میں ہمارے لیے بہت سے اسباق تھے اور ہم نے اپنے سفر کے دوران مختلف رنگوں کے لوگوں سے ملنے کے بعد بہت کچھ سیکھا ہے‘‘۔انہوںنے کہاکہ ملک میں نفرت کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ کانگریس محبت کے پیغام کو پھیلانے میں یقین رکھتی ہے۔ہماری کوشش جموں و کشمیر میں محبت کی دکانیں کھولنے کی ہے جسے سیاست کا قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔یاتراکے ذریعے ہم بڑی حد تک ملک میں بی جے پی کی طرف سے پھیلائی گئی نفرت کے تباہ کن بیانیہ سے لڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں‘‘۔ یہ پوچھے جانے پر کہ اگریاترا غیر سیاسی تھی، تو وہ مسلسل بی جے پی کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں، راہول نے کہا کہ چونکہ کانگریس عظیم پرانی سیاسی پارٹی ہے، اس لیے یاترا کے دوران ان کی تقریروں میں ضرور تھوڑی سی سیاست ہوگی۔کانگریس لیڈر نے کہاجب کشمیری پنڈت، کسان اور بے روزگار نوجوان یاترا کے دوران مجھ سے ملے اور امید کررہے ہیں کہ میں ان کے مسائل کو ضرور اٹھاؤں گا، اگر میں ان کے بارے میں بات نہیں کروں گا تو ظاہر ہے کہ میرے لئے ایک مسئلہ ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوان ڈپریشن اور تکلیف کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ہم ان کو سننے اور ان کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے یہاں موجود ہیں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کو بھی اس حد تک دبا دیا گیا ہے جیسے یاترا بالکل نہیں ہو رہی ہے۔لال سنگھ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر راہل نے کہا کہ’’ سنگھ نے یاترا کی حمایت کی اور کانگریس اس کی تعریف کرتی ہے ۔جہاں تک غلام نبی آزاد کا تعلق ہے، ان کے 90 فیصد حامی اور پارٹی کے لوگ ہمارے اسٹیج پر تھے۔ اگر ہم نے آزاد یا لال سنگھ کو تکلیف پہنچائی ہے تو میں معافی مانگنا چاہوں گا‘‘۔ راہول نے کہاکہ ایسی خبروں پر کہ ان کی یاتراکے لیے کروڑوں خرچ کیے جا رہے ہیں، راہول نے کہا کہ ان کی شبیہ کو خراب کرنے کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس نے ہزاروں کروڑ خرچ کیے لیکن ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے۔ ’’میں بی جے پی کو بتانا چاہتا ہوں کہ پیسہ سچائی کو دفن نہیں کر سکتا جس کے سامنے آنے کی گندی عادت ہے۔ بی جے پی نے اس حقیقت کو آہستہ آہستہ سمجھنا شروع کر دیا ہے‘‘۔ بی بی سی کی ممنوعہ دستاویزی فلم کے بارے میں پوچھے جانے پرراہول گاندھی کا کہنا تھا کہ سچ ہمیشہ سامنے آتا ہے اور کوئی بھی پابندی سچ کو سامنے آنے سے نہیں دبا سکتی۔انہوںنے کہاکہ سچ ہمیشہ سامنے آتا ہے۔ پریس پر پابندی لگانے اور لوگوں کیخلاف ای ڈی اور سی بی آئی جیسے اداروں کا استعمال سچائی کو سامنے آنے سے نہیں دبا سکتا۔اس سے پہلے یاترا کے دوران جے رام رمیش نے منگل کو میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دگ وجے سنگھ کے تبصرے کے بارے میں جو کچھ کہنے کی ضرورت تھی وہ ہو چکی ہے۔ سوال اب وزیر اعظم سے پوچھے جائیں۔جے رام رمیش نے کہاکہ کانگریس پارٹی نے جو چاہا کہا۔ میں نے کل اسی حوالے سے ٹویٹ کیا تھا۔ میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کہنا چاہتا۔