بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر میں سماجی جرائم اور انسانی تحفظ سے متعلق تازہ سرکاری اعداد و شمار نے ایک تشویشناک صورتحال کو نمایاں کیا ہے، جس میں خواتین کے خلاف سائبر جرائم، لاپتہ افراد، کمسن بچیوں کی گمشدگی اور جہیز اموات کے کیس شامل ہیں۔ مجموعی رجحان اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ بعض زمروں میں شرح قومی اوسط سے کم ہے، تاہم کیسوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور بازیابی و سزا کی کم شرح ایک سنجیدہ چیلنج بنتی جا رہی ہے۔نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق جموں و کشمیر میں سال 2023 کے دوران خواتین کے خلاف سائبر جرائم کے 68 کیس درج ہوئے، جو 2021 اور 2022 میں 39، 39 کیسوں کے مقابلے میں واضح اضافہ ہیں۔ مرکزی زیر انتظام خطہ میں سائبر کرائم کی شرح 1.0 فی لاکھ آبادی رہی، جو قومی اوسط 2.9 سے کم ہے، تاہم مسلسل اضافہ خطرے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ قومی سطح پربھی خواتین کے خلاف سائبر جرائم میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں 2021 میں 10,730 کیس بڑھ کر 2023 میں 19,510 تک پہنچ گئے۔لاپتہ افراد کی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک ہے۔
جموں و کشمیر میں سال 2023 کے دوران 7,151 افراد لاپتہ رپورٹ ہوئے، جن میں سے 4,190 کاتاحالکوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ ان میں وہ کیس بھی شامل ہیں جو گزشتہ برسوں سے زیر التوا تھے اور نئے درج ہونے والے کیس بھی۔ مجموعی طور پر 2,961 افراد کو بازیاب کیا گیا، تاہم ہزاروں افراد کا سراغ نہ ملنا ایک بڑا انتظامی اور سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔کمسن بچیوں کی گمشدگی کے کیسوںبھی تشویش میں اضافہ کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر 509 بچیوں کے لاپتہ ہونے کے کیس درج ہوئے جن میں سے صرف 209 کو بازیاب کیا جا سکا جبکہ 300 تاحال لاپتہ ہیں۔ 2021 سے 2023 کے دوران اس رجحان میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ، جو بچوں کے تحفظ کے نظام پر سوالات اٹھاتا ہے۔جہیز اموات کے کیس اگرچہ تعداد میں کم ہیں تو سزا کی شرح بھی انتہائی کم رہی ہے۔ سال 2023 میں 9 کیس درج ہوئے جن میں سے تمام کا ٹرائل مکمل ہوا مگر صرف ایک میں سزا سنائی گئی، جس سے سزا کی شرح 11.1 فیصد رہی۔ اس کے مقابلے میں قومی سطح پر سزا کی شرح 35 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو عدالتی عمل میں واضح فرق کو ظاہر کرتی ہے۔خواتین مقدمات کے معروف وکیل ایڈوکیٹ شاکر محمود کے مطابق مجموعی طور پر یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں جرائم کی نوعیت بدل رہی ہے اور سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے کیس، کم بازیابی کی شرح اور عدالتی فیصلوں میں تاخیر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پالیسی، تفتیش اور سماجی سطح پر مزید مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔