جموں //مرکز ی زیر انتظام جموں و کشمیر نے’ فلڈ فورکاسٹنگ ‘یعنی سیلاب کی پیشگوئی کے ایک باہمی تعاون کے منصوبے کیلئے برطانیہ میں قائم خلائی ایجنسی کے ساتھ ہاتھ ملایا ہے۔خیال رہے فی الحال جموں وکشمیر میں فلڈ فورکاسٹنگ( سیلاب کی پیشگوئی) کا کوئی ایسا میکانزم یاطریقہ کار موجود نہیں ہے۔ اس منصوبے سے مرکزی علاقے میں سیلاب کی پیش گوئی میں مدد ملے گی۔قومی خلائی جدت طرازی پروگرام (این ایس آئی پی) جو ایچ آر والنگ فورڈ نے آکسفورڈ یونیورسٹی، سیئرز اینڈ پارٹنرز (ایس پی ایل) اور ڈی،آربٹ کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے، ایک ایسا اقدام ہے جو برطانیہ میں مقیم تنظیموں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے مابین باہمی تعاون کے منصوبوں کی حمایت کرتا ہے۔سرکاری ترجمان نے بتایا کہ12 فروری2021کوجموں وکشمیر کی انتظامیہ نے سیلاب کی پیش گوئی سے متعلق ایک باہمی تعاون کے منصوبے کیلئے برطانیہ میں قائم خلائی ایجنسی کے ساتھ ہاتھ ملایا۔سرکاری ترجمان نے بتایا کہ جموں و کشمیرکے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کا یہ ایک بڑا قدم ہے جو سیلاب سے ہونے والے متوقع نقصانات، لوگوں کو زخمی ہونے، عمارتوں کو نقصانات پہنچنے اور معاشی نقصان کم کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال جموں وکشمیر میں فلڈ فورکاسٹنگ کوئی ایسا میکانیزم یاطریقہ کار موجود نہیں ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ بین الاقوامی تعاون ماضی کے سیلاب کے واقعات کا تجزیہ کرنے اور پیش گوئی شدہ سیلاب اور ان کے اثرات کے مابین تعلقات کی نشاندہی کرنے میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ میکانیزم لوگوں، ان کے مکانات، فصلوں، مویشیوں اور نقل و حمل کے راستوں پر پڑنے والے اثرات کی پیش گوئی کرے گا۔ اس طرح سیلاب کے دوران لوگوں کو درپیش کئی چیلنجوں کو کم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یوٹی انتظامیہ کو اس منصوبے پر کوئی اخراجات برداشت نہیں کرنے ہوں گے۔منوج سنہا نے کہا کہایک حالیہ رپورٹ میں بھارت کو دنیا کے آفات ِسماوی متاثرہ ہونے والی دس حساس ملکوں میں گنا گیا ہے اور سیلاب کو موسمیاتی تبدیلی کا شاخسانہ قرار دیا گیا ہے جس سے سب سے زیادہ لوگوں کو خطرہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں کئی پیش گوئی نظام قائم ہے جو آب گاہوں آبی سطح اور ان کے بہائو کی پیش گوئی کرتے ہیں تاہم جان و مال پر اس سے اثرات سے متعلق پیشگوئی کے لئے کوئی نظام نہیں ہے ۔ جان و مال، اہم بنیادی ڈھانچے اور زراعت کو سیلاب سے ہونے والے اثرات و نقصانات کے بارے میں کوئی نظام نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ جموںوکشمیر میں سیلاب کے اثرات سے متعلق کوئی بھی مؤثر پیش گوئی نظام نہیں ہے اور جموںوکشمیر حکومت نے سیلاب کے اثرات اور خطرات سے متعلق پیش گوئی کے لئے ایک اہم اِقدامات اٹھایا ہے جس سے جان و مال بنیادی ڈھانچے اور اِقتصادی نظام کو سیلاب سے ہونے والے ممکنہ اثرات و خطرات سے متعلق پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔سرکاری ترجمان نے کہا کہ زمین کا مشاہدہEO پر مبنی معلومات کا استعمال کرتے ہوئے یہ فریم ورک کسی بھی موجودہ یا مستقبل میں سیلاب کے بہاؤ کی پیش گوئی کے نظام سے منسلک ہونے کے قابل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یوٹی انتظامیہ کو اس منصوبے پر کوئی اخراجات برداشت نہیں کرنے ہوں گے۔واضح رہے کہ ستمبر2014 میں وادی کشمیر میں تباہ کن سیلاب آیا تھا جو کہ اتنا خوفناک تھا کہ اب تک اس کی یادیں وادی کے لوگ فراموش نہیں کر پائیں ہیں۔ ستمبر2014 کے سیلاب نے کشمیر میں آناً فاناً کئی بستیاں تباہ کر دیں، جبکہ ہزاروں املاک کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے۔ تباہ کن سیلاب نے لاکھوں کنال اراضی پر پھیلی ہوئے فصلوں کو نیست و نابود کر دیا تھا۔