نئی دہلی // مرکزی وزارت داخلہ نے چند روز قبل جموں ائیر فورس اسٹیشن پر ڈرون حملے سے متعلق کیس کی تحقیقات قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کے حوالے کردی ہے۔ این آئی اے نے اس کیس کو دوبارہ رجسٹر کر کے باضابطہ طور پر اس کی تحقیقات کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔اس سے قبل نیشنل سیکورٹی گارڈ (این ایس جی) اور این آئی اے مشترکہ طور پر اس واقعہ کی تحقیقات کر رہے تھے۔ اس سے قبل جموں پولیس نے دہشت گردی سے متعلق دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔وزارت داخلہ کی جانب سے احکامات صادر ہونے کے بعد این آئی اے نے ستواری پولیس سٹیشن میں کیس زیر نمبر 170/2021 کے تحت کیس درج کرلیا ہے۔این آئی اے کی ٹیم اتوار کے روز ہی دھماکے کے بعد ابتدائی شواہد اکٹھا کرنے جموں ائیر فورس اسٹیشن پہنچ گئی تھی۔ بعدازاں یہ شواہد فارنسک تجزیہ کے لئے بھیجے گئے تھے۔اس حملے کی تحقیقات کرنے والی ایجنسیوں نے پیر کو کہا تھا کہ دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کا اس میں ہاتھ ہوسکتا ہے۔ آر ڈی ایکس کے استعمال کے پیش نظر پاکستان میں فعال عناصر کے ملوث ہونے کا بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ہندوستانی فضائیہ کے اسٹیشن پر اپنی نوعیت کے پہلے حملے کی تحقیقات سونپنے کا فیصلہ وزارت داخلہ امور نے لیا ہے۔حکام کے مطابق ، یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان میں مقیم ملی ٹینٹوں نے اہم تنصیبات پر حملہ کرنے کے لئے ڈرون استعمال کئے ہیں۔ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب جموں ہوائی اڈے کے آئی اے ایف اسٹیشن پر دو بم گرائے گئے تھے۔ چھ منٹ کے اندریکے بعد دیگرے صبح 1.40 بجے ہوئے دھماکوں میںہندوستانی فضائیہ کے دو اہلکارپہلا دھماکا شہر کے مضافات میں ستوری کے علاقے میں ہوائی اڈے کے اعلی سیکیورٹی تکنیکی علاقے میں ایک منزلہ عمارت کی چھت سے پھٹا۔ حکام نے بتایا کہ دوسرا ایک زمین پر تھا۔
کنٹرول لائن کے قریب تیسری بار ڈرون نمودار
ڈرون سرحد کے اُس پار آئے تھے، لشکر طیبہ ملوث:پولیس سربراہ
نیوز ڈیسک
سرینگر//جموں میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک گزشتہ شب مسلسل تیسری مرتبہ ڈرون نمودار ہوئے۔کی گردش کے بعد الرٹ جاری کر دیا گیا ہے ۔ ادھر جموں کشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ جموں میں فضائیہ کے اڈے پر ڈرون حملوں میں عسکری تنظیم لشکر طیبہ ملوث ہے ۔ فوج نے جموں شہر کے مضافاتی علاقہ رتنوچک کنجونی کے فوجی علاقے میں پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک اور ڈرون کو گردش کرتے ہوئے دیکھا۔انہوں نے کہا کہ رتنوچک اور کنجونی علاقوں کے نزدیک اس ڈرون کو دوران شب تین مرتبہ گردش کرتے ہوئے دیکھا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ اس سے پہلے انکے خلاف کارروائی کی جاتی ڈرون واپس سرحد پار چلے گئے۔ادھر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ کا کہنا ہے کہ جموں میں ائر فورس ہوائی اڈے پر ڈرون حملوںمیںلشکر طیبہ ملوث ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ڈرون سرحد کے اُس پار سے آئیں تھے ۔ انہوںنے کہا کہ حملے کی جگہ سے کچھ اہم شواہد ملے ہیں جن سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ اُس پا ر سے ہی کیا گیا ہے ۔