اتوار 7جون سے بدھ وار تک تین روز کے دوران الگ الگ معرکوں میں چودہ جنگجومارے گئے ۔اس سال کے آغاز سے ہی جنگجو مخالف آپریشنوں کا سلسلہ تیز ہوا اور جنگجوو ں کی اچھی خاصی تعداد معرکوں کے دوران جاں بحق ہوئی جن میں کئی اعلیٰ کمانڈر بھی تھے ۔سکیورٹی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ اس سال جنوری سے اب تک ایک سو جنگجو مارے گئے جبکہ صرف یکم جون سے 10جون تک 24جنگجو مارے گئے ۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جنگجووں کے خلاف جارحانہ حکمت عملی کس حد تک فورسز اور حکومت کے لئے من چاہے نتائج پیدا کررہی ہےاور عسکری تحریک کس طرح سے شدید دباو کا شکار ہورہی ہے ۔اس کا اعتراف کچھ ہی عرصہ پہلے متحدہ عسکری کمانڈ کے سربراہ سید صلاح الدین نے بھی کھلے عام کیا ۔انہوں نے اس کے لئے پاکستان کی پالیسیو ں کو ذمہ دار قرار دیا ۔یہ ایک بڑی اور لمبی بحث ہے کہ ایسا کیوں اور کیسے ہوا ۔ اس بحث کو چھوڑ کر اس وقت جو سوال بڑی اہمیت رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا کشمیر میں عسکریت خاتمے کی طرف گامزن ہے ۔اس سوال کے ساتھ بہت سارے دیگر سوالات بھی وابستہ ہیں جن میں کچھ اہم اور قابل غور سوال یہ ہیں کہ(1) اگر ایسا ہوا توپھر کیا ہوگا ۔ اس کے نتائج کیا ہوں گے (2) عسکریت کا آغاز کیوں اور کیسے ہوا ۔اس کے پیچھے کس سوچ کا ،کس نظرئیے کی قوت کا اثاثہ تھا ۔ اس کا عروج کیسے ہوا ۔ اس عروج کے پیچھے کیا عوامل تھے اور اس کے زوال کا سبب کیا تھا ۔ ان سوالوں سے زیادہ بڑا سوال یہ ہے کہ تیس سال کی عسکری تحریک نے بے پناہ مالی ، جانی اور معاشی قربانیوں کے صلے میں کشمیر کو کیا دیا ۔
جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے کہ کیا عسکری تحریک خاتمے کی طرف گامزن ہے تو زمینی حالات پر سرسری نگاہ ڈالنے سے جو تصویر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ بڑی تیزی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعداد میں جنگجو مارے جارہے ہیں اور ان کے لئے آزادانہ نقل و حرکت اب اتنی آساں نہیں رہی ہے جتنی کہ کبھی تھی ۔فورسز کی کامیابیوں میں جنگجووں سے متعلق ملنے والی اطلاعات کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔اس کے بغیر یہ کامیابیاں ممکن نہیں ہوسکتی تھیں گو کہ جدیدالیکٹرانک ٹیکنالوجی کا بھی اس میں کافی حصہ ہے تاہم فورسز کا نیٹ ورک اب کافی وسیع اور مضبوط ہوچکا ہے ۔جنگجووں کی نئی بھرتیوں میں بھی قابل ذکر حد تک کمی واقعہ ہوئی ہے اور بالائے زمین نیٹ ورک بھی بڑی حد تک تہس نہس ہوا ہے ۔اس اعتبار سے عسکریت کے زیادہ عرصے تک ایک قوت کی حیثیت سے باقی رہنے کے امکانات محدود نظر آتے ہیں لیکن جس جذبے نے عسکریت کو پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا وہ پہلے سے زیادہ وسعت اختیار کرچکا ہے۔جو واقعات رونما ہورہے ہیں اور مختلف سطحوں پر جو اقدامات کئے جارہے ہیں وہ اسے زیادہ گہرائی اور شدت فراہم کررہے ہیں ، اس لئے حتمی طورپر یہ کہنا مشکل ہے کہ عسکریت ماضی کا ایک قصہ پارینہ بن کر رہ جائے گی یا کسی اور شکل میں یہ لاوا پھٹ کر باہر آئے گا۔دنیا میں گزشتہ صدی کے دوران جہاں جہاں بھی عسکریت کا آغاز ہوا تقریباً ہر جگہ عسکریت زوال سے دوچار ہوئی لیکن ختم صر ف سری لنکا میں ہوئی جہاں تامل جنگجووں نے زبردست قوت حاصل کی تھی ۔افغانستان میں جس عسکری قوت نے سوویت یونین جیسے سپر پاور کے پرزے بکھیرے تھے وہ باہمی خانہ جنگیوں میں الجھ کر رہ گئی اور اس خانہ جنگی کا طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے بعد بھی خاتمے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔اس دوران یہ بہت بڑی تبدیلی بھی رونما ہوئی کہ عسکریت جسے اُس وقت تک دنیا میں بڑا وقار حاصل تھا جب تک کہ سوویت یونین اس کا نشانہ تھا ۔جہاد اور مجاہدین جیسے الفاظ بھی اُس وقت تک دنیا بھر میں بڑے معتبر الفاظ تھے لیکن سرد جنگ کے خاتمے کے بعد جب امریکہ اس کے نشانے پر آیا تو اس کی عزت وشہرت حقارت اور نفرت میں بدل گئی او جہاد کے بجائے اسے دہشت گردی سے منسوب کیا گیا ۔ بڑا المیہ یہ ہوا کہ جب دنیا کے کئی ملکوں میں خونریز حملے ہوئے تو اسلامی دہشت گردی کی ٹرم استعمال کی جانے لگی۔ بہرحال اس کے بعد دنیا میں جو بھی ہوا وہ تاریخ ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس طرح کی عسکریت جہاں بھی ہوئی اس نے کئی گھمبیر سماجی مسائل بھی پیدا کئے جن سے کسی بھی قوم کو، جس نے عسکریت کا راستہ چنا ابھی تک چھٹکارا میسر نہیں آسکا ۔کشمیر کا سماج جو ایک مثالی سماج کے طور پر اپنی ایک پہچان رکھتا تھا اورجس کی بنیاد پر ہی اس کی انفرادیت کا سیاسی نظریہ بھی قائم تھا تہس نہس ہوکررہ گیا ۔رواداری اور اعتدال کا رویہ شدت پسندانہ مذہبی نظریات اور عقاید کے نیچے کچلا گیا لیکن حیرت انگیز طور پر ان عقاید اورنظریات کے ابھار نے ،اخلاقی روایات کو اور زیادہ مضبوط کرنے کے بجائے تقریباً ختم کرکے ہی رکھ دیا ۔ بے راہ روی ، منشیات کے کاروبار کے بے پناہ فروغ ، رشوت خوری ، لوٹ کھسوٹ ، جنگلوں کا صفایا ، بند ر بانٹ ، چھوٹے بڑے کا پاس و لحاظ جو کشمیری ثقافت کا نمایا ں اور شاندار پہلو تھا بھی ختم ہوکر رہ گیا ۔تین نسلیں نہ بچپن کی بہارمیں جی سکیں اور نہ ہی جوانی کی فطری اٹھان کا احساس بھی کرسکی ۔شعور کا فطری ارتقاء کمیوں اور خامیوں کا شکار ہوا اور تقریباً ہر وجود نفسیاتی عوارض کا شکار ہوا ۔جس حق خود ارادیت کے حصول کیلئے یہ بہت بڑا قدم اٹھایا گیا تھا اس کے تنکے بھی نہ جانے کب کے ہواوں میں اڑگئے ۔اس کا احساس تو بہت پہلے ہی ہوا تھا لیکن جو قدم اٹھا تھا اسے پیچھے ہٹانے کا کوئی راستہ بھی باقی نہیں بچاتھا ،اس لئے عسکریت کا ساتھ نہ چھوڑا گیا یہاں تک کہ وہ سب ہو ا جس کا کسی کو اندازہ بھی نہیں تھا ۔نہ کشمیر کا آئین رہا ، نہ ریاست رہی اور نہ ہی سٹیٹ سبجیکٹ ۔اس سانحے نے سارے عزائم توڑ کر رکھ دئیے اور سارے ارادوں کو دفن کرکے رکھ دیا ۔تیس سال پہلے جو لڑائی حقوق کے حصول کے لئے شروع ہوئی وہ اب اپنے سیاسی ، دینی اور ثقافتی وجود کے تحفظ کی کوشش تک محدود ہوگئی ہے ۔
تیس سال پہلے کی دنیا کچھ اور ہی تھی اور آج کی دنیا کچھ اور ہی ہے ۔ہر بدلے ہوئے وقت کے تقا ضے بھی اور ہی ہوتے ہیں ۔جو قومیں وقت کے ساتھ قدم ملانے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہیں صفحہ ہستی سے مٹ جانا ہی ان کا مقدر ہوتا ہے ۔ انسانی تاریخ کا یہی سبق ہے ۔ زور زبردستیوں سے کسی قوم کا خاتمہ نہیں ہوتا ،اگر ہوتا ہے تو اپنی ہی فاش غلطیوں سے ہوتا ہے اور اگر ہم ایک نظر پیچھے مڑ کر دیکھیں تو ہمیں وہ فاش غلطیا ں صاف نظر آئیں گی جو ہماری بربادی کا باعث بنی ہیں۔ تیس سال پہلے ہمیں اپنی دینی ، سماجی اور ثقافتی قدروں کے لئے بہت بڑا خطرہ نظر آنے لگا تھا ۔اس خدشے کو مقامی اور تاریخی سیاسی قوت نیشنل کانفرنس کے ملک گیر جماعت کانگریس کے ساتھ سیاسی اتحاد نے بہت بڑھاوادیا ۔ کشمیرکی تہذیبی انفرادیت کے متوالوں کو لگا کہ انہیں ہندوستان کے سمندر میں غرق کیا جارہا ہے، جہاں نہ ان کی دینی قدریں باقی رہ سکتی ہیں اور نہ تہذیبی ۔ وہ سیاسی مقام بھی حاصل نہیں رہے گا جس کو پہلے ہی کھوکھلا کرنے کے اقدامات ہوئے تھے اور پھر جب اس اتحاد نے انتخابات میں ریکارڈ توڑ دھاندلیا ں کیں تو یہ یقین نوجوان نسل میں پختہ ہوا ۔ایک زندہ مثال سامنے تھی کہ بندوق سے عالمی سپر پاور تک کو جھکایا جاسکتا ہے ۔ یہ مثال افغانستان کی تھی، جس کے ہاتھوں سوویت یونین شکست فاش سے دوچار ہواتھا حالانکہ یہ جنگ پس پردہ امریکہ نے لڑی تھی اور اسی کے سٹنگر میزائیلوں نے سوویت یونین کی فوج کیلئے افغانستان کی زمین تنگ کردی تھی لیکن دنیا کے سامنے افغان مجاہدین کے کارناموں کی تصویر تھی ۔پاکستان کب سے کشمیر کے اندر گوریلا جنگ شروع کرنے کی خواہش رکھتا تھا چنانچہ سارے حالات عسکری تحریک کیلئے موافق تھے اور انہی موافق حالات نے اس تحریک کو جنم دیا ۔اس کے لئے قومی سطح پر کوئی سوچ بچار نہیں ہوا تھا ۔ کسی رہنما نے اس کا خاکہ تیار نہیں کیا تھا ۔ کسی دانشور نے اس کے تمام پہلووں کا جائزہ لیکر اس کے لئے رہنما خطوط تیار نہیں کئے تھے ۔کوئی معتبر رہنما بھی موجود نہیں تھا۔چند لڑکے سرحد پار گئے ۔ تربیت اور اے کے 47لیکر واپس آئے ۔ صراف کدل میں سی آر پی ایف کی گاڑی پر گولیاں برسائی گئیں جس کے جواب میں کئی شہریوں کو گولیاں مار دی گئیں ۔ اور پھر ایک طوفان برپا ہوا ۔عسکریت کو بے پناہ حمایت حاصل ہوئی اور خود ہندوستان کے رہنماوں کو بھی اعتراف کرنا پڑا کہ کشمیر ہاتھ سے نکل چکا ہے ۔بات چیت کی پیش کش اس وعدے کے ساتھ ہوئی کہ جو مانگا جائے گا دے دیا جائے گا ۔ آسماںکو حد مقرر کردیا گیا لیکن کوئی اختیار اس بندوق کے پاس نہیں تھا جو کشمیر میں سرگرم تھا ۔ تمام فیصلوں کا اختیار ہاتھوں سے چھوٹ چکا تھا ۔سیاست کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیا گیا تھا اور اس کے نام پر حریت کانفرنس کا جو فورم قائم ہوا تھا اس کے پاس فیصلے کرنا تو دور اپنے ذہن سے سوچنے اور بولنے کا بھی اختیار نہیں تھا ۔مختلف الزامات پر لوگوں کو ہلاک کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا ۔اس کے بعد لبریشن فرنٹ جس کے نام پر اس تحریک کا آغاز ہوا تھا اور جو جموں و کشمیر کی خود مختاری کی علمبردار تھی کی جگہ الحاق پاکستان کے نظرئیے کی حامل قوتوں کو کھڑا کردیا گیا ۔ دونوں نظریات کے درمیان مسلح ٹکراو میں بہت ساری جانیں قربان ہوگئیں لیکن سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ مسئلہ کشمیر کی حیثیت بدل کراسے سیاسی مسئلے سے مذہبی مسئلہ بنایا گیا جبکہ اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ سیاسی مسئلے کی حیثیت سے ہی موجود تھا ۔ اس کے بعد اس مسئلے کی عالمی حمایت کافی حد تک متاثر ہوئی ۔کشمیری پنڈتوں کا کشمیر چھوڑ کر جانا بھی بڑے دور رس نتائج کا حامل ثابت ہوا ۔اس کی وضاحت کے لئے کئی جلدوں پر مشتمل کتاب درکار ہوگی ۔ مختصر یہ کہ بھاری غلطیوں نے اس تحریک میں ضعف پیدا کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب دفعہ 370کا خاتمہ ہوا تو ایک بھی آواز اس کی مخالفت یا احتجاج کے لئے زمین پر موجود نہیں تھی ۔رہنماوں اور کارکنوں کی گرفتاریاں تحریکوں میں ایک نئی جان پیدا کرتی ہیں تحریکوں کو دفن نہیں کرتی لیکن کشمیر میں اس کے الٹ ہوا ۔اب سوال یہ ہے کہ عسکری تحریک کا مستقبل کیا ہے اور خود کشمیر کا مستقبل کیا ہے ۔ اس پر آئندہ بات ہوگی ۔قارئین کی آراء کا انتظار رہے گا ۔