پردیپ کمار سکسینہ
حصہ دوم — عدم توازن کی قیمت اور منصوبے کی تکمیل کا جواز
آبی نقل و حمل اور ماہی گیری پر پڑنے والے منفی اثرات
تُلبل منصوبہ معطل ہونے کی وجہ سے اس کے فوری اور واضح نتائج سامنے آئے. منصوبے کی عدم موجودگی میں دریائے جہلم ایک موسمی آبی گزرگاہ ہی رہ گیا ہے. لکڑی کی تجارت، جو کبھی بڑی حد تک آبی گزرگاہوں کے ذریعے منتقل ہوتی تھی، اب سڑکوں پر منتقل ہو چکی ہے، جس سے مال برداری کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور سڑکوں و راستوں کو نقصان پہنچ رہا ہے. مقامی کشتی بان، جو کبھی مال برداری اور مسافر خدمات کے ذریعے اپنی زرعی آمدنی میں اضافہ کرتے تھے، اب یہ ذریعۂ معاش مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔
ماہی گیری کے شعبے پر پڑنے والا نقصان بھی اتنا ہی سنگین ہے. وولر جھیل جنوبی ایشیا کی اہم ترین اندرونِ ملک ماہی گیری کی حامل جھیلوں میں سے ایک ہے، اور اس کی ماحولیاتی صحت براہِ راست پانی کے منظم بہاؤ (آمد و اخراج) سے وابستہ ہے. اس ضابطہ کاری کے بغیر مانسون کے بعد پانی کا اخراج جھیل کو تیزی سے خالی کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں پانی کی گہرائی مچھلیوں کی بہتر پیداوار کے لیے مطلوب سطح سے کہیں کم رہ جاتی ہے. سالانہ مچھلی کی پیداوار 10،500 ٹن سے کم ہو کر بمشکل 1،500 ٹن رہ گئی ہے؛ اسی طرح کمل کی فصل کی پیداوار میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے. بانڈی پورہ اور بارہمولہ اضلاع میں دسیوں ہزار ماہی گیر خاندان اپنے بنیادی ذریعۂ معاش سے محروم ہو چکے ہیں۔ اس نقصان کے اثرات وسیع پیمانے پر پھیلتے ہیں، جس کے نتیجے میں سیاحتی بنیادی ڈھانچے، جیسے لکڑی کے راستے (بورڈ واکس) اور مشاہداتی مقامات کی تعمیر میں مقامی برادری کی سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے، اور شمالی کشمیر میں مجموعی معاشی ترقی بھی تعطل کا شکار ہوگئی ہے۔
سیاحت
اکتوبر سے فروری کے بیچ غیر منظم ونٹر واٹر لیول بہت کم گہرائی تک رہ جاتی ہے، جس کی وجہ سے دریائی نقل و حمل ناقابلِ اعتماد ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں سری نگر اور وولر کے درمیان دریائے جہلم پر قدرتی مناظر سے بھرپور کشتی رانی کے سیاحت کے احیاء کا امکان تقریباً ختم ہو گیا ہے، یہ ایک تاریخی راستہ ہے جس کی قدرتی خوبصورتی یورپ کی مشہور آبی گزرگاہوں کا مقابلہ کرتی ہے. وولر جھیل، جو کبھی کشمیر کی ماحولیاتی سیاحت کا ایک اہم مرکز تھی، پہلے 200 مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلی ہوئی تھی، لیکن آج گاد جمع ہونے، آبی جڑی بوٹیوں کی افزائش اور تجاوزات کے مشترکہ دباؤ کے باعث سکڑ کر تقریباً 80 مربع کلومیٹر رہ گئی ہے۔ ان مسائل کو منظم آبی نظام کے ذریعے کسی حد تک کم کیا جا سکتا تھا. بالائی جہلم کے علاقوں، خصوصاً ویرناگ کے قریب والے حصوں میں دھاری چپو کی سرگرمیاں بھی اسی طرح محدود ہو گئی ہیں. اس راہداری کی معاشی صلاحیت، جس میں پرندوں کا مشاہدہ، ثقافتی و تاریخی کشتی دورے، اور مہماتی کھیل شامل ہیں، بدستور محدود اور غیر مستعمل حالت میں موجود ہے۔
نقصانات کا عدم توازن
اس تعطل کی اصل ناانصافی اس بات میں پوشیدہ ہے کہ اس کی قیمت کون ادا کر رہا ہے. منگلا ڈیم قائم اور اس کے فعال ہونے سے دریائے جہلم کے نظام کے قدرتی آبی اور ماحولیاتی توازن میں تبدیلی واقع ہوئی. وولر جھیل کے نیچے کی جانب دریائے جہلم کے حصے میں پاکستان کا نہ تو آبی نقل و حمل سے متعلق کوئی مفاد واقع ہے، نہ ماہی گیری سے متعلق، اور نہ ہی روزگار سے وابستہ کوئی مفاد؛ اس کے اعتراضات محض نظریاتی اور تزویراتی نوعیت کے ہیں. بھارت کے ٹیکنیکل ایکسپرٹس نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا اور ثابت کیا ہے کہ آبی ذخیرہ انتہائی معمولی نوعیت کا ہے اور یہ منصوبہ مکمل طور پر معاہدے کی مقررہ حدود کے اندر آتا ہے. اس کے باوجود، پاکستان نے اس موقف کو مسترد کر دیا. بھارت کو کمزور بنیادی ڈھانچے اور ضائع ہونے والے مواقع کی صورت میں ایک ایسے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے مکمل طور پر بچا جا سکتا تھا۔
ایسی وادی، جس کے بنیادی معاشی وسائل اس کے قدرتی مناظر، آبی گزرگاہیں اور قدرتی وسائل ہیں، اسے ان اثاثوں کے مؤثر استعمال کے لیے مطلوب بنیادی آبی انتظامی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے. اگر تُلبل منصوبہ مکمل ہوگیا ہوتا تو اس پر آنے والی لاگت اس رقم کا محض ایک معمولی حصہ ہوتی، جو بعد میں قابلِ آمدو رفت آبی گزرگاہوں کے ختم ہونے کے بعد اس کی بھرپائی کے لیے سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے پر خرچ کی گئی. صرف ڈل جھیل کی بحالی پروگرام پر گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ہزاروں کروڑ روپئے خرچ کیے جا چکے ہیں، مگر اس کی کامیابی محدود رہی ہے، جس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ آبی نظام کے وہ بنیادی انتظامی ذرائع، جو بحالی کو دیرپا بنا سکتے تھے، اب بھی دسترس سے باہر ہیں۔
منصوبے کی بحالی کا جواز
تُلبل منصوبے کی معطلی، پاکستان کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے منظم غلط استعمال کی سب سے نمایاں مثال ہے، جس کا مقصد بھارت کے جائز ترقیاتی منصوبے میں رکاوٹ ڈالنا رہا ہے. تقریباً چار دہائیوں سے پاکستان اس غیر حل شدہ معاملے کو ایک سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے، اس نے معاہدے کے تحت لازم مذاکرات میں رکاوٹ ڈالی، اس معاملے کو وسیع تر جموں و کشمیر تنازعہ سے جوڑا، اور یہ یقینی بنایا کہ ایک خشکی میں گھرے ہوئے اور معاشی طور پر پسماندہ خطے کے لیے نہایت اہم بنیادی ڈھانچہ مستقل طور پر تعطل کا شکار رہے۔
گزرتے وقت کے ساتھ اس منصوبے کی تکمیل کا جواز کمزور نہیں ہوا، بلکہ مزید مضبوط ہو گیا ہے. اس منصوبے کی تکمیل سے دریائے جہلم پر سال بھر آبی نقل و حمل بحال ہو جائے گی، زرعی اور باغبانی کی پیداوار کی ترسیل کو نئی زندگی ملے گی، آبی سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا، اور سوپور جیسے سیلاب سے متاثر ہونے والے قصبوں کے لیے مؤثر حد تک سیلابی خطرات میں کمی آئے گی. پانی کے منظم بہاؤ سے نچلے علاقوں میں واقع پن بجلی گھروں کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی مزید مستحکم ہو جائے گی۔
وولر جھیل کے اخراجی مقام پر نیویگیشن منصوبہ ایک معمولی نوعیت کے ڈھانچے کے طور پر اس مقصد سے تیار کیا گیا تھا کہ حقیقی اور قابلِ حل ضروریات پوری کی جا سکے. تُلبل معاملہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کا فیصلہ ایک متوازن اور ضروری اصلاحی اقدام کیوں تھا۔
(مضمون نگار ملک کےسابق کمشنر برائے سندھ طاس امورتھے۔بشکریہ وزارت خارجہ، حکومت ہند)