’’اورآپ کہہ دیں تمہارےرب کی جانب سے یہی حق ہے پھر جو چاہے سو وہ ایمان لائے اور جو چاہے سو وہ کفر کرے۔یقیناً ہم نے ظالموں کے لیے ایسی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی لپیٹیں انہیں گھیرے میں لے چکی ہیں اور اگر وہ پانی مانگیں گے تو انہیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا پانی دیا جائے گا جو چہروں کو بھون ڈالے گا، بڑا ہی بُرا مشروب ہے اور بہت ہی بری آرام گاہ ہے‘‘۔(سورہ۔کہف۔آیت۔29،پارہ۔15)
آیت مذکورہ کی روشنی میںجس زمانے میں ان اللہ پرست نوجوانوں کو آبادیوں سے بھاگ کر پہاڑوں میں پناہ لینی پڑی تھی، اس وقت شہر اِفسُس ایشیائے کوچک میں بت پرستی اور جادوگری کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ وہاں ڈائنا دیوی کا ایک عظیم الشان مندر تھا، جس کی شہرت تمام دنیا میں پھیلی ہوئی تھی اور دور دور سے لوگ اس کی پوجا کے لئے آتے تھے۔ وہاں کے جادو گر، عامل، فال گیر اور تعویذ نوید دنیا بھر میں مشہور تھے۔ شام و فلسطین اور مصر تک ان کا کاروبار چلتا تھا، اور اس کاروبار میں یہودیوں کا بھی اچھا خاصا حصہ تھا جو اپنے فن کو حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے تھے(ملاحظہ ہو، سائیکلو پیڈیا آف ببلیکل لٹریچر) شرک اور اوہام پرستی کے اس ماحول میں اللہ کے ان دیوانوں نے بے باک اور جرأت مندی کے ساتھ کس قدر،کسی پریشانیوں اور مشقتوں کو برداشت کرتے ہوئے،صبر و تحمل کے ساتھ نعرۂ توحید بلند کیا،یہ قابل غور وفکر کرنے کا مقام ہے۔
حق و صداقت کے واضح ہوجانے کے بعد دنیا میں کسی کو ایمان لانے پر زبردستی مجبور نہیں کیا جاسکتا،البتہ جو شخص ایمان نہیں لائے گا، اس کو آخرت میں بے شک ایک خوفناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس سے قبل والی آیات میں اصحاب ِکہف کے جو واقعات بیان ہوئے ہیں،ان میں صاف طور پر بتایا گیا کہ توحید پر ایمان لانے کے بعد اصحاب کہف نے کس طرح عوام و خواص کو دو ٹوک بات کہہ دی کہ ہمارا رب تو بس وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے،اور پھر کس طرح وہ اپنی گمراہ قوم سے کسی قسم کی مصالحت پر آمادہ نہ ہوئےبلکہ انہوں نے پورے عزم کے ساتھ کہا کہ ہم اس کے سوا کسی دوسرے الہ کو نہ پکاریں گے،اگر ہم ایسا کریں تو بڑی بے جا بات کریں گے، اور کس طرح انہوں نے اپنی قوم اور اس کے معبودوں کو چھوڑ کر بغیر کسی سہارے اور بغیر کسی سروسامان کے ایک غار میں جا پڑنا قبول کر لیا، مگر یہ گوارا نہ کیا کہ حق سے بال برابر بھی ہٹ کر اپنی قوم سے مصالحت کر لیتے۔ پھر جب وہ بیدار ہوئے تب بھی انہیں فکر ہوئی تو اس بات کی کہ اگر خدا نخواستہ ہماری قوم ہم کو اپنی ملت کی طرف پھیر لے جانے میں کامیاب ہو گئی ،تو ہم کبھی فلاح نہ پا سکیں گے۔ ان واقعات کا ذکر کرنے کے بعد اب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے،لیکن سنانادراصل مخالفین اسلام کو مقصود ہےکہ ان مشرکین اور منکرین حق سے مصالحت قطعاََخارج از بحث ہے۔جو حق اللہ کی طرف سے آیا ہے،اُسے بے کم و کاست ان کے سامنے پیش کر دو۔مانتے ہیں تو مانیں، نہیں مانتے تو خود برا انجام دیکھیں گے۔ جنہوں نے مان لیا ہے،خواہ وہ کم سن نوجوان ہوں،یا بے مال و زر فقیر،یا غلام اور مزدور،بہرحال وہی قیمتی جواہر ہیں،انہیں کو یہاں عزیز رکھا جائے گااور ان کو چھوڑ کر ان بڑے بڑے سرداروں اور رئیسوں کی کچھ پروا نہ کی جائے گی جو دنیا کی شان و شوکت خواہ کتنی ہی رکھتے ہوں، مگر ہیں اللہ سے غافل اور اپنے نفس کے بندے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام صریح اور واضح انداز میں بیان کر دئے ہیں اور انسان کو بتا دیا ہے کہ اوآمر کو بجا لانے اور نواہی کو ترک کرنے سے میں راضی ہوتا ہوں، مگر انسان کو ان اوامر و نواہی کے بجالانے پر مجبور نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں پر انسان کو اختیار و ارادہ کی آزادی بخشی ہے، ان پر اُسے اجر دینے اور مواخذہ کرنے کا وعدہ بھی فرما رکھا ہے۔ یہ اختیار و ارادہ انسان کا ذاتی نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کا عطاکردہ ہے اور اس کا استعمال اگر انسان، اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کرے تو اس سے رضائے الٰہی عطا ہوتی ہے۔ رضا، اللہ تعالیٰ اور بندے دونوں کی جانب سے ہوتی ہے۔ قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے رضوان کا لفظ مخصوص کیا ہے۔ بندے کے راضی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ حق تعالیٰ سے راضی ہو، دین ِ مبین اسلام سے راضی ہو، اللہ کے اس رسول ؐ سے ر اضی ہو جنہوں نے یہ دین مبین ہم تک پہنچایا اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر دل سے یقین رکھے اور اپنے اوپر آنے والی آزمائشوں اور مصیبتوں کو سکون اور اطمینان سے قبول کرے۔ پس جو شخص اللہ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کرے، اسے اپنا نصب العین بنائے اور اس کی خاطر پیہم کوشش کرے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہے۔
شہادتِ توحید کی درج ذیل شرائط ہیں۔
1۔ نفی و اثبات پر ایمان رکھنا (اللہ تعالیٰ کے سوا ہر شئے کے معبود ہونے کی نفی کر دینا اور صرف اُسی کے معبود ہونے کا اقرار کرنا)شرک صرف قبر نہیں ہوتا،ظالم وجابر حکمراں کاڈر ،نفع ونقصان کی پرواہ ،مال واوالاد کی محبت میں عدل وانصاف پر قائم نہ رہنا،منھ دیکھی بات کرنا،2۔ اللہ تعالیٰ کے ایک ہونے کا اقرار نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت سے کرنا۔3۔ صرف زبان سے اقرار ہی نہیں بلکہ دل سے سچا جاننا۔4۔ ظاہر و باطن کو کلماتِ توحید کا پابند بنا لینا۔5۔ شہادت کو اس طرح قبول کرنا کہ اس کے تمام تقاضے پورے ہو جائیں۔6۔ اس (شہادت) میں مخلص ہونا۔7۔ صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کسی سے محبت اور عداوت رکھنا۔
ابن عباسؓ کی روایت کے مطابق، قریش کے سردار نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کہتے تھے کہ یہ بلال رضی اللہ عنہ اور صہیب رضی اللہ عنہ اور عَمَّار رضی اللہ عنہ اور خَبّاب رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ جیسے غریب لوگ، جو تمہاری صحبت میں بیٹھا کرتے ہیں، ان کے ساتھ ہم نہیں بیٹھ سکتے۔ انہیں ہٹاؤ تو ہم تمہاری مجلس میں آ سکتے ہیں اور معلوم کر سکتے ہیں کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے فرمایا کہ جو لوگ رضائے الٰہی کی خاطر تمہارے گرد جمع ہوئے ہیں اور شب و روز اپنے رب کو یاد کرتے ہیں، ان کی معیت پر اپنے دل کو مطمئن کرو اور ان سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو۔ کیا تم ان مخلص لوگوں کو چھوڑ کر یہ چاہتے ہو کہ دنیوی ٹھاٹھ باٹھ رکھنے والے لوگ تمہارے پاس بیٹھیں؟ اس فقرے میں بھی بظاہر خطاب نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے، مگر سنانا دراصل سرداران قریش اور تمام انسانوں کو مقصود ہے، کہ تمہاری یہ دکھاوے کی شان و شوکت، جس پر تم پھول رہے ہو، اللہ اور اس کے رسول ؐکی نگاہ میں کچھ قدر و قیمت نہیں رکھتی۔ تم سے وہ غریب لوگ زیادہ قیمتی ہیں جن کے دل میں اخلاص ہے اور جو اپنے رب کی یاد سے کبھی غافل نہیں رہتے۔
ایک دن صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی جماعت سے حضور نبی کریم ؐنے بڑا ایمان افروز سوال کیا:’’تمہارے نزدیک کس مخلوق کا ایمان عجیب ترین ہے‘‘؟صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا:’’یا رسول اللہؐ! فرشتوں کا‘‘۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’وہ کیسے ایمان نہ لائیں جبکہ وہ اللہ کی حضوری میں ہوتے ہیں اور ہمہ وقت اُس کی تسبیح و تہلیل میں مشغول رہتے ہیں‘‘۔صحابہ کرام ؓنے عرض کیا:’’یا رسول اللہؐ! انبیاء اکرام کا۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’وہ کیسے ایمان نہیں لائیں گے جبکہ اُن پر وحی اترتی ہے؟‘‘
صحابہ کرام ؓ عرض کیا:’’ پھر ہمارا ایمان عجیب تر ہو گا۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’کیا تم (اب بھی) ایمان نہ لاؤ گے جبکہ تمہارے سامنے ہر وقت میرا سراپا رہتا ہے؟‘‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’میرے نزدیک ساری کائنات میں سب سے عجیب (قابل رشک) ایمان ان لوگوں کا ہے جو تمہارے بعد ہوں گے۔ وہ صرف اوراق پر لکھی ہوئی کتاب دیکھیں گے اور اس پر ایمان لے آئیں گے۔‘‘(مشکوٰۃ المصابیح، باب ثواب ہذہ الامّہ، 584)
آپ ؐ پر بِن دیکھے ایمان لانے والے اور عشق کرنے والے ہر وقت حبیب خدا ؐکے دھیان ہی میں نہیں بلکہ محبوب کی نگاہوں میں رہتے ہیں اور اب نہیں بلکہ جب وہ ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے کہ نبی کریمؐ نے آج سے چودہ سو سال پہلے فرما دیا کہ میرے وہ اُمتی جو بعد میں آئیں گے ان کا ایمان قابل رشک حد تک عجیب تر ہو گا۔
ایمان چار ستونوں پر قائم ہے۔صبر،یقین،عدل اور جہاد۔پھرصبر کی چار شاخیں ہیں،اشتیاق،خوف،دنیا سے بے اعتنائی اور انتظار۔
جو جنت کا مشتاق ہو گا،وہ خواہشوں کو بھلا دے گا اور جو دوزخ سے خوف کھائے گا، وہ محرمات سے کنارہ کشی کرے گا، جو دنیا سے بے اعتنائی اختیار کر ے گا، وہ مصیبتوں کو سہل سمجھے گا ، جسے موت کا انتظار ہو گا،وہ نیک کاموں میں جلدی کرے گا۔ یقین کی بھی چار شاخیں ہیں:روشن نگاہی،حقیقت رسی،عبرت اندوزی اور اگلوں کا طور طریقہ۔چنانچہ جو دانش و آگہی حاصل کرے گا، اس کے سامنے علم و عمل کی راہیں واضح ہو جائیں گی اور جس کے لیے علم وعمل آشکار ہو جائے گاوہ عبرت سے آشنا ہوگا، وہ ایسا ہے جیسے وہ پہلے لوگوں میں موجود رہا ہو ۔ عدل کی بھی چار شاخیں ہیں:تہوں تک پہنچنے والی فکر اور علمی گہرائی اور فیصلہ کی خوبی اور عقل کی پائیداری۔چنانچہ جس نے غور و فکر کیا،وہ علم کی گہرائیوں میں اترا،وہ فیصلہ کے سر چشموں سے سیراب ہوکر پلٹا اور جس نے حلم و بردباری اختیار کی اُس نے اپنے معاملات میں کوئی کمی نہیں کی اور لوگوں میں نیک نام رہ کر زندگی بسر کی ۔
جہاد کی بھی چار شاخیں ہیں:امر بالمعروف,نہی عن المنکر,تمام موقعوں پر راست گفتاری اور بدکرداروں سے نفرت۔چنانچہ جس نے امر بالمعروف کیا،اس نے مومنین کی پشت مضبوط کی اور جس نے نہی عن المنکر کیا ،اُس نے کافروں کو ذلیل کیا ، جس نے تمام موقعوں پر سچ بولا،اُس نے اپنا فرض اداکردیا ، جس نے فاسقوں کو براسمجھا اور اللہ کے لیے غضبناک ہوا، اللہ بھی اس کے لئے دوسروں پر غضبناک ہو گا اور قیامت کے دن اس کی خوشی کا سامان کرے گا۔
کفر بھی چار ستونوں پر قائم ہے:حد سے بڑھی ہوئی کاوش،جھگڑا لُو پن،کج روی اوربے جا اختلاف۔
حرف ِآخر۔اے چند دنوں کی دنیاوی رنگینیوں میں ڈوبے ہوئے غافل انسان! تو اس فانی دنیا کے لئے ،بے جا تعمق و کاوش کرتا ہے،تو کیوں حق کی طرف رجوع نہیں ہوتا اور جہالت کی وجہ سے آئے دن جھگڑے کرتا ہے، حق سے ہمیشہ اندھا رہتا ہے اور جو حق سے منہ موڑ لیتا ہے، اچھائی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھنے لگتا ہے اور گمراہی کے نشہ میں مدہوش پڑا رہتا ہے ۔
سن لے اے غافل! حق کے راستے بہت دشوار اور اس کے معاملات سخت پیچیدہ ہیں ،زندگی کی راہیںمومن کے لئے تنگ ہو جاتی ہیں،
شک کی بھی چار شاخیں ہیں،کٹھ حجتی، خوف، سرگردانی اور باطل کے آگے جبیں سائی۔ چنانچہ جس نے ناحق لڑائی جھگڑ ے کو شیوہ بنالیا,اس کی رات کبھی صبح سے ہمکنار نہیں ہو سکتی اور جس کو فانی چیزوں نے ہوس میں ڈال دیا،وہ بربادہوجاتا ہے ،دنیا کی محبت میںجومبتلا ہوتاہے،وہی شک و شبہہ میں سر گرداں رہتا ہے۔اسے شیاطین اپنے پنجوں سے روند ڈالتے ہیں اور جس نے دنیا و کی چند دنوں کی تباہی وبربادی کے آگے سر تسلیم خم کردی۔وہ آخرت میں تباہ و برباد ہوا۔
رابطہ۔9968012976
�����