توبہ استغفار کرنے کی فضیلت فکرو فہم

مشتاق تعظیم کشمیری
 قرآن کریم میں استغفار کرنے کی ترغیب کثرت سے دی گئی ہے۔ ایک مقام پر فرمایا،’’اللہ سے استغفار کرتے رہو، بے شک اللہ بڑا غفور ورحیم ہے۔‘‘(المزمل)اللہ تعالی استغفار کرنے والوں کی مدح بیان کرتا ہے:’’رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دعائیں مانگا کرتے ہیں۔‘‘ (آل عمران)استغفار بندے اور رب کو ملانے والی صفت ہے اور یہ رب تک رسائی کا کھلا دروازہ ہے۔اعترافِ جرم، ندامت اور استغفار، اپنی کمزوری کا شعور اور اللہ سے استعانت اور رحمت طلب کرنا، اور یہ شعور کہ اللہ کے سوا کوئی قوت کا سرچشمہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی معاونت کر سکتا ہے۔استغفار ایک دائمی عبادت ہے اور یہ گناہگاروںکا سہارا اور عبادت گزاروں کا طریقہ ہے۔مالک الملک کے حضور توبہ کا اس سے بہتر طریقہ کیا ہو گا کہ بندہ اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دے اور اپنے قصوروں اور کوتاہیوں کی مغفرت طلب کر لے۔استغفار محض چند کلمات نہیں بلکہ یہ عاجز بندے کا غفور و رحیم رب سے گہرے تعلق کا راز ہے،جو بندے اللہ سے استغفار کرنے کا تعلق استوار کرتے ہیں، وہ انہیں اپنے مامون بندوں میں شمار کرتا ہے اور انہیں مقہور اور عذاب کا شکار ہونے والے گروہوں میں شامل نہیں کرتا۔اللہ تعالی کا فرمان ہے: استغفار شیطان اور اس کی فوج کے خلاف مومن کا ہتھیار ہے۔اپنی غلطی پر ندامت کے ساتھ استغفار ہماے باپ آدم علیہ السلام کی سنت ہے اور اپنے عمل پر ضد اور اصرار کے ساتھ جم جانا ابلیس اور اس کے ساتھیوں کا طریقہ ہے۔ہر زمانے میں انبیاء ؑ و صالحین اور متقین نے اپنے باپ آدمؑ کی سنت کو اختیار کیا ہے، جبکہ اللہ کے باغی اور نافرمانوں نے شیطان کے طریقے کو اپنایا ہے۔استغفار مومن کی ڈھال بھی ہے اور اس کی امان بھی، روز وشب کی مشغولیات میں مومن کی سب سے بڑی فکر یہ ہے کہ اس سے کوئی ایسا عمل سرزد نہ ہو، جو اللہ کی ناراضی کا سبب بنےاور اس کے نیک اعمال میں ایسی کمی نہ رہ جائے کہ وہ قبولیت کا درجہ نہ پا سکے۔ اسی لئے وہ ہر عمل کے دوران اور اس کے مکمل ہونے پر عفو اور مغفرت اور اللہ سے معافی کا خواستگار ہوتا ہے۔ ایمان لانے کے ساتھ ہی اس کی دعا ہوتی ہے کہ اے ارحم الراحمین میری مغفرت فرما دے۔اللہ کی کائنات کی سیر کرتے ہوئے جب سبحان اللہ کہتا ہے تو بھی مغفرت مانگتا ہے۔ہر نماز کا اختتام اپنی والدین اور تمام مومنوں کی مغفرت مانگنے پر کرتا ہے اور سلام پھیر کر نماز مکمل کرتا ہے، تو سب سے پہلے تین مرتبہ استغفراللہ کہتا ہے۔رمضان المبارک کے آخری عشرے میں استغفار مزید بڑھ جاتا ہے اور حج کی تیاری کے مراحل ہی میں معافی اور استغفار کی دعائیں کسی قیمتی توشے کی مانند اس کے ہمراہ ہوتی ہیں۔کسی مصیبت میں گھر جائے تو دعائے یونس ؑ مانگتاہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ گناہ معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ، سخت سزا دینے والا اور بڑا صاحبِ فضل معبود وہی ایک اللہ ہے۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ کی قسم میں ایک دن میں ستر سے زائد مرتبہ اللہ سے استغفار کرتا اور اس سے توبہ کرتا ہوں‘‘۔ (رواہ البخار ی)اللہ تعالیٰ ہمیں استغفار کرنے والوں میں شامل کر لے۔آمین
رابطہ۔ 70064105720
(نوٹ۔ اس مضمون میں ظاہر کی گئی آراء مضمون نگار کی خالصتاً اپنی ہیں اور انہیں کسی بھی طور کشمیر عظمیٰ سے منسوب نہیں کیاجاناچاہئے۔)