مغربی ایشیا کی حالیہ پیش رفت پردلّی میں بین الوزارتی بریفنگ منعقد،کالابازاری اور ذخیرہ اندوزی سے گریز کی ہدایت
نئی دہلی// مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت کے حوالے سےنیشنل میڈیا سینٹر، نئی دہلی میں ایک بین وزارتی بریفنگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس بریفنگ میں وزارت پٹرولیم و قدرتی گیس، وزارت خارجہ، وزارت بندرگاہیں، جہاز رانی و آبی گزرگاہیں اور وزارت اطلاعات و نشریات کے سینئر افسران نے میڈیا کو موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومتِ ہند کی تیاریوں اور اقدامات سے آگاہ کیا۔بریفنگ میں توانائی کی فراہمی، سمندری سلامتی، بیرون ملک بھارتی شہریوں کی فلاح و بہبود اور حکومتی مواصلاتی اقدامات کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔
توانائی کی فراہمی اور ایندھن کی دستیابی
خام تیل
وزارت پٹرولیم و قدرتی گیس کے افسران نے بتایا کہ بھارت میں خام تیل کی سپلائی محفوظ ہے۔بھارت میں روزانہ تقریباً 55 لاکھ بیرل خام تیل استعمال ہوتا ہے۔ متنوع ذرائع سے خریداری کے باعث اس وقت دستیاب مقدار اتنی ہے کہ جو عام حالات میں آبنائے ہرمز کے ذریعے آتی ہے۔ بھارت اب تقریباً 40 ممالک سے خام تیل درآمد کرتا ہے۔ اس تنوع کے نتیجے میں اب 70 فیصد خام تیل آبنائے ہرمز کے علاوہ راستوں سے آ رہا ہے، جبکہ پہلے یہ تناسب تقریباً 55 فیصدتھا۔مزید دو خام تیل کے کارگو راستے میں ہیں جو آئندہ چند دنوں میں پہنچ جائیں گے۔ ملک بھر کی ریفائنریز بہت زیادہ صلاحیت پر کام کر رہی ہیں، بعض جگہوں پر 100 فیصد سے بھی زیادہ۔
قدرتی گیس
بھارت کی مجموعی قدرتی گیس کھپت تقریباً 189ایم ایم ایس سی ایم ڈی ہے۔ اس میں سے 97.5 ایم ایم ایس سی ایم ڈی ملک میں پیدا ہوتی ہے۔تقریباً 47.4ایم ایم ایس سی ایم ڈی سپلائی فورس میجور حالات کے باعث متاثر ہوئی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے متبادل سپلائرز اور راستوں سے خریداری جاری ہے۔ ایل این جی کے دو کارگو پہلے ہی بھارت کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔حکومت نے 9مارچ 2026 کواشیائے ضروریہ ایکٹ کے تحت نیچرل گیس کنٹرول آرڈر جاری کیا تاکہ گیس کی سپلائی کو ترجیحی شعبوں کے لیے منظم کیا جا سکے۔
سپلائی کی ترجیحات
پی این جی اور گاڑیوں کے لیے سی این جی کیلئے100فیصد ،چائے کی صنعت اور دیگر صنعتی صارفین کیلئےتقریباً 80 فیصد،کھاد کے کارخانوں کیلئےتقریباً 70 فیصداورریفائنریز اور پیٹروکیمیکل یونٹس کیلئے تقریباً 35 فیصد کمی کی گئی ہے۔
ایل پی جی کی صورتحال
بھارت اپنی 60 فیصد ایل پی جی درآمد کرتا ہے۔ ان درآمدات کا تقریباً90فیصد حصہ آبنائے ہرمزکے ذریعے آتا ہے، جو موجودہ صورتحال سے متاثر ہوا ہے۔8مارچ 2026 کو حکومت نے ریفائنریز اور پیٹروکیمیکل کمپلیکسز کو ہدایت دی کہ پروپین، بیوٹین اور دیگر گیسوں کو ایل پی جی پیداوار میں منتقل کر کے پیداوار بڑھائی جائے۔ان اقدامات کے نتیجے میں گھریلو ایل پی جی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔ ملک میں پیدا ہونے والی تمام ایل پی جی کو گھریلو صارفین کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
غیر گھریلو ایل پی جی کی فراہمی میں ترجیح
ہسپتال اور تعلیمی ادارے۔آئی او سی ایل ،ایچ پی سی ایل اور بی پی سی ایل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ریستورانوں، ہوٹلوں اور دیگر تجارتی صارفین کو ایل پی جی کی تقسیم کا جائزہ لے گی۔حکومت نے ایل پی جی میں ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے30,000 کروڑ روپے کی منظوری بھی دی ہے۔حکام کے مطابق کچھ علاقوں میں گھبراہٹ کے باعث زیادہ بکنگ اور ذخیرہ اندوزی دیکھی گئی ہے، تاہم عام ترسیلی وقت اب بھی تقریباً 2.5دن ہے۔ صارفین کو غیر ضروری بکنگ سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
دیگر اقدامات
ڈیلوری آتھنٹکیشن کوڈنظام کو90 فیصد صارفین تک پھیلایا جا رہا ہے۔ سلنڈر بکنگ کے درمیان وقفہ 21 دن سے بڑھا کر 25 دن کیا گیا ہے۔
سمندری سلامتی اور جہاز رانی
بندرگاہوں، جہاز رانی و آبی گزرگاہوں کی وزارت نے بتایاکہ اس وقت 28 بھارتی پرچم بردار جہاز خلیج فارس میں موجود ہیں۔ ان میں سے24جہاز آبنائے ہرمز کے مغرب میں (677 بھارتی ملاح)،4 جہاز مشرق میں (101 بھارتی ملاح)ہیں۔ان کی سلامتی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔28فروری 2026 سے وزارت اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ میں 24 گھنٹے کنٹرول روم قائم ہے۔ جہازوں کو اضافی سکیورٹی اقدامات اپنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ بھارتی سفارت خانوں اور مقامی حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔ملک بھر میں بندرگاہی سرگرمیاں مستحکم ہیں اوربرآمدات و درآمدات کے تسلسل کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
بھارتی شہریوں کی سلامتی
وزارت خارجہ کے مطابق خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ بھارتی باشندے مقیم ہیں۔ ان کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔بھارت کے وزیر اعظم نے کئی ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت کی جن میں متحدہ عرب امارات، قطر، سعودی عرب، عمان، بحرین، کویت،اردن اور اسرائیل شامل ہیں۔بھارتی سفارت خانے مسلسل مشورے جاری کر رہے ہیں۔ کمیونٹی کے ساتھ براہ راست رابطہ برقرار ہے۔ مسقط، ریاض اور جدہ سے پھنسے ہوئے بھارتی شہریوں کو واپسی میں مدد دی گئی۔تجارتی جہازوں پر حملوں میں دو بھارتی شہری ہلاک اورایک لاپتہ ہے۔ زخمی بھارتی شہریوں کا علاج جاری ہے۔اس وقت تقریباً 9,000 بھارتی شہری ایران میں موجود ہیں۔طلبہ اور زائرین کو تہران سے محفوظ شہروں میں منتقل کیا گیا ہے۔ آرمینیا اور آذربائیجان کی سرحد کے ذریعے واپسی کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
ضروری اشیاء کی فراہمی اور عوامی معلومات
وزارت اطلاعات و نشریات نے بتایاکہ مرکزی ہوم سیکریٹری نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سیکریٹریز اور ڈی جی پیز کے ساتھ اجلاس کیا۔ ریاستوں کو ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی گئی۔ ہر ریاست کو ایک سرکاری ترجمان مقرر کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ درست معلومات سرکاری سوشل میڈیا، ضلعی انتظامیہ اور میڈیا کے ذریعے جاری کی جائیں گی۔
نتیجہ
بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ حکومتِ ہند مغربی ایشیا کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ وزارتوں کے درمیان قریبی رابطہ قائم ہے۔حکومت توانائی کی سلامتی، سمندری تجارت کے تحفظ، بیرون ملک بھارتی شہریوں کی حفاظت اور ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔