دور چاہے جدید ہو یا قدیم ‘ تعلیم ہر دور میں ایک ایسا زیور ہے جو کسی مخصوص خیال یا نظریے کامحتاج نہیں ۔البتہ اتنا کہا جا سکتا ہے کہ جدید دور نے تعلیم کی اہمیت کو فرش سے اٹھا کر عرش پر پہنچا دیا ‘مگر جہاں جدید دو رمیں تعلیم نے ایک اعلٰی مقا پایا تو وہیں دوسری طرف سماج میں کچھ ایسے فرد بھی ہیں جو تعلیم کے صحیح مقصد تک نہیں پہنچتے ہیں ۔بہت سارے افراد ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ تعلیم کا مطلب صرف امتحان پاس کرنا یا امتحان میں اول آنا ہے لیکن یہ بات بالکل بھی صحیح نہیں ہے۔اگر ہم تعلیم کو صحیح معنوں میں دیکھیں تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تعلیم ہر اُس جان کاری کو کہتے ہیں جو ہمیں زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے یا زندگی کے مسائل سلجھانے کے لیے درکار ہو تی ہے ۔دراصل تعلیم کسی مدرسے یا کسی مخصوص عمر کی محتاج نہیں بلکہ یہ زندگی سے لے کر موت تک کا ایک حسین تحفہ ہے جو کسی سے چھینا تو نہیں جا سکتا ،مگر اسے دیا ضرور جا سکتا ہے ۔اگر جدید دور کی بات کی جائیں تو ہمارے نوجوان جو کہ قوم کا مستقبل ہیں اس تعلیم کو ایک الگ ہی انداز میں لے کر بیٹھے ہیں ۔وہ صرف یہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم کا مطلب پڑھنا یا زندگی میں کچھ حاصل کرنا ہوتا ہے جو کہ کسی حد تک صحیح بھی ہے مگر تعلیم میں ادب کی بھی اہمیت مسلم ہے جس سے ہمارے نوجوان بالکل انجان ہے ۔ایسے نوجوان استاد کو ایک پڑھانے والا ’’روبوٹ ‘‘سمجھتے ہیں جو کہ صرف پڑھا سکتا ہے مگر کسی عزت کا تقاضا نہیں کر سکتا جو کہ بالکل احمقانہ فعل ہے۔قدیم دور کی اگر بات کی جائے تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ قدیم دور میں تعلیم کو وہ مقام حاصل نہیں تھا جو آگے چل کر اسے جدید دورر میں نصیب ہوگیا لیکن اگرچہ ادب کے اعتبار سے دیکھا جائے تو قدیم دور ادب کے معاملے میں قدیم ہو کر بھی جدید کہلانے کا مستحق ہے۔میں یہ ہرگز نہیں کہتا کہ آج کل کے نوجوانوں میں ذرا بھی تمیز نہیں بلکہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کہی نہ کہی انہیں اپنے آپ میں سدھار لانا ضرور ہے ،انہیں اس بات کا بھی علم ہونا ضروری ہے کہ تعلیم سے آگے بھی ایک چیز ہے جسے’’ادب ‘‘کہتے ہیں۔
استاد کو قوم کا معمار کہا اور روحانی والدین کا درجہ دیا جاتاہے۔ استاد کا پیشہ ایسا ہے جس کا تعلق پیغمبری سے ہے۔ اس پیشے کا مقصد ہی انسان سازی ہے جو ایک ایسی صنعت کا درجہ رکھتا ہے جس پر تمام صفات کا ہی نہیں بلکہ ساری زندگی کا دارومدار ہے۔ معلمین کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں ، اساتذہ کی اہمیت اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب نے اللہ کے حقوق کے ساتھ والدین اور استاد کے حقوق و احترام ادا کرنے کی تلقین کی ہے۔ ایک بچہ کی تربیت میں جو حصہ ماں ادا کرتی ہے ، وہی بعد میں ایک استاد نبھاتاہے۔ استاد صرف نصاب تعلیم نہیں پڑھاتا وہ شخصیت سازی کاکام بھی کرتاہے۔ تعلیم کے ساتھ تربیت (Training) بھی دیتاہے۔ آج کا بچہ کل کا مثالی شہری بنے گا۔ اسے پہلا سبق اپنے اساتذہ سے ہی لینا پڑتاہے اور ان کی نگرانی میں ہی بچہ جوانی کی سیڑھی پر قدم رکھتاہے۔ اُسے اپنے اساتذہ سے صرف نصابی علم نہیں ملتا بلکہ اخلاق، تہذیب اور ثقافت کابھی درس ملتاہے۔لیکن ہمارے معاشرے میں استاد کے بارے میں عموماً غیر سنجیدہ قسم کی رائے رکھی جاتی ہے اور انہیں وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ حق دار ہیں۔ قومیں جب بھی عروج حاصل کرتی ہیں تو اپنے اساتذہ کی تکریم کی بدولت ہی حاصل کرتی ہیں۔کسی قوم پر زوال آنے کی سب سے بڑی وجہ بھی اساتذہ کی تکریم چھوڑ دینا ہے۔اساتذہ کی عظمت کے بارے میں دنیا بھر کی زبانوں میں بے شمار اقوال موجود ہیں اور مہذب معاشروں میں انہیں قدر و منزلت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ ترقی کی منزلیں تعلیم سے جڑی ہیں اور کون ہے جو تعلیم میں اساتذہ کے کردار سے انکار کرے۔
طلبا کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ وہ اساتذہ سے فیض حاصل کرتے ہیں ، اساتذہ ان کی ذہنی پرورش کرتے ہیں، وہ ان کے محسن ہیں اور شرافت کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنے محسن کے سامنے انسان کی نگاہیں جھکتی رہیں۔ دوسری طرف استاد کا یہ سمجھنا کہ ان معین گھنٹوں کے بعد شاگرد کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ میرے دروازے پر دستک دے، صریحاً غیر اخلاقی ہے۔ شاگرد ان کی معنوی اولا دہیں۔ وہ اپنی طالب علمانہ زندگی ہی میں نہیں بلکہ عمر بھر یہ حق رکھتاہے کہ جب بھی اسے کوئی الجھن پیش آئے تو وہ استاد کے دروازے پر دستک دے اور اس کا مشورہ چاہے۔ استاد اور شاگرد کے رشتے کی یہ ایک بنیادی کڑی ہے۔ مگر یہ جاننا چاہئے کہ شفقت و تعظیم لازم وملزوم ہیں۔ کبھی تعظیم سے شفقت پیدا ہوتی ہے اور کبھی تعظیم شفقت کو جنم دیتی ہے۔ شفقت و محبت وہ چیز ہے کہ اس سے برف کے سلوں اور پتھر کی چٹانوں کو پگھلتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ خلوص ومحبت ہمیشہ دلوں کو فتح کرتے ہیں اور جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتح ِ زمانہ۔ استاد وشاگرد کے رشتوں کی تمام پیچیدگیاں شفقت و تعظیم کے آزمودہ نسخے سے ہی دور ہوسکتی ہیں۔استاد کی حیثیت بقول کسے ایک روحانی باپ کی ہے ؎
سنگ بے قیمت تراشا اور جوہر کردیا
شمع علم و آگہی سے دل منور کر دیا
خاکہ تصویر تھا میں خالی از رنگ حیات
یوں سجایا آپ نے مجھ کو قیصر کر دیا
استاد اس کائنات کا سب سے عظیم شخص، اس روئے زمین کی سب سے بلند ہستی اور ہماری زندگی کا سب سے اہم جز ہے۔ اس دنیا میں جتنے بھی لوگ خوبصورت طریقے سے اپنی ذمہ داری نبھا رہے ہیں، وہ صرف ایک استاد کی تربیت کا ہی نتیجہ ہے۔ والدین بچے کو جنم دیتے ہیں، پرورش کرتے ہیں مگر اس کے کردار اس کی ذات کی تعمیر میں استاد ہی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انسان کو اس کی ذات سے آگہی ایک استاد ہی کراتا ہے۔ خدا کی ذات کا انکشاف بھی استاد ہی کراتا ہے۔ ایک بہترین استاد وہی ہوتا ہے جو صرف کتابوں کا علم ہی نہیں دیتا ہے بلکہ کردار سازی، شخصیت سازی بھی اسی کی ذمے داری ہے۔ کسی نے سکندر اعظم سے پوچھا کہ ’’وہ اپنے استاد کی کیوں اتنی عزت کرتا ہے؟ سکندر نے جواب دیا:’’اس کے والدین اسے آسمانوں سے زمین پر لائے ہیں، جبکہ استاد اس کو زمین سے آسمان کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے‘‘۔
یہاں پر مجھے نوشیرواں ،جو کہ ایران کا بادشاہ رہ چکا ہے،کا ایک قصہ یاد آتا ہے۔ ایک دن وہ اپنے بچے سے ملنے اس کے اسکول جا پہنچا۔وہاں انہوںنے استاد کو منہ دھوتے ہوئے دیکھا اور اپنے بیٹے کو لوٹے سے پانی ڈالتے دیکھا،اسے بہت رنج ہوا اور اس نے اپنے بیٹے کے منہ پر تھپڑ رسید کر دی ۔استاد یہ منظر دیکھ کر دم بخود ہوگیا کہ شاید میری کسی حماقت سے بادشاہ ناراض ہو گیا لیکن جب بادشاہ نے سچائی کا اعتراف کیا اور اپنے بیٹے سے کہا کہ تم نے اپنے ا ستاد کے پیر کیوں نہیں دھوئے تب استاد بھی حیران ہوگیا ۔یہ تھے وہ لوگ جنہوں نے تاریخ رقم کی اور واقعی یہ لوگ داد اور تعریف کے لائق تھے تاہم مقام افسوس ہے کہ یوں تو جدید تعلیمی دور چل رہا ہے لیکن آج اساتذہ کی قدر و منزلت میں بے حد کمی ہے۔ انھیں وہ مقام نہیں دیا جا رہا ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ کاش آج کے طالب علم صرف ڈگریوں کو اہمیت دینے کے علاوہ صحیح معنوں میں تعلیم کا مقصد حاصل کرنے کی جستجو کریں۔
(مضمون نگار کنٹریکچوَل لیکچرر گورنمنٹ ماڈل ہائیر سیکنڈری سکول چندوسہ بارہ مولہ ہیں اور ان سے فون نمبر9469447331پر رابطہ کیاجاسکتا ہے)