عظمیٰ نیوزسروس
سرنکوٹ// اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’ان علاقوں میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بنیادی ڈھانچے اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی شدید کمی ہے، جس کے باعث عوام کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’قابل اور مستند ڈاکٹروں اور اساتذہ کی تقرری کی جائے اور انہیں ایک مقررہ مدت تک ان دور افتادہ علاقوں میں خدمات انجام دینے کا پابند بنایا جائے تاکہ وہ سرکاری ملازمت حاصل کرتے ہی ان علاقوں کو نہ چھوڑ دیں۔‘‘اپنی پارٹی سربراہ کا کہنا تھات کہ ’’اس مقصد کے حصول کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی اور پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں‘‘۔سید محمد الطاف بخاری، جو پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام حسن میر اور دیگر سینئر ساتھیوں کے ہمراہ پیرپنچال خطے کے عوامی رابطہ دورے پر ہیں، پونچھ کے سرنکوٹ میں واقع ڈاک بنگلے میں پارٹی کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کو وہ حفاظتی بنکر فراہم نہیں کیے گئے جن کا وعدہ مرکزی حکومت نے کیا تھا۔انہوں نے کہا، ’’ہم نے گزشتہ سال دیکھا کہ سرحدی علاقوں کے لوگ کس قدر غیر محفوظ ہیں، کیونکہ وہ سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری اور فائرنگ کا نشانہ بنتے ہیں۔ مرکزی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ جہاں بھی ضرورت ہوگی وہاں اجتماعی اور انفرادی بنکر بروقت تعمیر کیے جائیں گے، لیکن افسوس کہ یہ وعدہ ابھی تک پورا نہیں کیا گیا۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’میں مرکزی حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے عوام کو مزید کسی تاخیر کے بغیر یہ بنکر فراہم کیے جائیں۔‘‘سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ ’’جموں و کشمیر 1947میں بھارت کا اٹوٹ حصہ بنا اور تب سے یہ ملک کا مستقل حصہ ہے، جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اپنی پارٹی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جدوجہد کرے گی کہ نئی دہلی جموں و کشمیر کے عوام کے تمام آئینی حقوق بحال کرے اور ان کے اہم مسائل اور شکایات کا مؤثر حل نکالے۔‘‘انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو جو کچھ ہوا، وہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور ایک بڑا ناانصافی پر مبنی اقدام تھا۔انہوں نے کہا کہ ’’نئی دہلی اور جموں و کشمیر کے عوام کے درمیان اعتماد کے موجودہ فقدان کو دور کرنے کے لیے تعمیری روابط اور بامعنی مذاکرات کی اشد ضرورت ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’اپنی پارٹی اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی کہ ماضی میں بعض سیاست دانوں کی جانب سے گمراہ کیے گئے نوجوان، جو تشدد اور تباہی کی راہ پر چل پڑے تھے، ان کی بازآبادکاری کی جائے تاکہ وہ عزت و وقار کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔‘‘اس موقع پر غلام حسن میر نے کہا کہ انہیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ حکومت جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا، ’’اپنی پارٹی کا منشور اور پالیسیاں عوام، بالخصوص نوجوانوں کو امن، خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ہیں تاکہ آئندہ نہ مزید جانیں ضائع ہوں، نہ گرفتاریاں ہوں اور نہ ہی تباہی، بلکہ لوگ پُرامن اور باوقار زندگی گزار سکیں۔‘‘اس موقع پر پارٹی کے صوبائی صدر منجیت سنگھ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی پارٹی کا ساتھ دیں اور اسے مزید مضبوط بنائیں تاکہ وہ اپنے عوام دوست ایجنڈے اور پالیسیوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کر سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔