تعلیمی اداروں میں بنیادی ڈھانچے کا فقدان

ڈوڈہ // ضلع ڈوڈہ کی سرکردہ سماجی کارکن دیپادیوی نے ضلع دوڈہ کے اندر الہ ، زیلو، کانڈوت، بٹونہ ،شروت کے تعلیمی اداروں میں جہاں پڑھانے والے اساتذہ کی کمی پر انتظامیہ کوہد ف تنقید بنایا ہے وہیں دوسری جانب سے ان دور افتادہ سکولوں میں بنیادی ڈھانچے کی عدم دستیابی پر تشویش کااظہار کیاہے جن سکولوں میں میز، کرسیاں، ڈیسک، الماری،ٹاٹ ودیگر لوازمات کی شدید قلت ہے ۔انہوں نے انتظامیہ کے ساتھ ساتھ متعلق محکمہ تعلیم کو بھی تنقید کانشانہ بنایا ۔دیپا دیوی نے ان سکولوں میں طالب علموں کو وظیفہ سے محروم رکھنے پر تشویش کا اظہار کیاہے ۔ ان کا مانناہے کہ ابتدائی طورپر بچوں کو 5وزار روپیہ فی کس کے حساب سے وظیفہ دیا گیاتھا لیکن جب غریب بچوں کو وظیفہ دینے کی باری آئی تو ان کو صرف 3ہزار روپیہ دینے کا عندیہ دیاہے۔ متعلقہ محکمہ تعلیم کے حکام نے اس طرح سے بچوں کے درمیان امتیاز سلوک روا رکھنے کا الزام عائد کیا ہے ۔انہوںنے اسکولوں میں بنیادی ڈھانچے کی کمی کو پوری طور دور کرنے کے ساتھ ساتھ غریب ونادار بچوں کو وظیفے  بلا تاخیر واگذار کرنے کی سرکار سے مطالقہ کیاہے تاکہ ان بچوں کو مشکلات سے دور چار نہ ہونا پڑے۔