محمد بشارت
کوٹرنکہ // ضلع راجوری کے بلاک بدھل کی گرام پنچایت حلقہ لوئر کیول، سیاری، چھپرولہ، پھگولی اور ملحقہ علاقوں کے سینکڑوں باشندگان نے بدھ کے روز ترن کیول سے راجوری کی جانب ایک احتجاجی مارچ نکالا۔ یہ احتجاج ترن کیول تا پھگولی سڑک کی عدم تکمیل اور گرام پنچایت کیول لوئر میں جل جیون مشن (جے جے ایم) اسکیم کے نامکمل کاموں کے خلاف کیا گیا۔ مظاہرین نے حکومت اور متعلقہ محکموں کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔احتجاج کی قیادت سابق سرپنچ کیول لوئر نے کی۔انہوں نے کہا کہ ترن سے پھگولی تک سڑک کی تعمیر کا کام سال 2004 میں شروع کیا گیا تھا، مگر دو دہائیاں گزرنے کے باوجود آج تک سڑک کو مکمل طور پر موٹر ایبل نہیں بنایا جا سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اہم رابطہ سڑک کی خستہ حالی کی وجہ سے ہزاروں کی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے، جبکہ طلبہ، مریض، بزرگ شہری اور روزانہ سفر کرنے والے افراد کو سب سے زیادہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سڑک کا پورا علاقہ ابتدائی مقام ترن سے لے کر پھگولی تک ضلع راجوری کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، تاہم تقریباً دو کلومیٹر کے بعد ارتھ ورک کا کام پی ڈبلیو ڈی ریاسی کی جانب سے کیا گیا تھا۔ اسی وجہ سے اب نہ راجوری انتظامیہ اور نہ ہی ریاسی انتظامیہ اس اہم سڑک کی تکمیل کی ذمہ داری قبول کر رہی ہے۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ متعلقہ حکام کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے عوام گزشتہ کئی برسوں سے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔مظاہرین نے جل جیون مشن اسکیم پر بھی سخت ناراضگی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ گرام پنچایت کیول لوئر میں جے جے ایم اسکیم کے تحت پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے کام شروع کیا گیا تھا، مگر آج تک یہ منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی علاقوں میں پائپ لائن بچھانے کے باوجود پانی کی سپلائی بحال نہیں کی گئی، جس کے باعث عوام کو شدید قلت آب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔احتجاجی مارچ کے دوران ڈی ایس پی بدھل نیرج بدیال، سب انسپکٹر راہول شرما اور سب انسپکٹر رویندر سنگھ پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور مظاہرین کو ترن کے مقام پر روک دیا۔ اس دوران مشتعل مظاہرین نے کئی گھنٹوں تک بدھل۔راجوری شاہراہ کو بند رکھا، جس کے نتیجے میں دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ مظاہرین نے اپنے دیرینہ مطالبات کے حق میں شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے حکومت کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا۔بعد ازاں نائب تحصیلدار بدھل ظفر چوہدری، اے ای ای پی ایم جی ایس وائی الطاف چوہدری، اے ای ای پی ایچ ای اشفاق احمد اور جے ای پی ایچ ای عبد الرحمن موقع پر پہنچے اور احتجاجیوں کے ساتھ بات چیت کی۔ افسران نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ عوام کے تمام جائز مطالبات اور شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور ماہ کے اختتام سے قبل ضروری اقدامات مکمل کر لیے جائیں گے۔اس موقع پر اے ای ای پی ایچ ای اشفاق احمد نے کہا کہ ترن، بیجی اور جوری علاقوں میں پینے کے پانی کی سپلائی آئندہ دو دن کے اندر بحال کر دی جائے گی۔ تاہم مظاہرین نے واضح کیا کہ اگر مقررہ وقت کے اندر سڑک کی تعمیر اور جے جے ایم اسکیم کے مسائل حل نہ کیے گئے تو عوام مزید شدید احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔