ترنم ریاض۔۔۔ افسانہ ’ ’یمبرزل ‘‘ کے آئینے میں

ترنم ریاض ریاست کی ایک واحدفکشن نگار خاتون ہیں جنہوں نے اپنے فن کی بنا پر ریاست سے باہر یعنی بین الاقوامی سطح پر اپنا لوہا منوالیا ۔برقی میڈیا سے وابستہ ہونے کے باوجود انہوں نے اردو ادب کو خاص طور پر فکشن کو اپنی نگارشات کی بدولت ایک جہت عطا کی اورریاست کے جن فنکاروں کو اردو ادب میں ایک پہچان ہے ان میں ترنم ریاض کا نام بھی شامل ہیں ۔انہوں نے اپنی تخلیقی کائنات سے قارئین کو اپنی طرف متوجہ کیا اور جلد ہی اردو کے ممتاز افسانہ اور ناول نگاروں میں شمار ہونے لگی ۔اب تک ان کے چار افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں جن میں یہ تنگ زمین ، ابابیلیں لوٹ آئیں گے، یمبرزل ،اور آخری مجموعہ جو ۲۰۰۸ء میں شایع ہوچکا ہے ’’میرا رخت سفر ‘‘ ہے ۔ترنم ریاض کا کینواس موضوع کے لحاظ سے ریاست کے باقی قلمکاروں سے قدرے مختلف ہیں انہوں نے ریاست کے مقامی موضوعات کے ساتھ ساتھ برصغیر میں آئے روز حالات و واقعات کو اپنے افسانوں کی زینت بنانے کی عمیق کوشش کی ہے ۔ریاست کے تعلق سے ان کا بہترین افسانہ ’’ یمبرزل ‘‘ افسانوی مجموعہ ’’میرا رخت سفر ‘‘ ۲۰۰۸ء میں شامل ہیں ۔حالانکہ افسانہ کافی طوالت پر مبنی ہے لیکن انہوں نے اسے ایک بہترین ڈکشن اور اسلوب کے تحت بوریت سے بچائے رکھا اور قاری کے تسلسل کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا جو اس افسانے کی سب سے عمدہ خصوصیت ہے ۔افسانہ ۳۴ صفحات پر شامل ہے۔ نکی باجی ، یوسف اور یاور اس افسانے کے بنیادی کردار یعنی Main Character   کے طور پر سامنے آجاتے ہیں ۔افسانے کا موضوع ’’یمبرزل ‘‘ اپنے آپ میں ایک علامت ایک استعارہ ہے ۔لفظ یمبرزل اصل میں کشمیری لفظ ہے جسے اردو میں ’’نرگس ‘‘کے مترادف ٹھہراتے ہیں ۔’’نرگس ‘‘ قبرستان کی زینت ہے جسے مرنے والے کی روح کو آرام پہنچتا ہے یہاں پر ’’ نرگس ‘‘ کے معنی کثیر المعنویت میں لیا جاسکتا ہے ’’نرگس ‘‘ خوشی اور غم کی علامت ہے ، ’’نرگس ‘‘ معصوموں کا استعارہ ہے ، ’’نرگس ‘‘ ماتم اور موت کی علامت ہے یعنی یہاں پر ہم اسے کسی مخصوص معنی یا مفہوم میں قید نہیں کر سکتے ہیں ۔
’’یمبرزل ‘‘ افسانے کا محو و مرکز کشمیر ہے یہاں کے سیاسی ، سماجی ،معاشی اور اقتصادی حالات و واقعات کا برملا اظہار پہلی ہی قراء ت میں سامنے آجاتی ہے ۔بظاہر کہانی تین بچوں کے اردو گرد یعنی ان کے اسکول زندگی کی اردو گرد رقصاں ہیں لیکن اس کے پس پشت میں ایک تاریخ رقم کی گئی ہیں ۔ترنم ریاض نے کشمیر کے دورِعطیق کے سیاسی پس منظر کو نہایت ہی عمیق انداز میں پیش کیا ہے ۔افسانے کی قرات سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ مصنفہ کو کشمیر ہسٹری پر گہری نظر ہے ۔انہوں نے یہاں کے سیاسی اروار کو اس واضح اور پر کیف پیرائے میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ قاری کے سامنے کشمیر پولیٹکس کا نقشہ ذہن میں گونجنے لگتا ہے :’’اس خطے کے ساتھ سولہویں صدی سے ہی یہ سلسلہ ہوگیا تھا ۔چندر گپت موریہ اور پھر اشوک کے مہان ہندوستان کو افغانستان اور نیپال کی آخری سرحدوں تک وسیع کرنے والی عظیم الشان سلطنت ِمغلیہ کے شہنشاہوں نے بھی ایسا ہی کیا ، جس شاعرہ معروف و مقبول اور ہر دل عزیز ملکئہ کشمیر زُون ، یعنی چودھویں کا چاند ملقب حبہ خاتون کے شوہر بادشاہ یوسف شاہِ چک کو اکبر اعظم نے دھوکے سے قید کرلیا تھا ۔شاہ غریب الوطنی میں اپنی ملکہ سے دور انتقال کر گیا ۔وطن کی مٹی بھی اسے نصیب نہیں ہوئی ۔۔اور ملکہ روتے روتے دیوانی ہوگئی ۔۔۔پھر افغان سے افغان آئے ۔۔۔کشمیر ی ۔۔۔محکوم ہی رہے ۔۔صدیوں سے ۔۔اب کہیں آدھی صدی بھر پہلے جمہوریت آئی ۔۔تو ۔۔کچھ سکون کے بعد پھر یہ بے سکون شب وروز ۔کیوں ۔کیوں ہورہا ہے یہ سب ۔ کیوں ۔۔‘‘ص ۲۶۶۔۲۶۷
اس اقتباس سے صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ مصنفہ نے کشمیر بلیغ انداز میں کشمیر کے سیاسی ادوار کی عکاسی کی ہے اور کس طرح سے مختلف ممالک سے آئے ہوئے حکمرانوں نے یہاں کی معصوم اور مظلوم قو م کو استحصال کیا اور عصر حاضر میں بھی یہ اس قوم پر مظالم پر مظالم برسائے جارہے ہیں اور یہ بیچاری اف تک بھی نہیں کرپا رہی ہے ۔یعنی روایت میں جس نوعیت کی سیاست یہاں جلوہ گر تھیں آج تک اسی کی بازگشت ہورہی ہے یعنی ٖصرف چنگیز بدل گئے قوائد وہی ہیں ۔افسانے میں افسانہ نگار نے یہاں کے موجودہ منظر نامے کو پیش کیا ہے حالانکہ کہیں کہیں انہوں نے اس حسین وادی کے آبشاروں، لالہ زاروں ،ندی نالوں ،پہاڑوں ،عمارتوں ،یہاں کے کلچر سے وابستہ نادر چیزوں کو ایک نئے اور دلکش پیرائے اظہار کے ساتھ پیش کیا ہے لیکن عصر حاضر کی بدلتی رخ کا منظر نامہ غالب موضوع بن جاتا ہے ۔حالانکہ قاری پہلے صفحات پڑھنے کے بعد ایک الگ موضوع کی سیر کو نکلنے کی کوشش کرتا ہے لیکن تھوڑی دیر بعد اس کا ذہن نئے معنی اخذ کرنے کے لیے مجبو ر ہوجاتا ہے یہ بھی اس افسانے کی کامیابی کی پہچان ہے ۔یہاں کے تعلیی نظام پر بھی اس افسانے میں طنز کے تیر برسائے گئے ہیں کہ کس طر ح سے یہاں کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے جس میں سب سے زیادہ نقصان تعلیمی نظام کو اُٹھانا پڑتا ہے :’’کرفیو لگا رہا تو کہیں ہمارے Exams اب Postponeہی نہ ہو جائیں ‘‘۔
اس میں ایک ٹرم ’’کرفیو ‘‘ کا استعمال ہوا ہے جس کی ہمارے یہاں اپنی ایک معنویت ہے ۔یعنی اب بچوں کی نفسیات اب پر بھی اس ٹرم کا گہرا اثر ہوچکا ہے اور اب انہیں اس بات کا علم بخوبی ہے کہ ہڈتال ، کرفیو ، اور کشمیر بند کیا بلا ہیں ۔اس وجہ سے ہمارے تعلیمی نظام پر کس نوعیت کا اثر پڑھ چکا ہے اور افسانہ نگار لوگوں کو باور کرانا چاہتا ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام دن بہ دن خراب ہوتا جارہا ہے اور کرفیو کا دوسرا رخ : ’’ڈرائیور آگیا ۔بازار ہو آئیںذرا۔۔ابھی تین گھنٹے کرفیو نہیں لگے گا ۔‘‘۲۵۶ص اس اقتباس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہاں کے مکین کن حالات سے گزر رہے ہیں ۔کرفیو کے سخت نظام میں لو گ کس طرح سے اپنی ضروریات پورا کرتے ہیں اس کا اندازہ مندرجہ بالا اقتباس سے بخوبی ہوجاتا ہے ۔اس افسانے میں ایک اہم مسلے کو اجاگر کیا گیا ہے کہ کس طرح سے یہاں کے طلاب ان حالات میں امتحانات میں حصہ لیتے ہیں ان کے ذہنوں میں ایک عجیب و غریب ذہنی تناو ہمیشہ رقصاں رہتا ہے اور اس سب کے با وجود یہ بچے ہر امتحان میں حصہ بھی لیتے ہیں اور کامیاب بھی ہوجاتے ہیں ۔سلمان اطہر جاوید افسانہ ’’یمبرزل ‘‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں : ’’ترنم ریاض نے اپنے ارد گرد کے حالات کی نہایت عمدہ عکاسی کی ہے ۔اس خصوص میں افسانہ ’’یمبرزل ‘‘ غیر معمولی ہے ۔دہشت گردی اور موت کی آہٹوں کے پس منظر میں ۔امتحانات ۔بچوں کے امتحانات کے لیے تیاری ۔رشتے ناطے ،امتحانات کے نتایج ،مزید تعلیم کے منصابے ،ترنم ریاض نے اس افسانے میں غیر معمولی فن کاری کا مظاہرہ کیا ہے ۔ترنم ریاض کے افسانے ، افسانے نہیں لگتے ۔معاشرے کی منہ بولتی تصویر یں بن جاتے ہیں ۔ان ہی تصویروں کے البم کے نام ہیں :’’یہ تنگ زمین ‘‘ َ،’’ابابیلیں لوٹ آئیں گے ‘‘ ، ’’یمبرزل ‘‘ اور دوسرے افسانے !۔‘‘ص ۲۸۱ ترنم ریاض نے اس افسانے میں جہاں ایک طرف کشمیر کی سیاسی حالات و واقعات کو بروئے کار لایا ہے وہیں دوسری طرف انہوں یہاں ہو رہے ظلم و جبر کی نوحہ خوانی کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے ۔عجیب معاملہ یہ ہے کہ یہاں کے حالات کی زد میں یہاں کے شاپنگ مال اور بازار اب سویرے ہی بند ہوجاتے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ رہتا ہے کہ کہیں دکانوں کی وجہ سے ان کو جان کو نقصان نہ پہنچے ۔اسی طرح کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے :
’’وہ بھاری بھاری قدم اٹھاتا ہوا طویل سڑک پر چلا جارہا تھا۔راستے میں کہیں کہیں دکانیں تھیںجو بند ہورہی تھی ۔ابھی تو اندھیرا بھی نہیں ہوا ۔تو پھر ۔۔دُکانیں کیوں بند ۔۔‘‘ص ۲۶۳ حقیقت میں جس وادی کو فردوس کے لقب سے نوازا گیا تھا وہیں اب سانس لینا دشوار بن گیا ہے یہاں اب uncertaintyنے اپنے بال و پر پھیلائے ہیں انسان خو د کو بے یار و مدد گار تصور کرنے لگا ۔موت کا سوداگر ہر وقت اور ہر دن کسی نہ کسی گلِ لالہ میں رقصاں نظر آتا ہے ۔شام ہوتے ہوئے یہاں ہر طرف ماتمی ہوائیں چلتی ہیں ہر دن گولیوں اور ٹیر گیسوں کی آوازیں گونجتی رہتی ہیں ۔کسی کو مخبری اور کسی کو دہشت گردی کی لیبل لگائی جاتی ہیں اور کھبی شک کی بنیاد پر یہاں معصوموں کا قتل کیا جاتا ہے :’’کہتے ہیں وہ رات قیامت کی رات تھی۔اندرون ِ شہر ،ہر گھر میں چھاپے پڑتے تھے ۔خطاوار دھماکے کرکے غائب ہوگئے تھے اور بے گناہوں کو غالباًغلط مخبری کی وجہ سے دھڑ ادھڑ پکڑ کر کسی نامعلوم منزل کی طرف لے جایا جارہا تھا۔ہوسٹل سے چھٹیوں میں گھر لوٹے دو بھائیوں کو ان کے والدین کے سامنے دہشت گردی کے الزام میں گولیاں مار دی گئی تھیں ۔غصے یا غلط فہمی یا کسی اور انجانی وجہ سے ۔‘‘ص ۲۶۲کشمیر میں جن فنکاروں نے اس صنف میں طبع آزمائی کی ہے ان میں موصوفہ کا ڈکشن منفرد اور نرالا ہے۔ موقعے اور محل کے اعتبار سے افسانے میںتشبیہات ،استعارات ،اور علامات کا استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی تحریر ان کے ہم عصر تخلیق کاروں سے قدرے مختلف ہوجاتا ہے ۔انہیں زبان و بیان پر ایک گہری نظر ہے ،منظر نگاری ، کردارنگاری اور پلاٹ پر انہیں قدرت حاصل ہے ۔
(ریسرچ اسکالر کشمیر یونی ورسٹی )