تخلیقی ادب کی آبیاری وقت کی اہم ضرورت

سرینگر//تخلیقی ادب کی مختلف نہجوں کی آبیاری اور اس پر سیر حاصل بحث کے لئے کلچرل اکیڈیمی کی طرف سے دو روزہ محفلِ افسانہ کا انعقاد کیا گیا۔ محفل کے ابتدائی روز اردو اور کشمیری زبانوں سے وابستہ افسانہ نگاروں نے اپنی تخلیقات پیش کیں جن پر بعد میں سیر حاصل بحث کی گئی۔ یہ تقریب اکیڈیمی کے صدر دفتر واقع لال منڈی کے سمینار ہال میں منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت نامور ادیب ، شاعراور محقق پروفیسر گلشن مجید نے کی جبکہ سرکردہ ادیب ، محقق اور ترجمہ کار پروفیسر بشر بشیر تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ اکیڈیمی کے چیف ایڈیٹر محمد اشرف ٹاک نے مہمانوں اور افسانہ نگاروں کا استقبال کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری نئی نسل تخلیقی ادب کی طرف مائل ہے لیکن اُن کی پرداخت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے لئے اس دو روزہ ادبی تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں خاص طور سے نوجوان افسانہ نگاروں کو اپنی تخلیقات پیش کرنے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ اساتذہ کی موجودگی میں اپنی فنی کاوشوں کو آگے بڑھا سکیں۔ تقریب میں ڈاکٹر نصرت اقبال، طارق شبنم، ناصر ضمیر، مشتاق احمد مشتاق، رافعہ ولی اور محی الدین ریشی نے اپنے افسانے پیش کئے جن پر بعد میں سیر حاصل بحث کی گئی۔ اپنی صدارتی تقریر میں پروفیسر گلشن مجید نے تخلیقی ادب کو فروغ دینے کی کاوشوں کے سلسلے میں اکیڈیمی کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ موجودہ مقابلہ جاتی دور میں تخلیقی ادب کو عالمی سطح پر اپنا لوہا منواسکیں۔ ڈاکٹر بشر بشیر نے تخلیقی ادب خصوصاً افسانوی ادب کی اہمیت اور افادیت کے مختلف گوشے اجاگر کئے اور اس شعبے میں اپنا ہنر آزمارہے نوجوانوں کی صحیح تربیت پر وزر دیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض اکیڈیمی کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کشمیری ڈاکٹر گلزار احمد راتھر نے انجام دئے۔ یاد رہے سوموار ۷؍ دسمبر کو اکیڈیمی کی طرف سے گوجری اور پہاڑی زبانوں میں محفلِ افسانہ کا انعقاد کیا جائے گا۔تقریب میں دیگر شخصیات کے علاوہ شکیل الرحمان، سلیم سالک، شفیع احمد، گلشن بدرنی، پرویز مانوس، جاوید احمد شاہ طالب،منظور کنٹھ، جمیل انصاری بھی موجود تھے۔