تخفیف اسلحہ کانفرنس جنیوا میں شروع

بیجنگ // چین کی صدارت میں تخفیف اسلحہ کانفرنس 2022 کا پہلا اجلاس  جنیوا میں شروع ہوگیا۔چینی ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے کانفرنس کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ اس وقت دنیا ایک صدی کی ان دیکھی  گہری تبدیلیوں سے گزر رہی ہے ، بین الاقوامی تعلقات اور عالمی تزویراتی سلامتی کی صورتحال پیچیدہ ہے ، روایتی سیکورٹی خطرات اور ابھرتے ہوئے سیکورٹی چیلنجز ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی ہتھیاروں کا کنٹرول، تخفیف اسلحہ اور عدم پھیلاو ایک دوسرے سیوابستہ ہیں اور یہ پورا نظام ایک اہم موڑ پر ہے۔ دنیا میں تخفیف اسلحہ کے حوالے سے واحد کثیرالجہتی مذاکراتی ادارے کے طور پر، کانفرنس نے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے میں اہم تاریخی شراکت کی ہے۔ چین کانفرنس کے تمام ممبران سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ روایتی مسائل اور ابھرتے ہوئے چیلنجز پر باہمی احترام اور اتفاق رائے کے اصولوں کی روشنی میں گہرائی سے تبادلہ خیال کریں اور دنیا بھر میں مستقل ، پائیدار اور مشترکہ سلامتی کے حصول کے لیے کوشش کریں۔وانگ ای نے اس بات پر زور دیا کہ رواں سال کانفرنس کے پہلے صدر کے طور پر ، چین فعال طور پر اپنے فرائض سرانجام دے گا اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے گا۔چین تعمیری کردار اداکرتے ہوئے رکن ممالک کے ساتھ تعاون کو مضبوط کرے گا اور کانفرنس کے احیاء کے لیے بھرپور تعاون کرے گا۔ادھر  امریکی ویب سائٹ ڈپلومیٹ کی رپورٹ کے مطابق چین کا ٹرانسپورٹ پلان آنے والے دنوں میں عالمی لاجسٹک کو مزید فروغ دے گا۔