تحریک ِمزاحمت اور انتخابات

ریاست   ریاست میں تحریک مزاحمت کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ مسئلہ کشمیر کی تاریخ ۔ برصغیر کی تقسیم ، قبائلی حملہ ، دستاویز الحاق ، ہندوستانی فوج کی آمد ، ہندوستان کا اقوام متحدہ سے رجوع ، اقوام متحدہ کی مداخلت سے جنگ بندی ، اقوام متحدہ کی قراردادیں اور عالمی ادارے کی طرف سے مصالحتی مشنوں کی ناکامیوں کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان تین جنگجوں نے مسئلہ کشمیر کو بہت ہی پیچیدہ مسئلہ بنادیا جسے نہ تاشقند معاہدہ ہی سلجھا سکا اور نہ ہی شملہ معاہدہ ۔سیاسی ، فوجی اور سفارتی کشمکش سے بھرپور سات دہائیوں کا طویل عرصہ گزرگیا۔ ہزاروں انسانوں کا خون بہا ۔ چار نسلوں نے اس کشمکش کو دیکھا اور اس کے نقصانات کو بھی برداشت کیا۔ اس عرصے میں چین ایک عالمی طاقت بن کر ابھرا ۔ جاپان نے ہیرو شیما اور ناگاساکی کی ایٹمی تباہیوں پر تعمیر اور ترقی کے نئے سنگ میل قائم کئے ۔تباہ شدہ جرمنی پھر سے عظیم قوت بن کر ابھرا لیکن ہندوستان اور پاکستان آج بھی حد متارکہ پر ایک دوسرے پر گولیاں اور بم چلا رہے ہیں اورڈیڑھ ارب انسانوں کا مستقبل خون خرابے کے اسی کھیل میں تحلیل ہورہا ہے ۔اس مسئلے کی سب سے زیادہ شکار اسی ریاست کی آبادی ہے جس پر دونوں ملکوں کا دعویٰ ہے ۔ستر سال سے یہ آبادی غیر یقینی حالات میں زندگی گزار رہی ہے ۔ اس دوران کئی دور گزرے اورکئی تبدیلیاں ہوئیں اور ہر دور یا ہر تبدیلی ڈیڑھ کروڑ کی اس آبادی کے عذابوں میں اضافہ کرتی رہی ۔بہرحال مسئلہ کشمیر اور اس کی تاریخ ایک بہت طویل موضوع ہے جس کے لئے کتابوں کی کئی جلدیں بھی کافی نہیں ۔
ہمارا موضوع چونکہ مسئلہ کشمیر سے ہی جڑا ہے، اس لئے یہ تمہید ضروری تھی اب ہم اصل بات کی طرف آتے ہیں جو اس قوم کی مزاحمت کا انتخابی پہلو ہے ۔یہ بات ہر کشمیری جانتا ہے کہ اقوام متحدہ نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کے انتخابات ایک انتظامی معاملہ ہے جس کا مسئلہ کشمیر پر کوئی اثر نہیں پڑسکتا لیکن مزاحمت کی ہر تحریک نے کل بھی اس کو رد کیا اور آج بھی کررہی ہے حالانکہ کل بھی انتخابات ہوتے رہے اور آج بھی ہورہے ہیں ۔حکومتیں بنتی رہیں اور اپنی مدتیں پوری کرتی رہیں ۔عوام کی بھرپور شمولیت کے بغیر جو نمائندے منتخب ہوتے رہے، انہیں ہی جائز نمائندوں کی حیثیت حاصل ہوتی رہی۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ ہر نئی نسل کیلئے سیاست ممنوع قرار پائی ۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی قومی دھارے اور مزاحمتی سیاست ،دونوں پر پرانے سیاسی لیڈروں یا ان کی اولاد کا ہی قبضہ ہے ۔نیا ذہن ، نئی سوچ اور نئی صلاحیتیں کسی سیاست کا حصہ نہیں بن سکیں ۔ اس لئے یہ میدان جس پر قوموں کی تقدیر کا دار ومدار ہوتا ہے ،بنجر ہوا جس میںنہ نئی کونپلیں کھل سکیں، نہ نئے پھل پیدا ہوسکے ۔ ایسا کیوں ہوا، اس کی وجہ بھی تاریخ میں ہی موجود ہے ۔الحاق اور ہندوستان کے اقتدار و اختیارکے خلاف مزاحمت کی تحریک کو کشمیر کے سب سے مقبول لیڈر شیخ محمد عبداللہ نے ہی بھر پور عوامی تحریک بنایاحالانکہ وہ ہندستان کے ساتھ الحاق کے حامی بھی تھے اور اس میں ان کا اپنا ایک کردار بھی تھا لیکن نو اگست 1953ء کو جب وہ ریاست کے وزیر اعظم تھے اور نیشنل کانفرنس کی حکومت تھی ،ان کا تختہ الٹ کر انہیں گرفتار کرلیا گیا تو الحاق مخالف قوتوں کیخلاف جومضبوط مزاحمت موجود تھی، اس نے ہی مزاحمت کی قیادت سنبھالی ۔محاذ رائے شماری نام سے مزاحمتی تنظیم کا قیام عمل میں آیاجس کے جھنڈے تلے جموں و کشمیر کی آبادی کا وسیع حصہ جمع ہوا ۔بائیس سال تک اس مضبوط ، منظم اور معتبر تحریک نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا لیکن اس عرصے میں شیخ محمد عبداللہ اور محاذ رائے شماری کی پوری قیادت کو اس بات کا شدت کے ساتھ احساس ہوا کہ انتخابات کے بائیکاٹ نے ریاست کی سیاست ، ثقافت ، اقتصادیات غرض ہر شعبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا لیکن اس سے زیادہ نقصان یہ ہوا کہ اس کی وجہ سے مزاحمت کی جڑیں ہی کھوکھلی کی جاتی ر ہیں ۔جو رہے سہے آئینی تحفظات باقی تھے، ان کو بھی رفتہ رفتہ بلا کسی رکاوٹ کے ختم کیا جاتا رہا  ۔ سپریم کورٹ بھی اپنا نہیں رہا ۔ صدر ریاست بھی گورنر ہوگیا ۔ وزیر اعظم وزیر اعلیٰ ہوگیا ۔ اس طرح تحریک مزاحمت کے اپنی جگہ رہتے ہوئے ریاست بھارت میں ضم ہوتی رہی۔جس وقت محاذ رائے شماری کی قیادت اس بات پر سوچ بچار کررہی تھی ،وہ بیشتر قوتیں جو اس وقت تحریک مزاحمت کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں، انتخابی سیاست کا حصہ تھیں ۔فیصلہ ہوا کہ آزاد امیدوارروں کی حمایت سے انتخابی سیاست میں شامل ہونے کا تجربہ کیا جائے ۔شمیم احمد شمیم کو بخشی غلام محمد کے مقابلے میں پارلیمانی الیکشن میں سرینگر حلقے سے حمایت دیکر کامیاب بنایا گیا ۔ اس تجربے کی کامیابی نے محاذ رائے شماری کی قیادت کو پوری طرح سے بدل کر رکھ دیا۔مزاحمت کو جاری رکھتے ہوئے انتخابات میں شمولیت کی حکمت عملی کے بجائے مزاحمت کو قومی دھارے کی سیاست میں تبدیل کرنے کا آغاز ہوا۔اندرا عبداللہ ایکارڈ ہوا جس میں صرف اتنا ہوا کہ مزاحمت کا بسترہ گول کردیا گیا۔بدلے میں سوئی کے برابر بھی کچھ حاصل نہیں کیا گیا ۔بائیس سالہ مزاحمت کو آوارہ گردی قرار دیا گیا ۔ وقت کا کوئی مورخ آج تک اس بات کی تہہ تک نہیں پہنچ سکا کہ ایسا کیوں ہوا ۔ بہرحال اس واقعہ نے مزاحمت اور انتخاب کو ایک دوسرے کی ضد بنادیا ۔محاذ رائے شماری دفن ہوگئی اور نیشنل کانفرنس میں اس کے تمام ارکان ضم ہوکر قومی دھارے کی سیاست کا حصہ بن گئے ۔ مزاحمت کا جذبہ ایک نئی نسل میں منتقل ہوا تھا جو زند ہ رہا لیکن قیادت کے خلاء نے اسے دبا کے رکھ دیا ۔شیخ محمد عبداللہ کے بعد اس جذبے نے اس وقت پھر انگڑائی لی جب حکومتیں گرانے کی نئی دہلی کی سازشیں جاری رہیں اور نیشنل کانفرنس کی قیادت کو اقتدار کے حصول کیلئے کانگریس کیساتھ اتحاد کرنا پڑا ۔اس اتحاد کیخلاف مسلم متحدہ محاذ کا قیام عمل میں آیا۔اُس وقت مزاحمت کا جذبہ نیشنل کانفرنس مخالف جذبے میں تبدیل ہوا تھا چنانچہ نئی نسل اس کے جھنڈے تلے جمع ہوئی اور جب مسلم متحدہ محاذ کو ریکارڈ توڑ دھاندلیوں سے ہرادیا گیا تو مزاحمت کا جذبہ انتخابی سیاست سے ہمیشہ کیلئے اوب گیا لیکن قیادت کا خلاء اسے موثر قوت کی صورت میں مجتمع نہیں کرسکا ۔عسکریت کے آغاز نے اس جذبے کیلئے امید کی کرن پیدا کی اور یہ اسی کے گرد مجتمع ہوگیا ۔ مف کی قیادت بھی اسی کا حصہ بن گئی ۔اس طرح مزاحمت کی صفوں سے کوئی قیادت نہیں ابھری بلکہ عسکریت سے ہی مزاحمت منسوب ہوگئی ۔اس کے بعد جب انتخابات ہوئے تو نیشنل کانفرنس اور کانگریس ہی انتخابی میدان میں تھے ۔ مزاحمتی قیادت اور عسکریت نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور وہی کہانی دہرائی جاتی رہی جو اس سے پہلے دہرائی جارہی تھی ۔ بائیکاٹ بھی ہوتا رہا ، انتخابات بھی ہوتے رہے ،حکومتیں بھی بنتی رہیں اور مزاحمت کی تحریک بھی چلتی رہی ۔آج ریاست میں پنچایتی انتخابات ہورہے ہیں۔ساتویں مرحلے تک مجموعی طور ستر سے اسی فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی ۔پھر بھی ہر مرحلے پر بائیکاٹ کی کال جاری ہے ۔ایک سوال سب ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ اس سے کیا ثابت کیا جارہا ہے ۔کیا یہ ثابت کیا جارہا ہے کہ ستر سے اسی فیصد تک لوگ تحریک مزاحمت کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں رکھتے یا یہ کہ تحریک مزاحمت ریاست جموںو کشمیر کی نہیں ،کشمیر کے چند علاقوں کی تحریک ہے جہاں چند فیصد لوگ ہی پولنگ بوتھوں پر جاتے ہیں ۔اس کے باوجود کہ گولیاں بھی چل رہی ہیں ۔ قومی دھارے کے لیڈروں کے گھروں پر حملے بھی ہورہے ہیں ۔ پولنگ میں حصہ لینے والوں کو ہلاکت خیز دھمکیا ں بھی دی جارہی ہیں ۔جو بیرونی دنیا ریاست کے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے، ان کے سامنے کس طرح کی تصویر آرہی ہے اور وہ کیا نتیجہ اخذ کررہے ہیں ۔فرض کیا جائے کہ اگر مزاحمتی قیادت یا عسکری قیادت نے انتخاب کو کوئی اہمیت نہ دیتے ہوئے بائیکاٹ کی اپیل نہ کی ہوتی تو کیا صورتحال مختلف ہوتی ۔ کیاستر اور اسی فیصد سے زیادہ پولنگ ہوئی ہوتی ۔ اگر ہوتی بھی تو کتنی ہوتی ۔ زیادہ سے زیادہ پانچ سے آٹھ فیصد کا اضافہ ہوتا لیکن تحریک مزاحمت کی مقبولیت پر سوال تو نہیں اٹھتے ۔اب اسمبلی انتخابات بھی جلد ہی ہونے والے ہیں ۔ ان انتخابات میں موجودہ پولنگ پرسنٹیج کے پیش نظر نیشنل کانفرنس بھی حصہ لے گی اور پی ڈی پی بھی۔ ایسے میں مزاحمتی قیادت کیا بائیکاٹ کی کال دیکر پھر سے تحریک مزاحمت کے حق میںکوئی نئی حکمت عملی تیار کرے گی جس سے تحریک مزاحمت کو بھی آنچ نہ آئے اور ان کا بھر م بھی رہے ۔
(بشکریہ ہفت روزہ ’نوائےجہلم ‘سرینگر)