تحریک و جدو جہد کی سیاست نہیں عوام کی توقعات پوری کرنے کا وقت

نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نے سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے لئے ہر شخص تک ترقی کا فائدہ پہنچانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے آج کہا کہ اب ملک میں تحریک اور جدوجہد کی سیاست کی بجائے عوام کی خواہشات کو پورا کرنے کا وقت آ گیا ہے ۔مسٹر مودی نے پارلیمنٹ ہاؤس کے مرکزی ہال میں دو روزہ 'قومی عوامی نمائندے کانفرنس' کا افتتاح کرنے کے بعد اسمبلیوں اور قانون ساز کونسل کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسی مرکزی ہال میں بیٹھ کر ہمارے آئین سازوں نے غور و فکرکرکے سماجی انصاف پر مبنی معاشرے کی تعمیر کی بات کہی تھی۔ لیکن ہر ضلع کی یکساں ترقی اور ہر شخص کی خواہشات کو پورا کئے بغیر سماجی انصاف کا تصور ادھورا ہے ۔ سماجی انصاف تبھی یقینی ہوگا جب عوامی تعاون سے سبھی کی ترقی ہوگی۔ ترقی کی دوڑ میں پچھڑ گئے ملک کے 115 اضلاع میں پسماندگی کی وجوہات کا پتہ لگانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا ملک میں وسائل کی کمی نہیں ہے اور بجٹ بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔پرانے بجٹ میں درست منصوبے تیار کرکے ، عوامی تعاون ، گڈ گورننس اور متحد ہوکر مشن موڈ میں کام کرکے منصوبوں کا نفاذ کرنے سے ان اضلاع کی خدو خال میں میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے ۔ مسٹر مودی نے کہا کہ اب ملک میں تحریک اور جدوجہد کی کٹر سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے ۔ جو لیڈر عوام کی خوشی -دکھ درد کا خیال رکھے گا اور ان کی تمناؤں اور خواہشات کی تکمیل کرے گا، وہ اسے ہی قبول کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اب لوگ بیدار ہو چکے ہیں اور سماج بدل چکا ہے ، اس لئے لوگ ہی کٹر سیاست کو چھڑوارہے ہیں۔ وزیر اعظم نے ترقی کا بہتر ماڈل بنانے کی ضرورت بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے لئے پرانے پیرامیٹرز کارگر نہیں ہیں۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پسماندہ اضلاع میں کچھ ایسے ہیں جہاں صنعتی ترقی تو خوب ہوئی ہے اور اعداد و شمار میں بھی وہ عمدہ تھے لیکن عوامی سطح پر وہ حیرت انگیز طور پر پیچھے تھے ۔ اسي طرح کچھ امیر ریاستوں کو منریگا کا زیادہ پیسہ گیا جبکہ کچھ پچھڑوں میں اس کا کم پیسہ گیا جبکہ ہونا اس کے الٹا چاہیے تھا۔  انہوں نے پسماندہ اضلاع میں پرجوش نوجوان ضلع مجسٹریٹوں کو تعینات کرنے کی تجویز پیش کی جن میں کام کرنے کا جذبہ ہو۔ انہوں نے اس بات پر حیرانی ظاہر کی کہ پسماندہ اضلاع میں سے تقریبا 80 فیصد ضلع مجسٹریٹ 40سے زیادہ عمر کے تھے اور کئی پرموٹي تھے ۔ اس عمر میں خاندان کی فکر وغیرہ کی وجہ سے حکام میں کام کرنے کا جذبہ نہیں رہ جاتا۔ انہوں نے کہا کہ 115 پسماندہ اضلاع میں سے 30 سے 35 نکسل متاثرہ ہیں، باقی میں آسانی کے ساتھ ترقی ممکن ہے ۔انسانی ترقیاتی انڈیکس میں ہندوستان کے 130 ویں نمبر پر ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ اگر اضلاع کی ترقی ہو جائے تو حالات اپنے آپ بہتر ہوجائیں گے ۔اس دوران مسٹر مودی نے ہندوستان کے چار روزہ دورے پر آئے فرانسیسی صدر ایمانویل میکراں کے ساتھ یہاں وفد کی سطح پر بات چیت کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان ساز وسامان کے تعاون کے معاہدہ کو وہ تاریخ کے سنہرے قدم کے طورپر دیکھتے ہیں۔ دفاع' سلامتی' خلاء اور اعلی ٹکنالوجی میں ہندوستان اور فرانس کے باہمی تعاون کی تاریخ بہت قدیم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں نے آج تعلیم اور امیگریشن کے شعبوں میں معاہدہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ دونوں معاہدے ہمارے اہل وطن کے ' ہمارے نوجوانوں کے درمیان قریبی تعلقات کا خاکہ تیار کریں گے ۔ مسٹر مودی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی رابطہ باہمی تعلقات کے روشن مستقبل کا سب سے اہم پہلوں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان ایک دوسرے کے ملکو کو جانیں' ایک دوسرے کے ملک کو دیکھیں' سمجھیں ' کام کریں' تاکہ ہمارے تعلقات کے لئے ہزاروں سفیر تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں باہمی تعلقات کے سلسلے میں وسیع اتفاق رائے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی کی بھی ہو' ہمارے تعلقات کا گراف صرف اور صرف اونچا ہی جاتا ہے ۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ آزادی' مساوات' بھائی چارہ کی گونج فرانس میں ہی نہیں ہندوستان کے آئین میں بھی درج ہے ۔ہمارے دونوں ملکوں کے سماج ان قدروں کی بنیاد پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف دو طاقت ور آزاد ملکوں اور دو تکثیری جمہوریت کے ہی رہنما نہیں ہیں بلکہ دو خوش حال اور عظیم وراثتوں کے جانشین بھی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ملکوجں کی اسٹرٹیجک شراکت بھلے ہی بیس سال پرانی ہو' ملکوں اور تہذیبوں کی روحانی شراکت صدیوں قدیم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کل وہ دونوں انٹرنیشنل سولر الائنس کے تاسیسی کانفرنس کی مشترکہ صدارت کریں گے ۔یو این آئی