’تارا میرہ‘۔ متعدد طبی مسائل کا علاج

تارا میرہ ۔ایک جڑی بوٹی ہے، جس کا پودا12سے15انچ لمبا ہوتا ہے اور اسے سارا سال کاشت کیا جاتا ہے۔ تارامیرہ کا ذائقہ ترش، جب کہ مزاج گرم اور خشک ہے۔ اس جڑی بوٹی کے بےشمار فوائد ہیں۔ جیسا کہ عموماً بچّوں کے سَر میں جوئیں ہوجاتی ہیں، تو اس کے لیے سرسوں اور تارا میرہ کا تیل 100,100 گرام مِکس کرکے ایک شیشی میں بَھر لیں اور یہ تیل بالوں کی جڑوں میں اچھی طرح لگا کر دو سےتین گھنٹےبعد بال دھو لیں۔ چند ہی دِنوں میں جوؤں سے نجات مل جائے گی،نیز اس تیل سے خشکی کا بھی خاتمہ ہوتا ہے۔ اگر کسی کو جوڑوں کی تکلیف ہو ،تو تارامیرہ کا تیل 50 گرام، سرنجان اورتِلوں کا تیل 30،30 گرام لےکر ایک بوتل میں مِکس کرکے رکھ لیں، جب بھی درد ہو،تو انگلیوں کی پوروں پر تیل لگا کرمتاثرہ جوڑ پر لگالیں، خاص طور پراُن مریضوں کے لیے، جنہیں موسمِ سرما میں جوڑوں میں شدید در ہوتا ہے، یہ تیل بےحدفائدہ مندہے۔اس کے علاوہ پاؤں کی موچ کے لیے بھی اس تیل کا استعمال اکسیر ہے۔چوں کہ یہ تیل اینٹی فنگل اور اینٹی آکسیڈنٹ ہے، اس لیے سرطان جیسے موذی مرض میں بھی اس کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔ تاہم، اس کے لیے اپنے معالج سے مشورہ کرلیا جائے، تو بہتر ہوگا کہ سرطان کے تمام مریض ایک جیسی ڈوز استعمال نہیں کرسکتے۔
برص کے علاج کے لیے بھی تارا میرہ کا پاؤڈر بہترین نسخہ ہے۔ اس کے لیے تارا میرا کا پاؤڈر آدھا چائے کا چمچ صُبح و شام ایک ماہ تک باقاعدگی سے استعمال کریں، تو بیماری سے نجات مل جاتی ہے۔ ماہ واری کی بے قاعدگی کی صُورت میں تارا میرا باریک پیس کر اور اس میں کالا نمک ملا کر استعمال کریں، تو فائدہ ہوگا۔ خیال رہے، جو افراد بلڈ ڈس آرڈر یا نکسیر پُھوٹنے کے مسئلے سے دوچار ہیں، وہ تارا میرا کے استعمال سے گریز کریں۔درین اثنا غذائی ماہرین کی جانب سے مجموعی صحت پر مثبت اثرات کے لیے وسطی ایشیا میں پائے جانے والے پہاڑی پتھروں میں سے نکلنے والے سلاجیت کے استعمال کو مفید قرار دیا جاتا ہے۔سلاجیت زیادہ تر گلگت بلتستان کے پہاڑوں سے نکالا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق سلاجیت کے استعمال سے بیش بہا فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں جس میں جسمانی کمزوری سمیت ذہنی کمزوری کے خاتمے کا بھی حل موجود ہے، سلا جیت میں 80 سے زائد مختلف قسم کے معدنیات کے ساتھ فولک ایسڈ اور ہیمک ایسڈ بھی بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے۔الزائمر ڈیزیز پر کی گئی ایک بین الاقوامی تحقیق کے نتائج کے مطابق سلاجیت کا استعمال بڑھاپے کے عمل کو سست اور عمر درازی کا سبب بنتا ہے، سلاجیت میں فولک ایسڈ بھاری مقدار میں پائے جانے کے سبب بڑھاپے کی رفتار سُست ہو جاتی ہے اور انسان خود کو طویل عمر تک جوان اور توانا محسوس کرتا ہے۔سلاجیت کا استعمال جسم میں سوزش کے خلاف  مؤثر خصوصیات رکھتا ہے اور اینٹی آکسیڈینٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ سلاجیت خون کی کمی میں بننے والے اسباب کو روکتا ہے اور خون میں صحت مند خلیات یا ہیموگلوبن کی افزائش کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے، سلاجیت آئرن اور ہیمک ایسڈ سے بھر پور جز ہے، یہ آئرن کی کمی بھی دور کرتا ہے۔سلاجیت کا استعمال دل اور شریانوں کی صحت میں بھی مؤثر کردار ادا کرتا ہے، سلاجیت میں ایک اینٹی آکسیڈنٹ گلوٹاتھائن پایا جاتا ہے جسے دل کی صحت کے لیے نہایت مفید قرار دیا جاتا ہے جبکہ اس میں موجود ہیمک ایسڈ خون میں کولیسٹرول کو کم کرتا ہے جس کے نتیجے میں فالج کے امکانات بھی قدرتی طور پر کم ہو جاتے ہیں۔
سلاجیت مواد کا استعمال کیسے کیا جائے ؟اونچے پہاڑوں کی چٹانوں سے حاصل ہونے والا سلاجیت (مواد) عام طور پر پاؤڈر یا مائع کی شکل میں مارکیٹ میں دستیاب ہوتا ہے۔مائع کی شکل میں حاصل کیا گیا سلاجیت عام طور پر پانی یا دودھ میں تحلیل کر کے دن میں 1 سے 3 بار لیا جا سکتا ہے جبکہ پاؤڈر کی شکل میں ملنے والا سلاجیت عام طور پر دودھ کے ساتھ پیا جاتا ہے۔ماہرین کی تجویز کے مطابق صحت مند لوگوں کو سلاجیت کا استعمال ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 3سو سے 5سو ملی گرام تک کرنا چاہیے۔ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ سلاجیت ہمیشہ معالج کے مشورے سے ہی اپنی روٹین میں شامل کریں۔