سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری کے ایک غریب اور بے گھر نوجوان باکسر محمد یاسر نے اپنی محنت، عزم اور حوصلے کے بل پر تاریخ رقم کرتے ہوئے ازبکستان میں منعقدہ ایشین باکسنگ چمپئن شپ میں سونے کا تمغہ جیت لیا۔ پندرہ سالہ محمد یاسر نے انڈر-15 زمرے کے فائنل مقابلے میں میزبان ملک ازبکستان کے کھلاڑی کو شکست دے کر یہ اعزاز اپنے نام کیا اور ہندوستان سمیت جموں و کشمیر کا نام روشن کر دیا۔جمعرات کے روز کھیلے گئے فائنل مقابلے میں محمد یاسر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی مہارت اور غیر معمولی صلاحیتوں سے سب کو متاثر کیا۔ ان کی کامیابی کی خبر جیسے ہی راجوری پہنچی تو پورے علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں کی بڑی تعداد یاسر کے اہل خانہ کی عارضی رہائش گاہ کے باہر جمع ہوئی جہاں ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا گیا، مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور پٹاخے پھوڑ کر جشن منایا گیا۔مقامی باشندوں نے محمد یاسر کی کامیابی کو پورے خطے کے لیے فخر کا لمحہ قرار دیا۔
لوگوں نے امید ظاہر کی کہ یاسر مستقبل میں اولمپکس میں بھی ملک کے لیے گولڈ میڈل جیت کر ہندوستان کا پرچم بلند کریں گے۔محمد یاسر کی کامیابی صرف ایک کھیل کی فتح نہیں بلکہ مشکلات، غربت اور بے گھری کے خلاف ایک عظیم جدوجہد کی علامت بھی بن گئی ہے۔ یاسر کا تعلق ایک انتہائی غریب خاندان سے ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے بے گھر زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ راجوری کے کھیوڑہ علاقے میں ایک خستہ حال سرکاری عمارت میں رہائش پذیر ہیں، جسے مقامی لوگ غیر محفوظ اور ناقابل رہائش قرار دیتے ہیں۔ان کے خاندان میں والدہ نسیم اختر، چودہ سالہ بھائی محمد فرید اور سات سالہ بہن فاطمہ شامل ہیں۔ یاسر کے والد محمد ندیم، جو مزدوری کر کے خاندان کا گزر بسر کرتے تھے، سال 2018 میں انتقال کر گئے تھے۔ خاندان کے مطابق ان کے والد مکان کی مسماری کے بعد ذہنی صدمے اور بیماری کا شکار ہو گئے تھے۔یاسر کا خاندان پہلے راجوری قصبہ کی بیلا کالونی میں رہائش پذیر تھا، تاہم 2018 میں انسداد تجاوزات مہم کے دوران ان کا مکان منہدم کر دیا گیا جس کے بعد پورا خاندان بے گھر ہو گیا۔ بعد ازاں انتظامیہ نے انہیں ایک پرانی سرکاری عمارت میں منتقل کیا جہاں آج بھی وہ انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔شدید مالی مشکلات کے باعث محمد یاسر کو صرف گیارہ برس کی عمر میں اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی۔ خاندان کی کفالت کے لیے انہوں نے مختلف گھروں میں گھریلو ملازم کے طور پر کام کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ کھانا پکانے، برتن دھونے اور کپڑے صاف کرنے جیسے کام انجام دے کر اپنے خاندان کی مدد کرتے تھے۔یاسر کی زندگی میں اصل تبدیلی تقریباً تین سال قبل اس وقت آئی جب کھیلوں کے فروغ کے لیے کھیلو انڈیااسکیم کے تحت راجوری اسپورٹس اسٹیڈیم میں باکسنگ کی تربیت کا مرکز قائم کیا گیا۔ باکسنگ کوچ مشتاق ملک نے محمد یاسر اور ان کے بھائی محمد فرید کی صلاحیتوں کو پہچانتے ہوئے انہیں پیشہ ورانہ تربیت دینا شروع کی۔غربت، بے گھری اور ذاتی سانحات کے باوجود محمد یاسر نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل محنت جاری رکھی۔ ان کی ایشین چمپئن شپ میں کامیابی کو عزم، حوصلے اور انتھک جدوجہد کی ایک عظیم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔علاقے کے سماجی کارکنوں اور عوامی تنظیموں نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ محمد یاسر کے خاندان کو فوری طور پر مستقل رہائش، مالی امداد اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ اس باصلاحیت نوجوان کو مستقبل میں مزید کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے مکمل تعاون مل سکے۔