جموں//اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے گپکار اعلامیہ کو مسترد کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جموں و کشمیر میں ریاست کی بحالی اور انتخابات کے انعقاد کے لئے سیاسی قراردادیں منظور کیں۔جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر رویندر ینہ کی صدارت میں پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس ہواجس میں بی جے پی کے قومی نائب صدر اور جموں و کشمیر انچارج اویناش رائے کھنہ ، قومی جنرل سکریٹریوں ڈاکٹر انیل جین ، مرلی دھر راو اور مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھی شرکت کی۔پارٹی کے ترجمان اور سابق ایم ایل اے رام نگر نگر آر ایس پٹھانیہ نے سیاسی قرار داد پیش کی جس پر بی جے پی لیڈران نے دفعہ 370 اوردفعہ 35 اے کو منسوخ کرنے کا خیرمقدم کیا۔ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں جموں و کشمیر کے متعدد امور پر خصوصی حیثیت کی منسوخی ، گپکار قرارداد ، پاکستان اور چین کی طرف سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پر دوبارہ دعویٰ کرنے سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔اس اجلاس میں سیاسی قراردادیں بھی بحث کے بعد منظور کی گئیں جن میں اسمبلی انتخابات کرانے اور جموں و کشمیرکیلئے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبات شامل ہیں۔پارٹی کے ترجمان اعلیٰ سنیل سیٹھی نے بتایا’’جموں و کشمیر کی ورکنگ کمیٹی میں سیاسی قراردادیں منظور کی گئیں تاکہ انتخابات کرائے جاسکیں اور جتنی جلدی ہو سکے ریاست کے درجہ بحالی ہو، ہم نے دفعہ 370 اوردفعہ 35 اے کی تنسیخ کا خیر مقدم کیاہے‘‘۔کشمیرعظمیٰ کے پاس دستیاب قرار دادکی کاپی کے مطابق مناسب موقعہ پر جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ کی وقار اور عزت کے ساتھ بحالی پر اتفاق کیاگیا۔ قرار داد کے حوالے سے بی جے پی کے ایک سینئر رہنما نے کہا ’’جموں و کشمیر کے عوام کی خواہش کے مطابق بغیر کسی تاخیر کے منتخب حکومت کی بحالی ہوگی‘‘۔ بی جے پی لیڈرنے کہا’’حد بندی کا عمل اب تک نظرانداز کئے جانے والے علاقوں میں سیاسی انصاف کی فراہمی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔انہوں نے شیڈول ٹرائب کے لئے سیاسی ریزرویشن کی حمایت اور متنازعہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کا خیرمقدم بھی کیا۔