میری بات
ڈاکٹر شگفتہ خالدی
جموں و کشمیر میں جب بھی سرکاری ملازمتوں کا موضوع زیرِ بحث آتا ہے تو ’’بیک ڈور تقرریوں‘‘ کی اصطلاح سیاسی مباحث کا مرکز بن جاتی ہے۔ آج جموں و کشمیر میں بھی کچھ ایسا ہی منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ موجودہ حکومت اپوزیشن پر بیک ڈور تقرریوں کے ذریعے تقرریوں کے الزامات عائد کرتی ہے اور سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں کو موجودہ مسائل کی وجہ قرار دیتی ہے جبکہ اپوزیشن بھی موجودہ حکومت پر بیک ڈور تقرریوں اور غیر شفاف تقرریوں کے الزامات لگاتی ہے۔ یوں دونوں جانب سے الزام تراشی کا سلسلہ جاری رہتا ہے مگر ڈیلی ویجرز اور رہبر اسکیم کے تحت برسوں سے خدمات انجام دینے والے ملازمین کے مسائل آج بھی حل طلب ہیں۔ اگر واقعی کسی دور میں غیر قانونی یا غیر شفاف تقرریاں ہوئی ہیں تو ان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور قانون کے مطابق کارروائی بھی ہونی چاہیے۔ لیکن اس معاملے کو صرف سیاسی ہتھیار بنا دینا عوامی مفاد میں نہیں۔ ہر بار ایک دوسرے پر الزام لگا دینا آسان ہے مگر ایسے فیصلے کرنا مشکل نظر آتا ہے جن سے عوام اور برسوں سے خدمات انجام دینے والے ملازمین کو حقیقی ریلیف مل سکے۔سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ ڈیلی ویجرز اور رہبر اسکیم کے تحت کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کی مشکلات پر نہ سنجیدہ بحث ہوتی ہے اور نہ ہی مؤثر پیش رفت دکھائی دیتی ہے۔ ان ملازمین نے اپنی زندگی کے بہترین سال سرکاری اداروں کی خدمت میں گزار دیے مگر آج بھی ان کی ملازمت مستقل نہیں ہو سکی۔ ان کے گھروں کے حالات بچوں کی تعلیم علاج اور معاشی مشکلات پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت زیادہ تر بیانات دینے تک محدود ہے جبکہ اپوزیشن کی بڑی توجہ اپنی کھوئی ہوئی سیاسی حیثیت اور اقتدار کی واپسی کی جدوجہد پر مرکوز رہتی ہے۔ اس سیاسی ماحول میں ڈیلی ویجرز رہبر اسکیم اور دیگر عارضی ملازمین کے مسائل اکثر پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ ان کے مستقبل کے حوالے سے واضح پالیسی سامنے آتی ہے اور نہ ہی برسوں کی خدمات کا مناسب اعتراف ہوتا ہے۔
ہر انتخاب سے پہلے یہی ملازمین سیاسی وعدوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ مستقل ملازمت بہتر تنخواہوں اور انصاف کے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن انتخابات ختم ہونے کے بعد یہی وعدے اکثر عملی شکل اختیار نہیں کر پاتے۔ اس طرزِ عمل نے متاثرہ ملازمین میں مایوسی اور بے اعتمادی کو جنم دیا ہے۔
ڈیلی ویجرز کی ایک بڑی تعداد پندرہ بیس بلکہ پچیس برس سے مختلف محکموں میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ اسی طرح رہبر اسکیم کے تحت تعینات افراد نے انتہائی محدود وسائل اور کم مشاہرے پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان کی محنت اور وابستگی سے انکار ممکن نہیں مگر ان کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت آج بھی برقرار ہے۔مہنگائی کے اس دور میں محدود آمدنی کے ساتھ خاندان کی کفالت کرنا آسان نہیں۔ جب ایک ملازم ہر وقت اپنی ملازمت کے مستقبل کے بارے میں فکر مند رہے تو اس کے ذہنی سکون کارکردگی اور خاندانی زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسے مسائل پر سیاست سے زیادہ سنجیدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوامی مسائل کو محض سیاسی ہتھیار نہ بنائیں۔ اگر بیک ڈور تقرریوں سے متعلق کوئی قانونی یا انتظامی مسئلہ ہے تو اسے قانون کے مطابق حل کیا جائے لیکن اس کے ساتھ ساتھ برسوں سے خدمات انجام دینے والے ملازمین کے مستقبل کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے۔
جموں و کشمیر کے نوجوان پہلے ہی بے روزگاری کے شدید بحران سے گزر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر برسوں سے خدمات انجام دینے والے ملازمین بھی غیر یقینی حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوں تو یہ نہ صرف ان افراد بلکہ پورے انتظامی نظام کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ایک مضبوط اور مؤثر نظام وہی ہوتا ہے جہاں محنت تجربے اور دیانت داری کی قدر کی جائے۔ حکومت اور اپوزیشن الزام تراشی سے آگے بڑھیں اور اس مسئلے پر سنجیدہ بامعنی اور مشترکہ سوچ اختیار کریں۔ عوام کو بیانات نہیں بلکہ عملی فیصلوں کی ضرورت ہے۔ برسوں سے خدمات انجام دینے والے ملازمین کو صرف وعدوں پر نہیں بلکہ انصاف تحفظ اور واضح پالیسی پر اعتماد ہونا چاہیے۔
بیک ڈور تقرریوں کی سیاست ایک دوسرے پر الزامات اور اقتدار کی کشمکش نے اصل عوامی مسائل کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ اگر سیاست کا مقصد عوام کی خدمت ہے تو پھر ڈیلی ویجرز رہبر اسکیم اور دیگر عارضی ملازمین کے مسائل کو ترجیح دینی ہوگی۔ بصورت دیگر سیاسی بیانات بدلتے رہیں گے حکومتیں آتی جاتی رہیں گی اپوزیشن اپنے سیاسی مفادات کی جنگ لڑتی رہے گی مگر ہزاروں محنت کش ملازمین اپنی مستقلی اور بہتر مستقبل کے انتظار میں ہی زندگی گزارتے رہیں گے۔
[email protected]