بیٹی چودہ سال قبل سرحدی کشیدگی میں ماری گئی

مینڈھر//بالاکوٹ کے بھروٹ علاقہ میں 2004میں ہندوپاک افواج کے درمیان ہوئی فائرنگ اور گولہ باری کی زد میں آ کر دسویں جماعت کی ایک لڑکی ماری گئی تھی  جس کے بعد ضلع انتظامیہ نے ایک لاکھ روپے دینے کے بعد کنبہ کے ایک فرد کو نوکری دینے کا اعلان کیا تھا لیکن اس وقت تک اس کے گھر والے دردر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور حکومت کی طرف سے مارے جانی والی لڑکی کے گھر سے کسی کو ملازمت نہیں دی گئی۔ماری گئی لڑکی شہناز اختر کے والد رشید خان کا کہنا ہے کہ انہیں انتظامیہ کی طرف سے یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ گھر کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے گی یا مزید چار لاکھ روپے اور دئیے جائیں گے جس کیلئے انہوں نے اپنے بچے کی فائل تیار کرکے دردر کی ٹھوکریں کھائی اور ہر ایک دفتر کے چکر کاٹے لیکن اس وقت تک میرے کسی بھی بچے کو نوکوری نہیں دی گئی اور نہ ہی نقدی امداد فراہم کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی میں مارے جانے والے کئی افراد کے بچے دس سال سے بھی زیادہ نوکری کر چکے ہیں لیکن ان کے ساتھ انصاف نہیں بلکہ دھوکہ کیاگیاہے۔ رشید خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کئی ریاستی و مرکزی لیڈران کو بھی اپنی فائل دکھائی جنہوں نے فائل کو دیکھتے ہی ضلع ترقیاتی کمشنر کے حوالے کی لیکن حاصل کچھ نہیں ہواجبکہ وہ دفاتر کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک گیاہے۔ان کاکہناہے کہ اس فائل کے چکر میں انہوں نے ایک لاکھ روپے تک کی رقم خرچ کردی ہوگی۔رشید خان جسمانی طور پر معذور ہے جس کا ایک پائوں مائن بلاسٹ سے الگ ہوگیاتھاجسے سرکار کی طرف سے صرف تین سو روپے پنشن دی جارہی ہے۔انہوں نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے اپیل کی کہ اس کے ساتھ انصاف کیاجائے۔