نئی دہلی//پارلیمنٹ میں جمعرات کو پیش اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ‘ بیٹی بچاؤ ،بیٹی پڑھاؤ’مہم بے حد کامیابی رہی ہے ،لیکن اس میں تبدیلی ضرورت ہے ۔ جائزے میں آگے کہا گیا ہے ،‘‘اگر بیٹی بچاؤ،بیٹی پڑھاؤ مہم نے مدد کی ہے ،لیکن صنفی مساوات دور کرنے کے لئے ایسی انقلابی مہم کی ضرورت ہے جو عملی اقتصادیات کے فائدوں کا استعمال کرتی ہوں۔مہم کو ثقافتی اور سماجی معیار پر مبنی ہونا چاہئے کیونکہ وہ ہندوستان میں لوگوں کے برتاؤ کو بہت زیادہ متاثر کرتی ہیں اس لئے خاتون-مرد برابری کی سمت میں تبدیلی کو پیش کرنے کے لئے اس مہم کو تبدیلی(بیٹی آپ کی دھن لکشمی،وجے لکشمی) کانام دیا جاسکتا ہے ۔’’ اس میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ ہندوستان میں بچوں کے جنسی تناسب کے عدم توازن کے مسئلے کے حل کے لئے شروع کیاگیا تھا۔بیٹیوں کے تئیں لوگوں کی سوچ بدلنا ضروری تھا۔لوگوں کو بیٹیوں کو بوجھ نہ مان کر ان کی موجودگی سے خوشیاں منانے کی ضرورت تھی۔جن 161اضلاع میں بیٹی بچاؤ ،بیٹی پڑھاؤ شروع میں نافذ کیاگیاتھا۔16-2015سے 19-2018کے درمیان ان میں سے 107اضلاع میں جنسی تناسب بہتر ہوا ہے ۔اوسطاً 161اضلاع کا جنسی تناسب سال 16-2015میں 909 سے بڑھکر 919ہوگیا۔ جائزے میں کہاگیا ہے کہ ‘بلا شبہ بیٹی بچاؤ ،بیٹی پڑھاؤ کا کام ابھی ختم نہیں ہوا ہے کیونکہ سیلفی پوسٹ کرنا رات و رات قدامت پسند سوچ کو بدلنے یا توڑنے کے برابر نہیں ہے حالانکہ سماجی معیاروں کا فائدہ اٹھانا یقینی طورپر صحیح سمت میں اٹھایاگیا ایک قدم ہے ۔