سرینگر //محکمہ صحت میں سال 2003 سے 2006تک درجہ چہارم اسامیوں کی غیر قانونی،اور ناجائز طریقے پر تقرریاں عمل میں لانے کے کیس پر اینٹی کرپشن بیورو نے 3سابق بلاک میڈکل افسران سمیت 16ملازمین اور 71 مستفیدین کیخلاف چارج شیٹ پیش کیا ہے ۔اسی کیس میں ملوث سابق بی ایم او بیروہ ڈاکٹر فیاض بانڈے کو3روز قبل نوکری سے برخواست کیا گیا تھا۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق انسداد رشوت ستانی بیورو نے اس کیس کے حوالے سیایف آئی آرزیر نمبر 22/2011 درج کیا تھا۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ مقدمہ درجہ چہارم ملازمین کی غیر قانونی تقرری کی باریک بینی سے کی گئی تصدیق کے بعد درج کیا گیا تھا۔ یہ تقرریاں بلاک میڈیکل آفس بیروہ اور خانصاحب بڈگام میں کی گئی تھیں۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ 2003سے سال 2006کی مدت کے دوران بلاک میڈیکل آفیسرز ڈاکٹر فیاض احمد بانڈے، ڈاکٹر شیخ طارق احمد اور ڈاکٹر محمد عبداللہ بٹ نے دیگر ملزمین کے ساتھ مل کر جعلی اور من گھڑت تقرری کے احکامات جاری کئے ،صفائی والا اور نرسنگ آرڈرلیز کی موجودہ پوسٹیںبھرتی کی تھیں۔معاملے کی تحقیقات کے دورانمتعلقہ ریکارڈ ضلع بڈگام کے بلاک میڈیکل آفیسرز، چیف میڈیکل آفیسربڈگام، اور ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر سے حاصل کر کے ضبط کیا گیا۔اے سی بی نے کہا، " تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ چیف میڈیکل افسر اور بلاک میڈیکل افسران نے سرکاری احکامات کو بالائے طاق رکھ کر71افراد کو اس طرح سے غیر قانونی طور بھرتی کر کے فائدہ پہنچایا ۔انہوں نے بتایا کہ71 مستفیدین اور16افسران اور اہلکاروں کے خلاف چارج شیٹ پیش کیا گیا ۔انٹی کرپشن بیرو نے بتایا کہ حکومت نے جن 8ملازمین کو حال ہی میں نوکری سے بے دخل کیا تھا ان میں ڈاکٹر فیاض بھی شامل ہے ۔