بیروزگاری سے نوجوان نسل ذہنی تنائو کا شکار

سرینگر//کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے لوک سبھا میں بجٹ پر بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے جموں وکشمیر میں نوجوانوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بھی بے روزگاری کا بڑھتا ہوا مسئلہ اُجاگر کرتے ہوئے کہاکہ ہماری نوجوان نسل ذہنی تنائوکا شکار ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں اور یہ قیمتیں پانچ ریاستوں کے انتخابات کے بعد اور بھی بڑھ جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ پہاڑیوں میں رہنے والوں کے لئے یہ مسئلہ مزید بڑھ گیا ہے کیونکہ کھانا ٹرکوں کے ذریعے لایا جاتا ہے اور ایندھن کی بلند قیمتیں اس میں اضافہ کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں درخواست کرتا ہوں کہ ایندھن پر ٹیکس کم کیا جائے تاکہ عام لوگوں کو راحت پہنچ سکے۔کووڈ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وبائی بیماری نے لوگوں کو بہت بری طرح متاثر کیا ہے اور MGNREGAاسکیم کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت گزشتہ برسوں میں MGNREGAکے لئے مختص فنڈز کو کم کر رہی ہے۔جموںوکشمیر کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹنلوں، سڑکوں اور بجلی کے منصوبوں جیسے کاموں کے لئے سب سے کم ملازمین کشمیر سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشتواڑ میں زیر تعمیر پروجیکٹوں میں مقامی لوگوں کو روزگار مہیا نہیں کیا جارہاہے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس پہلو پر غور کرے اور مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کو یقینی بنائے۔سیاحت سے جڑے طبقوں اور سیب کے کاشتکاروں کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ سیب کے کاشتکار ناخوش ہیں کیونکہ ایران اور دیگر جگہوں سے بغیر ٹیکس کے سیب بردآمد کئے جا رہے ہیں، اور اس کے نتیجے میں کشمیر کے سیب کے کاشتکار متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کے سیب گوداموں اور کولڈ سٹوروں میں سڑ رہ گئے ہیں۔ سیاحت کے بارے میں انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس شعبے کو ایک صنعت سمجھے تاکہ وہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔انہوں نے کہا کہ سیاحت سے جڑے ہوٹل مالکان، شکارا والے، ٹیکسی ڈرائیور اور دیگران کو لوگ مشکلات کے شکار ہیں۔ بارڈر بٹالین میں ملازمت کے لئے 2019 میں منعقد ہونے والے ٹیسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اُمیدواروں نے امتحان دیا اور وہ اب بھی ملازمت کے منتظر ہیں۔لیکن حکومت نے یہ عمل منسوخ کرکے نئے سرے سے بھرتی عمل شروع کررہے ہیں کیونکہ حکمران اب اس میں ریاست سے باہر کے لوگوں کو ملازمت دینا چاہتے ہیں۔