بہاولپور: آئل ٹینکر میں آگ لگنے سے149 افراد ہلاک، 125 جھلس گئے

کراچی// پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور میں تیل سے بھرے ٹینکر میں الٹنے کے بعد آگ لگنے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 149 ہو گئی ہے جبکہ 125 افراد جھلس گئے ہیں۔یہ حادثہ اتوار کی صبح ضلع بہاولپور کے علاقے احمد پور شرقیہ کے قریب قومی شاہراہ پر پیش آیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب کے خصوصی مشیر برائے صحت سلمان رفیق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 149ہو گئی ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔انھوں نے بتایا کہ 123 افراد کو مردہ حالت ہی میں ہسپتال لایا گیا تھا جبکہ 10 افراد نے ہسپتال میں دم توڑا ہے۔ان کے مطابق 32 زخمی وکٹوریہ ہسپتال میں، 35 بہاولپور سی ایم ایچ اور 58 ملتان میں ہیں۔ریسکیو حکام کے مطابق آگ لگنے سے وہاں کھڑی 75 موٹر سائیکلیں، تین کاریں اور ایک رکشہ بھی آگ کی لپیٹ میں آئے اور مکمل طور پر جل گئے۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ادارے کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچے اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ڈی سی او بہاولپور سلیم افضل کا کہنا تھا کہ کراچی سے لاہور جانے والا یہ ٹینکر احمد پور شرقیہ سے آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر تیزرفتاری کے باعث پھسل کر سڑک سے نیچے کھیتوں میں جا گرا اور اس سے تیل رسنا شروع ہو گیا۔ڈی سی او کے مطابق حادثے کے بعد قریبی دیہات سے سینکڑوں افراد جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے موقع پر جمع ہو گئے اور تیل جمع کرنے لگے۔سلیم افضل نے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کو بتایا کہ یہ افراد ٹینکر کے گرد جمع تھے کہ اچانک اس میں آگ بھڑک اٹھی جس نے ان سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔پولیس حکام کے مطابق آگ بھڑکنے کے نتیجے میں 50 سے زیادہ افراد تو موقع پر ہی جل کر ہلاک ہوئے جبکہ بقیہ نے ہسپتال لے جاتے ہوئے یا پھر ہسپتال میں دم توڑا۔اے پی پی نے مقامی پولیس کے حوالے سے کہا ہے کہ ٹینکر الٹنے کے بعد جب موٹر وے پولیس کے اہلکار وہاں پہنچے تو ایک بڑا ہجوم تیل اکٹھا کرنے جمع ہو چکا تھا اور پولیس اہلکاروں کے منع کرنے کے باوجود وہ جائے حادثہ سے دور نہیں گئے۔احمد پور شرقیہ کے تحصیل ہسپتال کے ایم ایس کے مطابق زخمیوں کو احمد پور شرقیہ میں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد بہاولپور اور ملتان کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتالوں اور بہاولپور کے وکٹوریہ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔طبی حکام کے مطابق اس حادثے میں جھلسنے والے افراد میں سے بیشتر کے جسم کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ جلا ہے۔جائے حادثہ سے موصول ہونے والی تصاویر میں ٹینکر کے اردگرد درجنوں سوختہ لاشوں کو دیکھا جا سکتا ہے اور طبی حکام کا کہنا ہے کہ ایسی لاشوں کی شناخت صرف ڈی این اے سے ہی ممکن ہو سکے گی۔وزیر اعلیٰ پنجاب کے خصوصی مشیر برائے صحت سلمان رفیق نے بتایا کہ فورنزک ٹیموں نے ہلاک شدگان کے ڈی این اے لے لیے ہیں اور اب رشتہ داروں کے لیے جائیں گے تاکہ شناخت ہو سکے۔دوسری جانب لندن میں موجود وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے بہاولپور میں ہونے والے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔پنجاب کے وزیراِعلیٰ نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق شدید زخمیوں کو برن سنٹرز منتقل کرنے کے لیے پاکستانی فوج نے چار ہیلی کاپٹر روانہ کر دیے ہیں جبکہ ہسپتالوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔پاکستان میں ماضی میں بھی ٹریفک حادثات کے دوران آئل ٹینکرز میں آگ بھڑکنے سے ہلاکتوں کے بڑے واقعات پیش آ چکے ہیں۔گذشتہ برس فروری میں ضلع شیخوپورہ میں آئل ٹینکر اور کار میں تصادم کے بعد لگنے والی آگ سے دس افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 2015 میں کراچی کے قریب شکارپور جانے والی ایک مسافر بس اور آئل ٹینکر کی ٹکر کے نتیجے میں 62 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔