بھدرواہ //عید الفطر کا مقدس تہوار قریب آنے کے ساتھ ہی قصبہ کے تمام بازاروں خصوصاً کھلے بازاروں،جو کہ وادی چناب میں سب سے بڑا مارکیٹ ہے،میں عید کی خریداری کو لیکر کافی گہما گہمی دیکھنے کو ملی ہے۔قصبہ کے توااریخی سیری بازار میں داکانیں صُبح سویرے ہی کھول دی گئی تھیںجبکہ درجنوں ریہڑی ،پھڑی والے نصف شب سے ہی جگہ ڈھونڈتے دیکھے گئے۔بھدرواہ،بھالہ، ٹھاٹھری اور گندو کے بہت سے ریہڑی والے شام دیر گئے تک خریداری کرتے دیکھے گئے۔وہ ریڈی میئڈ کپڑے،منیاری،الیکٹرانکس ،اشیائے خوردنی و دیگر ائیٹمز خردتے دیکھے گئے، جس کی وجہ سے قصبہ کے تمام بازاروں میں کافی رش رہا۔ عام طور سے ماہ رمضان کے آخری 10دنوں کے دوران قصبہ میں عید کی خریداری ہو تی تھی لیکن امسال گذشتہ تین دنوں سے ہی عید کی خریداری شروع ہوئی ہے۔خریدار ی میں نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی خریداری کرتے دیکھے گئے کیونکہ وہ پہلے سے ہی معمول کے مطابق عید کے تہوار سے قبل خریداری کرتے ہیں۔بھدرواہ کے ایک شہری وجے ناتھ ملہوترہ نے کہا کہ ہم سال بھر اس تہوار کا انتظار کرتے ہیں،تاکہ ہم اپنے لئے ریڈی میڈ کپڑے،کراکری اور الیکٹرنکس کی خریداری کر سکیں گے۔ وہیں دوکانداروں کے چہروں پر مسکان دیکھی گئی کیونکہ وہ بھاری خریداری سے کافی خوش تھے،کیونکہ گُذشتہ تین دنوں سے کافی خریداری ہوئی ہے۔ہمسایہ ریاستوں جیسے کہ پنجاب ،ہماچل پردیش اور ہریانہ کے پھڑی والے بھی اس دوران کافی کاروبار کرتے ہیں ۔بازاروں میں لوگوں کے کافی رش کو دیکھتے ہوئے محکمہ پولیس نے بازاروں سے بھیڑ کم کرنے اور ٹریفک کو باقاعدہ بنانے کے لئے رہنما خطوظ جاری کئے تھے۔