یو این آئی
اندور//اندور میں جمعہ کے روز ہندوستان کی صدارت میں برکس (BRICS) ممالک کے وزرائے زراعت کا دو روزہ اجلاس شروع ہوا، جس کے ایجنڈے میں غذائی تحفظ، چھوٹے کسانوں کی فلاح اور زرعی شعبے میں خواتین اور نوجوانوں کی زیادہ شمولیت جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔اپنے خطاب میںمرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران زرعی شعبے میں اوسطاً تقریباً 4.5 فیصد سالانہ ترقی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ ملک کی مجموعی غذائی پیداوار بڑھ کر تقریباً 376 ملین ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے بھارت کی زرعی طاقت، ثقافتی اقدار اور عالمی تعاون کے عزم کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کا نظریہ “جنگ نہیں، امن؛ تصادم نہیں، ہم آہنگی” پر مبنی ہے، جو عالمی زرعی شراکت داری کے لیے رہنما اصول بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مکالمہ خاص طور پر چھوٹے اور معمولی کسانوں کو درپیش چیلنجز، جیسے موسمیاتی تبدیلی، قدرتی وسائل پر بڑھتا دباؤ اور منڈی کی غیر یقینی صورتحال، کے اجتماعی حل تلاش کرنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر چھوٹے کسان مضبوط ہوں گے تو دنیا کی غذائی سلامتی خود بخود مستحکم ہو جائے گی۔مرکزی وزیر نے بھارت کی زرعی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں گندم کی پیداوار تقریباً 118 ملین ٹن تک پہنچ گئی ہے، جبکہ باغبانی کی پیداوار 378 ملین ٹن سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسی طرح مچھلی کی پیداوار بھی بڑھ کر 19 ملین ٹن سے زیادہ ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کا سب سے بڑا غذائی تحفظ پروگرام چلا رہا ہے، جس کے ذریعے بڑی آبادی کو خوراک کی حفاظت فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے کسانوں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابیاں ان کی محنت اور حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔چوہان نے کہا کہ بھارت کی تقریباً 43 فیصد افرادی قوت زراعت سے وابستہ ہے اور یہ شعبہ نہ صرف غذائی تحفظ بلکہ کروڑوں افراد کے روزگار کا بھی بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں چلنے والی اسکیموں، جیسے بہتر بیج، آبپاشی، جدید ٹیکنالوجی اور کسان امدادی پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان سے کسانوں کو نمایاں فائدہ پہنچا ہے۔