عظمیٰ نیوز ڈیسک
گجرات// تین نئے فوجداری قوانین کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو کہا کہ 5 سال بعد، بھارت کا فوجداری انصاف کا نظام دنیا میں سب سے جدید ہوگا۔ امت شاہ نے نیشنل فارنسک سائنسز یونیورسٹی (این ایف ایس یو) کی 5ویں بین الاقوامی اور 44ویں آل انڈیا کریمنولوجی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ افتتاح ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت کا فوجداری انصاف کا نظام ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ شاہ نے کہا، ’’آئی پی سی، سی آر پی سی اور ثبوت قانون کو ختم کر دیا گیا ہے اور نئے قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔ میں ان قوانین کو عملی جامہ پہنا رہا ہوں اور بڑی ہمت کے ساتھ یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم نے 7 سال یا اس سے زیادہ کی سزا والے مقدمات کے لیے ہر جائے واردات پر فرانزک سائنس افسران کا دورہ لازمی کر دیا ہے۔ اس سے تفتیش آسان ہوگی، ججز کا کام بھی آسان ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم پورے عمل کو جدید بنانے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ ابھی اس میں 5 سال لگیں گے کیونکہ اس کی مختلف سطحیں ہیں۔ لیکن 5 سال کے بعد، بھارت کا فوجداری انصاف کا نظام دنیا کا جدید ترین ہو جائے گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی حکومت 50 سال اقتدار میں رہتی ہے تو وہ 5 سے 6 تبدیلیاں کرتی ہے لیکن صرف 10 سالوں میں ہم نے ہر شعبے میں 50 سے زیادہ تبدیلیاں کی ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ نے زور دے کر کہا کہ 5 سال کے بعد ملک کو ہر سال 9000 سے زیادہ سائنسی افسران اور فارنسک سائنس کے ماہرین ملیں گے۔ اُنہوں نے زور دے کر کہا، ’’ ہماری حکومت نے 40 سال بعد نئی تعلیمی پالیسی لائی ہے۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ تعلیمی پالیسی مکمل طور پر بھارت پر مبنی ہے لیکن یہ ہمارے بچوں کو عالمی سطح پر بھی نمایاں کرے گی۔