جموں و کشمیر میںشعبہ تعلیم کس قدر خستہ حالی کا شکار ہے،اس سے ہر کوئی واقف ہے۔سرکاری تعلیمی اداروںمیںنظام تعلیم انتہائی بدحال ہے ۔تعلیمی سیکٹر کی حالت ِخستہ کو دیکھتے ہوئے کوئی بھی ذی حس انسان یہ کہنے میںعار محسوس نہیںکرے گا کہ تعلیم کا حصول اب صرف اور صرف ڈگریوںتک محدود ہے ،یہی وجہ ہے کہ والدین اپنے بچوںکا داخلہ سرکاری سکولوںمیںنہیںکراتے ہیں۔ایک طرف سے سرکاری تعلیمی اداروںکادرہم برہم نظام اور دوسری جانب پھلتے پھولتے نجی تعلیمی اداروں کی بھر مار انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ آخر کونسی سے کھچڑی پکائی جار ہی ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کے بڑھتے رجحان کو لیکر کبھی کبھار سرکار زبانی طور اگر بات کہہ بھی دے تو انہیں پھٹ سے یاد آ جاتا ہے کہ ہمارے تو اپنے بچے نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو رہے ہیں۔اقتدار پر قابض سیاسی لیڈران چاہیے وہ ماضی کے ہوںیا موجودہ وقت کے، بگڑتے ہوئے تعلیمی نظام کو سدھارنے میںبڑے بڑے اور بے شمار دعوے تو کرتے ہیںلیکن اُن کے دعوئوںکی پول صاف طورپر اُس وقت کھل جاتی ہے جبکہ وہ خود اپنے بچوںکو سرکاری اسکولوںمیںپڑھانے پر راضی نہیں ہوتے۔
عجیب اتفاق ہے کہ سرکاری تعلیمی ادارے میںتعینات ایک اُستاد ،جو خود اپنے بچوںکو پرائیویٹ اسکول میںتعلیم کے زیور سے آراستہ کرارہا ہے، آسانی سے یہ کہہ دیتا ہے کہ تابناک مستقبل کیلئے والدین اپنے بچوںکا داخلہ سرکاری اسکولوںمیںہی کرائیں۔ گو کہ لوگ یہ بھاشن سنتے اور خاموش ہوجاتے ہیں لیکن اِس کا ہر گز یہ مطلب نہیںکہ سچائی پر پردہ پڑا رہے اور کوئی بھی اِس پردہ کو ہٹانے کی زحمت گوارہ نہ کرے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سرکاری سکولوں میں تعلیم معیاری اور سستی ہے تو پھر اُن اساتذہ اور لیڈران کے اپنے بچے سرکاری سکولوں سے غائب کیوں؟کیوںزیادہ تر نجی تعلیمی اداروںکے مالکان یا تو سیاستدان ہیںیا پھر اساتذہ؟ کیا وہ اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دینا ہی نہیں چاہتے یا پھر وہ معیاری اور سستی تعلیم کا کھوکھلا اور جھوٹا ڈنڈورہ پیٹ کر لوگوں کو بیوقوف بنانے میں مصروف ہیں ؟ یا پھر غریب بچوںکوتعلیمی لحاظ سے مزید پسماندگی کی طرف دھکیلنے اور امیر کو مزید سہولیات سے استفادہ کرنے والا فارمولہ اپنا کر تعلیم کی خرید و فروخت کا دھندہ بنا کراپنی مٹھی میںرکھنا چاہتے ہیںاس لئے کہ کل کسی غریب کا بچہ اچھی تعلیم حاصل کر کے ہمارے برابر کھڑا ہو کر تعلیمی خریداری کے اس دھندے کو بند نہ کر دے۔ سرکاری سکولوں میں اس وقت تعلیمی نظام اس قدر بگڑچکا ہے کہ ایک مزدور پیشہ انسان بھی اپنے بچوں کا نجی تعلیمی اداروں میں داخلہ کرا تا ہے۔جو لوگ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخلہ کرانے پر مجبور ہیں وہ یہ رونا روتے ہوئے کہتے ہیں کہ کاش ہمارے پاس بھی آمد ن کا کوئی راستہ ہوتا تاکہ ہم بھی اپنے بچوں کا نجی تعلیمی اداروں میں داخلہ کرا کے انہیں اچھی تعلیم سے آراستہ کراتے۔ کچھ لوگوںکاکہنا ہے کہ اس تمام صورتحال کاذمہ دار اگر ہے تو وہ سرکار کا نظام ہے جس نے سکولوں کو دانش کدہ کی بجائے کریانہ کی دکان بنا کر رکھ دیاہے۔اساتذہ جو بچوں کو علم کے نور سے منور کیا کرتے تھے، اُنہیں بی ایل اوزبنا کررائے دہندگان کی گنتی کا طالب علم اور مڈ ڈے میل کا اکائونٹس اسسٹنٹ بنا کر رکھ دیاگیا ہے ، کچھ اساتذہ کو مڈڈے میل کا سامان جیسے چاول ،تیل ،دالیں وغیرہ ڈھونے کا پابند بنا کراستاد کی عظمت کو خاک میں ملانے کا کام انجام دیا گیا ہے۔ کیا ایسے نظام ِتعلیم میں والدین اپنے بچوں کو رکھنا پسند کریں گے؟تو جواب نفی میں ہوگا۔
سرکاری سکولوں میں بگڑتے نظام تعلیم میں جہاں سیاسی کارندوں کے غیر منصفانہ اور غیر دانشمندانہ اقدام کا ہاتھ ہے وہیں اسکولوں میں تعینات ایسے بھی اساتذہ ہیں جو سرکار ی سکولوں میں تعلیمی نظام کی بہتری میں نہایت ہی غیر سنجیدہ ہیں۔گوکہ سرکاری سکولوں میں آج بھی ایسے اساتذہ ہیں جو بگڑے تعلیمی نظام کو سدھارنے کی تگ و دو میں ہیں لیکن اِن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔بگڑے تعلیمی نظام کی ایک بنیادی وجہ اساتذہ کا بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ بھی ہے ۔اساتذہ کا اپنے طالب علموں کے ساتھ غیر ضروری دوستانہ رویہ اگر نظام تعلیم کی بگڑی صورتحال کی ایک اہم وجہ ہے تو وہیں اس وجہ کو مضبوطی بخشنے میں والدین بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ دور ِ حاضر میں جب والدین اسکولوں میں اپنے بچوں کا داخلہ کراتے ہیں تو وہ یوں سمجھ لیتے ہیں کہ گویا اب ہم نے اپنے بچے کے اساتذہ یا پھر اس سکول کیساتھ بیعت کر لی کہ یہاں سے اب ہمارا کام ختم۔ بچہ سکول کب جاتا ہے ، کب وہاں سے واپس لوٹتا ہے، وہاں کیا پڑھتا ہے اس سے والدین کا کوئی لینا دینا نہیں انہیں تو بس بچہ پاس ہونا چاہیے وہ نقل کر کے پاس ہو جائے یا پھر پیسہ دیکراِس کی کوئی پرواہ نہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ اکثر بچے اپنے اساتذہ کے غیر ضروری دوستانہ رویہ اور والدین کے غیر سنجیدہ رویے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر سکولی اوقات میں کلاس روم سے بھاگ آتے ہیں اور اوباش قسم کے لڑکوں سے اپنی دوستی بڑھا کر خود کو تباہی کی طرف دھکیلتے ہیں ،آئے روز سکولوں سے بھاگ بھاگ کریہ طلباء آہستہ آہستہ منشیات کی مہلک وباء کے شکار ہو جاتے ہیں ،پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ یہی بچے ،جو کل کا مستقبل ہوتے ہیں، منشیات کا ایسا دھندہ کرتے نظر آتے ہیں جس سے پورا سماج متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
لہٰذا اساتذہ ، اسکولوں و کالجز کے پرنسپلز یا پھر تعلیمی ٹھیکیداروں کو نجی تعلیمی اداروں پر لگام کسنے سے قبل اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ کیا سرکاری سکول میں تعلیمی نظام کے بگڑنے کی وجہ کہیں ہم خود ہی تو نہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر اس صورتحال کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرانے کے بجائے سب لوگ اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اس کونبھائیں وگرنہ یہ لفاظی جنگ تعلیمی نظام کو سدھارنے کیلئے کارآمد ثابت نہیں ہو سکتی بلکہ آپسی انتشار کا سبب بن سکتی ہے۔ لباس ِغیر پہ اُنگلی اٹھانے سے پہلے گریباں اپنی نظر میں رہے تو اچھا ہے۔کیونکہ نجی تعلیمی ادارے بھی تو ہمارے ہی ہیں، اُن کے مالکان بھی تو ہم خود ہی ہیں، یعنی کہ تمام برائیوں کی جڑ ہم خود ہی ہیں۔
موبائل نمبرات:9797110175،780918848
ای میل: [email protected]