بکھرے رنگ

سیما گھر میں اکیلی تھی۔ گھر کے سبھی لوگ باہر گئے تھے ۔ رات کا وقت تھا ۔ موسم بہت خراب تھا۔ اندھیری رات میں بارش بہت تیزی سے ہو رہی تھی۔ سیما اپنی پڑھائی میں مصروف تھی۔ بادل زور سے گرجا اور لائٹ چلی گئی۔ ابھی وہ کتابیں کو سمیٹ ہی رہی تھی کہ اچانک گھر کے پیٰچھے والی کھڑکی کے شیشے ٹوٹنے کی آواز آئی۔ سیما ڈر گئی۔ لیکن اس نے ہمت کی اور ڈرتے ڈرتے اُس کمرے کی طرف دھیرے دھیرے بڑھی۔ موم بتی کی ہلکی روشنی میں اسے زیادہ کچھ دیکھائی نہیں دے رہا تھا۔ لیکن وہ ہاتھ میں موم بتی لئے گھبرائی ہوئی کمرے کے کبھی اس طرف جاتی اور کبھی اس طرف۔ تبھی اُسے کوئی آہٹ سنائی دی۔ اسے پورا یقین ہو چلا تھا کہ کمرے میں کوئی ہے کہ اچانک اسے ایک کالا سایہ دکھائی دیا ، اس سائے نے کالے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور چہرے پر کالا ماسک تھا۔خوف و دہشت سے سیما کے پسینے چھوٹنے لگے ۔ اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا ، ک، ک ، کون ہے وہاں؟ سامنے کیوں نہیں آتے؟ میں کہتی ہوں سامنے آؤ۔ تبھی پیچھے سے ایک ہاتھ اسکی طرف دھیرے دھیرے بڑھنے لگا۔ سیما  نے جیوں ہی پیچھے مڑنا چاہا کہ تبھی ہاتھ نے اسکا منہ بند کر دیا۔  سیما  کے ہاتھ سے موم بتی فرش پر گر گئی اور چاروں طرف گھپ اندھیرا چھا گیا۔اور اسے چاروں طرف اندھیرے کے سوا اور کچھ دیکھائی نہیں دے رہا تھا۔ سیما چیخنا چاہتی تھی لیکن حلق سے آواز نہیں نکل پارہی تھی اس نے اپنے آپ کو چھوڑانے کی بہت کوشش کی ،ہاتھ پیر مارے لیکن ہاتھ کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ لاکھ کوششوں کے باوجود اپنے آپ کو آزاد نہیں کرا سکی۔ وہ ہاتھ سیما کو گھسیٹتے ہوئے بیڈروم کی طرف لے گیا اور اُسے بستر پر پٹخ دیا۔ سیما ابھی بھی اس سے آزاد ہونے کی جدوجہد کر رہی کہ ا سکی نظر ہاتھ کی انگوٹھی پر پڑی ۔ وہ انگوٹھی کچھ عجیب تھی اس پر کھوپڑی کا نشان بنا تھا۔
سیما جب ہوش میں آئی تو اس نے اپنے کپڑوں کو پھٹا ہوا پایا۔ اسے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ اسکے ساتھ کیا ہوا ہے ۔دروازے پر دستک ہوئی سیما نے دروازہ کھولا تو ماں سامنے کھڑی تھی ماں کے گلے لگ کر سیما بے تحاشہ رونے لگی۔ 
سیما کو روتے دیکھ ماں کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے اور وہ بار بار پوچھنے لگی ، سیما بیٹی کیا ہوا؟ تو کچھ بولتی کیوں نہیں۔ میرا دل بہت گھبرا رہا ہے، کچھ تو بول میری بچی کیا ہوا؟ سیما نے بھرے گلے سے پوری تفصیل ماں کے سامنے بیان کردی۔ پاپا نے پولیس کو کال کرنا چاہا تو ماں نے جھٹ سے ان کے ہاتھ سے رسیور لیکر فون پر رکھتے ہوئے کہا ۔ یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ پولیس کو فون کرنے سے یہ بات ،جو اس وقت گھر کی چار دیواری میں ہے،پورے شہر میں پھیل جائے گی ۔اس  میں ہماری اور ہماری بیٹی کی بدنامی ہوگی۔ اسلئے ہماری بھلائی اسی میں ہے کہ ہم خاموش رہیں اور سیما کی طرف دیکھتے ہوئے دھیمی آواز میں سختی سے کہا۔
چپ لڑکی ! خبردار یہ بات کبھی کسی کے سامنے کی تو۔
سیما کی ماں نے گھر کی صفائی ستھرائی کرکے ماحول ایسا بنا دیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
دن بیتنے لگے۔ ہر روز کی طرح سیما کالج جانے لگی کہ ایک دن جب وہ کالج سے لوٹی تو اس نے دیکھا کہ کچھ مہمان گھر میںآئے ہوئے ہیں۔ ماں نے سیما کو مہمانوں سے ملاتے ہوئے کہا ’’سیما یہ لوگ تمہیں دیکھنے آئے ہیں‘‘۔ سیما یہ سنتے ہی فورا گھر کے اندر تیزی سے داخل ہوگئی۔ 
’’شرما گئی !  میں دیکھتی ہوں ،‘‘ ماں نے کہا اور وہ بھی اسکے پیچھے اندر چلی گئی۔
’’ماں یہ کیسے ممکن ہے؟ کیا آپ نے ان  لوگوں کو میرے بارے  میں کچھ نہیں بتایا؟‘‘
ماں نے سمجھاتے ہوئے کہا’’ بیٹی! جو ہوا سو ہوا۔ اسے اب بھول جا۔ خوش قسمتی دروازے پر دستک دے رہی ہے، تو دروازہ بند مت کر ۔ خوشیوں کو اندر آنے دے۔ میری بیٹی! شاید قدرت کو یہی منظور ہے۔‘‘
’’لیکن ماں!‘‘، ’’لیکن ویکن کچھ نہیں ، میری بچی! آنسؤوں کو پونچھ ڈال اور۔۔۔۔ ‘‘، بس اتنا کہہ کر ماں اپنے آنسؤوں کو چھپاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔
گھر میں شادی کا ماحول تھا۔ ہر طرف شور و غل تھا۔ ہنسی کے ٹھہاکے گونج رہے تھے۔ ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔ 
ماں نے سیما کی سہیلیوں سے کہا ’’ ارے لڑکیوں سیما کو جلدی تیار کرو بارات آچکی ہے۔‘‘
’’موسی ! آپ پریشان نہ ہوں ہم سب کچھ کرلینگے، آپ جائیے اور مہمانوں کی دیکھ بھال کیجئے۔‘‘
لگن منڈپ سجا ہوا تھا۔  پنڈت منتر پڑھ رہا تھا۔ ’’ اوم سہاہا!  اوم سہاہا! کنیا کو لے آئیے، مہورت کا سمے بیت رہا ہے‘‘۔
ماں سیما کو منڈپ میں لے آئی اور کنیا دان کیا۔ پنڈت نے منتر پڑھنا شروع کئے۔ ’’ور ، ودھو پھیروں کے لئے کھڑے  ہو جائیے‘‘، کہتے ہوئے گھی آگ میں ڈالا۔
’’اب شادی سمپن ہوتی ہے۔ جائیے ماں باپ سے آشرواد لیجئے‘‘پنڈت نے دلہا دلہن سے کہا۔ ماں نے سیما کو گلے سے لگاتے ہوئے اسکی پیشانی چومتے ہوئے کہا ’’ سدا سہاگن رہو میری بچی! دودھوں نہاؤ پوتوںپھلو‘‘۔
اور ڈولی سسرال کے لئے روانہ ہوگئی۔
سسرال میں ساس نے پوری ریتی رواج سے سیما کا سواگت کیا۔اسکی  نذر اتارنے کے لئے روپیوں کو وارتے ہوئے کہا ’’میری بہو کو کسی کی نظر نہ لگے ‘‘اور نوکر کو دیتے ہوئے کہا ،’’ غریبوں میں بانٹ دینا۔‘‘
پھر لڑکیوں نے سیما کو گھیر لیا اور آپس میں ایک دوسرے کے کانوں میں کچھ کہتی اور زور زور سے ہنسنے لگتیں۔ لڑکیوں میں سے ایک لڑکی نے کہا ’’ بھابھی بہت سندر ہے‘‘ ۔ تو دوسری نے کہا ۔’’ آج نہ جانے ہمارے  بیچارے بھیا کا کیا حال ہونے والا ہے؟‘‘  اور پھر سب زور سے ہنسنے لگیں۔ تھوڑی دیر میں ساس وہاں آئی اور لڑکیوں سے کہا ’’ ارے لڑکیو آج بھابھی کو ساری رات یہیں بیٹھائے  رکھنا ہے؟ جاؤ بہو کو اس کے کمرے میں لے جاؤ تھک گئی ہوگی بیچاری۔‘‘
ٹھٹھولیاں کرتی ہوئی لڑکیاں سیما کو کمرے میں لے گئیں اور بیڈ پر بیٹھا دیا اور ہنستے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئیں۔
سیما کمرے میں اکیلے بیٹھی سوچ میں غرق تھی کہ آنند کمرے میں داخل ہوا۔ سیما سر جھکائے گھونگھٹ لٹکائے اپنے کو سمیٹ رہی تھی۔ آنند دھیرے سے بیڈ پر بیٹھ گیا اور سیما سے کہا’’سیما تم نہیں جانتی کہ میں تم سے کالج کے پہلے دن سے محبت کرتا ہوں ، لیکن کبھی ہمت نہیں ہوئی تم سے کہنے کی۔ لیکن تمہیں پاکر آج میں بہت خوش ہوں تم میری۔۔۔۔‘‘
بات کو کاٹتے ہوئے سیما بیڈ سے کھڑی ہو گئی اور ’’نہیں !میں آپ کے قابل نہیں ہوں‘‘ ، کہتے ہوئے زور سے رونے لگی۔
’’تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟ ‘‘آنند نے پیچھے سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ’’کہاسیما! ‘‘
سیما اسکے ہاتھ کو کندھے سے ہٹاتے ہوئے بولی ’’ میں سچ کہہ رہی ہوں ! میں آپ کے قابل نہیں ہوں ، میں آپ کو دھوکے میں رکھنا نہیں چاہتی ، میں شادی سے پہلے ہی آپ کو بتانا چاہتی تھی لیکن ماں نے روک دیا ‘‘ا وریہ کہتے ہوئے سیما نے ساری بتیا آنند کو سنا دی۔ 
کمرے میں خاموشی چھاگئی ۔ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد آنند سیما کے قریب گیا اور سیما سے کہا ’’تم ابھی بھی پَوِتّر ہو ۔ تمہارے بے گناہ آنسؤوں نے تمہیں اور بھی پَوِتّر کر دیا ہے۔‘‘
یہ سنتے ہی سیما آنند کے پیروں میں گر گئی۔ آنند نے سیما کو اٹھاتے ہوئے کہا، ’’ ارے پگلی! پونچھ ڈالو ان آنسوؤں کو اور جو ہوا بھول جاؤاسے ۔ آج ہماری سہاگ رات ہے نا اور ہماری نئی زندگی کی شروعات ‘‘ یہ کہتے ہوئے آنند نے سیما کو گلے سے لگا لیا۔ من ہی من سیما اپنے آپ کو دنیا کی سب سے خوش نصیب لڑکی تصور کر رہی تھی اور بھگوان کا ہزار ہزار شکر ادا کر رہی تھی۔
آنند نے سیما کو بیڈ پر بٹھایا اور پانی کا گلاس دیا ۔ سیما نے جیوں ہی گلاس لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا تبھی اسکی نظر آنند کی انگوٹھی پر پڑی اور اُسکے گلاس ہاتھ سے چھوٹ کر سیما کے ارمانوں، یقین اور دل کی طرح چکنا چور ہوکر زمین پر بکھر گیا ۔
٭٭٭٭٭
بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری