عظمیٰ نیوز سروس
جموں//نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمارچودھری نے کل ایوان کو آگاہ کیا کہ ضلع بڈگام میں مجموعی طور پر 199 اینٹ بھٹے ہیں جن میں سے 128 اینٹ بھٹوں نے رواں مالی برس کے دوران اینٹ مٹی کے اِستعمال کے عوض ڈِسٹرکٹ منرل آفیسر بڈگام کے پاس رائلٹی جمع کی ہے۔ ایوان میں رُکن اسمبلی ڈاکٹر شفیع احمد وانی کی طرف سے اُٹھائے گئے اینٹوں کے بھٹوں سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئینائب وزیر اعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ محکمہ جیالوجی و مائننگ کو یہ ذِمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ یونٹ ہولڈروں کی جانب سے پروسسنگ کے لئے حاصل کئے جانے والے خام مال کی نگرانی کرے اور اِس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی ترسیل صرف جائز ذرائع سے ہو۔نائب وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ڈِسٹرکٹ منرل آفیسر بڈگام کی جانب سے فراہم کردہ ریکارڈ کے مطابق 107 کرشر یونٹ مالکان اور 44 ہاٹ ویٹ مکس پلانٹس محکمہ کے ویب پورٹل geologyminingjk.gov.in پر رجسٹرڈ ہیں جہاں قانونی مقدار کی تازہ کاری اور اس کی فروخت وٹرانسپورٹیشن صرف درست اِی چالان اور اِی پرمیٹس کے ذریعے کی جاتی ہے۔چودھری نے رُکن اسمبلی علی محمد ڈار کی طرف سے اُٹھائے گئے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ حکومت ضلع بڈگام میں اینٹ بھٹوں کی حالیہ انہدام کے معاملے کا جائزہ لے گی۔