بڈگام کے مقتول قصاب کے لوحقین کا پر یس کالونی میں احتجاج

 سرینگر//پیسوں کی لالچ میں 9 ما ہ قبل مٹن اننت ناگ میں مبینہ طور قتل کیے گئے بڈگا م کے ایک قصاب کے لوحقین نے پر یس کالونی میں صدائے احتجاج بلند کرتے ہو ئے اس کیس کی عدالتی کاروائی کو سرینگر یا بڈگام کی کسی عدالت میں منتقل کرنے اور قاتلوں کو قرار اقعی سزا دینے کامطالبہ کیا ہے۔ اوم پورہ بڈگام سے تعلق رکھنے والے مشتاق احمد گنائی ولد غلام رسول گنا ئی جو تین بچوں کا باپ تھا،کے رشتہ داروں جن میںخواتین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، پریس کالونی میں نمودار ہو ئے اور انہوں نے زوردار نعرہ بازی کرتے ہو ئے کہا کہ29 جون2017 کو مشاق احمد جو پیشے سے ایک قصاب تھا، کو ایک نامعلوم جگہ سے فون آ یا کہ وہ مال لینے کیلئے مٹن اننت ناگ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اڑ ھائی  لاکھ کی رقم سمیت گھر سے نکلا۔ دوسر ے روز اسکا موبائیل فون سوچ آ ف ہوا تاہم پولیس کی نوٹس میں معاملہ لائے جانے کے بعد اسکی لاش مٹن کے جنگل سے پائی گئی جہاں اسکو قتل کرنے کے بعد زمین میں چھپا یا گیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے اسے فو ن کیا تھا انہی نے اس کی رقم چھین کر اسے بے دردی سے قتل کیا تھا۔ انہوںنے کہا کہ ایس پی  بڈگام اور دیگر آ فسران کی یقین دہانی کے بعد مشتا ق احمد کو سپر د خاک کیا گیا اور یہاںکافی دیر تک اسکے قتل میں ملوث افراد کو سزا دینے کے مطا لبے کو لیکر احتجاجی مظا ہروں کا سلسلہ جاری رکھا۔ مقتول کی بہن شکیلہ نے احتجاج کے دوران بتایا کہ  بعد میں اس ضمن میں مٹن اننت ناگ پولیس تھانہ میں کیس درج کیا گیا اور اسکے قتل میں ملوث تین افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا جو اس وقت اننت ناگ کے جیل میں بند ہیں۔ انہوںنے کہا مشاق چار بہنوں کا اکلو تا بھا ئی اور دو کمسن بچوں کا باپ ہے ۔ مشتاق کے والد نے بتایا کہ ’’ اس وقت یہ کیس اننت ناگ کی عدالت میں زیر سماعت ہے لیکن وہاں جانے سے ہمیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے‘‘۔ انہوںنے الزام عائد کیا کہ’’ پچھلی سماعت کے دوران پولیس ہتھکڑیاں پہننے ایک ملزم نے میر ی بیٹی کو دھکہ دیا اور اسے جان سے مارنے کی دھمکی دی ۔انہوںنے یہ بھی مانگ کی کہ اس کیس کے سلسلے میں گرفتار تینوں ملزمان کو پھا نسی دی جانے چاہیے‘‘۔(سی این ایس)