اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی خاطر پیغمبر اعظم سرور دو جہاں حضرت محمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسیلہ ہدایت بناکر بیجھا، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے بنی نوع انسانيت کے اوپر حجت قائم ہوں تاکہ آخرت میں بندہ کوئی عذر Excuse پیش نہ کرسکیں ۔آغازِ کائنات سے اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے اچھائیاں اور برائیاں اس وسیع کائنات کے ساتھ پیوست کر رکھی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے تخلیقی creation پلان میں حق مقابلہ ناحق، اچھائی مقابلہ برائی،یعنی یہاں ہر چیز کا ضد against پایا جاتا ہے ۔ اللہ کے منصوبہ بند دنیا میں انسان کی آزمائش کے سامان رکھے گئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے بنائےہوئے منصوبے میں چاہیں وہ برائیاں ہوں، اچھائیاں ہوں۔ یہ ایک مضبوط سے مضبوط تر درخت کی مانند ہے۔ جس کو جڑ سے اکھاڑنا آسان بات نہيں۔کیوں کہ سماج میں برائی ختم کرنے کا نشانہ فی الاصل برائی نہيں ہے بلکہ اصل نشانہ سماج میں برائیوں کا اثر قبول کرنے والے افراد ہیں ۔ فطرت میں رکھی ہوئي چیزوں کو جڑ سے بزور ختم کرنے کی کوشش اللہ کی قدرت میں مداخلت کے ہم معنی ہے۔ برائی کو جڑ سے ختم کرنا کسی کی بس کی بات نہيں ۔جب تک کہ انسانوں کو برائی کرنے سے نہ روکا جائے ۔ برائی کا سدباب یہ نہيں ہے کہ داعی بمقابلہ برائی کا مسئلہ بنایا جائے بلکہ اصل مسئلہ داعی بمقابلہ مدعو کا ہے۔ برائی ہمیشہ آپ کی اردگرد آپ کی سوسائٹی میں آپ ہی کی دہلیز پر پھل پھول رہی ہے، جیسے کوئی کانٹوں کی بیچ سے اپنا دامن سمیٹ کر راستہ بناتا ہے تاکہ کہیں کانٹے نہ چب جائیں۔ اسی طرح اللہ نے انسان کی آزمائش کے لئے اچھائی و برائی رکھی تاکہ دونوں میں فرق کرکے اچھائیوں کی جانب چلیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئیوں میں سے ایک پیشن گوئی یہ بھی ہے کہ قیامت نہيں آسکتی جب تک برائی اپنی آخری حد تک نہ پہنچے۔ گویا خاتمہ دنیا کے ساتھ ہی خاتمہ برائیوں کی وابستگی ہے ۔ سماج کے لئے ایک بااخلاق باوقار و باشعور قوم تعمير کرنے کے لئے داعی کی حیثیت سے پہلا رول ایک ماں باپ کے اپنے بچوں کو اچھی تربیت دینا ہوتا ہے۔ اس کے بعد تدریجی بنیاد پر اس کا ارتقا مرحلہ وار ہوتا ہے۔
قرآن نے امر بالمعروف و النہی عن المنکر کی دعوت و تبليغ کا حکم دیا ۔ امر بالمعروف کیا ہے ؟ اچھائیوں کی طرف بلانا اور نہی عن المنکر ، برائیوں سے روکنا ۔ معروف کا تو کچھ حد تک کام ہورہا ہے لیکن نہی کی دعوت انتہائی سست رفتاری سے پیشِ قدمی کررہی ہے ۔ اگر آپ برائی روکنے کی کوشش کریں، لیکن برائی کا مکمل سدباب نہيں ہورہا ، تو بھی آپ جانیں کہ بہت تھوڑی ہی سہی آپ کی یہ روش برائی کو سست کرنے میں سود مند ہے ۔ اس سے برائی پھیلنے کی رفتار کم سے کم ضعیف تو ہو جائے گی۔ برائی روکنے کی کوشش سے برائی زیادہ نہيں بڑھے گی۔ بہر کیف! معاشرے کی موجودہ اخلاقی صورتحال کا ایسا برا حال ہے کہ برائی اپنی آخری انجام کی اور رواں دواں ہے ۔ نوجوان نسل میں برائیاں گویا معاشرہ کا مستقبل تباہی کے دہانے پر ۔نوجوان نسل کی بربادی سگریٹ کے ایک کش سے لے کر نشیلی گولیوں تک کا سفر لڑکپن سے شروع ہوتی ہے ۔ نوجوان عمری کی اوائل شباب teen age سخت دشوار طلب مرحلہ ہے۔ یہ مرحلہ مستقبل کا آئینہ ہے۔ سرفہرست چند اہم برائیوں بلکہ تباہ کاریوں کا ذکر کیا جاتا ہے یہ وہ خرابیاں ہیں جن پر اگر سختی سے قابو پالیا جائے تو معاشرہ کی اصلاح ممکن ہے وگرنہ ذلالت و گمراہی کے مزید شاہراہیں کھلتی چلی جائیں گی ۔ ہمارا معاشرہ جس قدر اخلاقی بحران کا شکار ہے شاید پہلے کبھی اتنا نہيں رہا ۔ زیادہ تر اس اخلاقی بحران کا شکار ہماری نوجوان نسل ہے ۔ انہیں برے کاموں کی لت نےنشہ چوری، ڈاکہ ذنی، جنسی زیادتی، بدفعلی ،ڈرامہ و فلم سازی ،ناچ گانے ، فضول اور بیہودہ گفتار میں پوری سراعت کر چکی ہے اور معاشرے کے دوسرے لوگوں کے لئے پریشانیوں اور خطرے کا باعث بنتے ہیں۔مذکورہ برائی کے کئی نتيجے میں ایک یہ بھی ہے کہ معاشرے کی بد حالی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ لوگوں کے گھر محفوظ نہيں۔ راتوں رات کیا بلکہ دن دھاڑے لوگوں کے اموال لوٹے جارہے ہیں۔ بدمعاش اور لفنگ قسم کی ٹولیاں ہر ایک جگہ چھائے ہوئےہیں۔ ان کے اندر برے جرائم و عزائم نقطہ انتہا پرہیں۔ خدا کی بیخوفی کی حد تو تب ہوتی ہے جب مساجد کے نلکے اسپيکر اور دوسرے اشیاء کی چوریاں کی جاتی ہے۔ مذکورہ بالا برائیوں کے علاوہ اور بھی بہت سی معاشرتی برائیاں ہمارے معاشرے میں جنم لے چکی ہے۔ برائیاں اور بد اخلاقیاں جو پوری طرح معاشرہ کی رگ رگ میں سرایت کر چکی ہے۔ معاشرہ کی اور ایک برائی روسٹر پرینک Roster prank کی برائی نے لی ہے، جس میں prankster دوسرے انسانوں کا مذاق اڑاتا ہے اور اکثر نوجوان بھی انہیں ہاتھوں ہاتھ لے کر خوب لئکس و شئر کرکے ان کی تعریف و توصیف اور حوصلہ افضائی کرتے ہوئے برائی میں شریکِ حال و مددگار ثابت ہورہے ہیں ۔ اس سے نوجوان نسل میں منفی اثرات مرتب ہوتے ہوئے سنجيدگی و بردباری کا فقدان لازمی اور بے راہ روی پروان چڑھتی ہے۔ایک مسلمان پر جس طرح دوسرے مسلمان کی جان اور اس کے مال کو نقصان پہنچانا حرام ہے اس طرح اس کی عزت اور آبرو پر حملہ کرنا بھی قطعًا ناجائز ہے ۔ قرآن میں آیا ہے کہ اے ایمان والو نہ مَردوں کی کوئی جماعت دوسرے مَردوں کا مذاق اڑائے ۔ ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، کیا عجب وہ ان سے بہتر نکلیں ۔( سورۃ الحجرات ) کسی کی تحقیر اور بے عزت کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ کوئی کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرے گا تو اس پر اللہ تعالی فرشتوں اور تمام جہاں کے لوگوں کی لعنت ہوتی ہے ۔ (صحیح بخاری) ۔گناہوں کا سرزد ہونا یا نہ ہونا انسان کی اپنے نفس سے ہے زمانہ سے نہيں اور نہ ہی زمانہ ہمیں برے افعال پر یا برائی کی طرف راغب کرتا ہے بلکہ انسانی سوچ ہی اچھائی و برائی کی طرف اپنی نفسانی خواہشات اور بری سوسائٹی کو جنم دیتی ہے ۔الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڑیا کا غلط ستعمال ،انٹرنيٹ کا برا استعمال یہ سب ہم خود کرتے ہیں ۔ ورنہ تو انٹرنيٹ نے سہل کردیا ہے کہ نئی نئی کتب فری dwonload کرکے ان کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ عربی انگریزی اور دیگر دینی و ادبی لٹریچر موجود ہے لیکن چیزوں کا استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اس کا اچھا استعمال کرتا ہے یا برا ۔ چیزیں اپنی آپ بری نہيں ہوتی بلکہ انسان کی سوچ اس کو برے کاموں کے لئے استعمال کرتا ہے ۔ اگر قوم میں اصلاحِ احوال کا جذبہ پیدا نہيں ہوا یا اپنے اپنے مذاہب کی اخلاقیات کی جانب مرکوز نہ ہوئیں تو وہ ہمیشہ برباد ،ناکام و نامراد ہوجاتے ہیں ۔ ہر برا عمل خواہ اس کی نوعیت حقیر سے حقیر تر کیوں نہ ہو ۔ جب بھی وہ کسی معاشرے کا اجتماعی کردار بن جاتی ہے تو سمجھ لیں کہ اس کی تباہی بربادی کا سماں بن گیا ہے۔ زندگی سفرِ حیات پر رواں دواں ہے۔آخر اچانک وہ دن آنے والا ہے کہ جب قیامت کی الارم alarm بجے گی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے علامت قیامت کی مدت اپنے دو انگلیوں کے درمیان کا فاصلہ یعنی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے سے لے کر قیامت تک اتنا فاصلہ ہے۔ایک صاحبِ علم و مفکر مولانا وحید الدین خان صاحب نے علامت قیامت پر تبصرہ کرتے ہوئے اگرچہ ان کا یہ تبصرہ قطعی نہیں ہے پر علامات قیامت کی رو سے مفید ہے۔بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ اپنے خاتمہ end پر پہنچ گئی ہے۔اکیسویں صدی غالباً انسانی تاریخ کی آخری صدی ہے۔اس کے بعد انسان کے اوپر شاید ہی بائیسویں صدی آنے والی ہو ،موجودہ صورتحال یہ ہے کہ برائی اپنی آخری حد تک پہنچ چکی ہےاور جب برائی اپنی آخری حد تک پہنچ جائے تو انسان ،خدا کی زمین پر مزید بسنے کا جواز justification کھودیتا ہے………..جب انسان مجموعی طور تمام برائیوں کو حدِ تجاوز کرتا ہے تو اس کے بعد یہ ناممکن ہے کہ انسان کو جینے کا مزید دوام ملے۔ایسی مثالیں قرآن و سنت و تاریخ میں بے شمار ملتی ہیں کہ ایک قوم کو برائی میں حد سے تجاوز کرنے پر نسل در نسل تاریخ سے ہٹادیا گیا ۔
)اومپورہ ہوسنگ کالونی بڈگام (
رابطہ۔9906736886