کٹھوعہ // ’جب ارادہ مضبوط ہوتو راستے خود ہی نکل آتے ہیں‘ جس طرح سے دن بہ دن ہماری آبادی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس لحاظ سے ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی ضرورت ہے یہ ضرورت تو پہلے بھی تھی لیکن بد قسمتی سے ا س طرح درخت لگانے کی مہم دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔ کٹھوعہ کی تحصیل بنی لوانگ کے مقامی لوگوں نے عید گاہ اور عید گاہ کے آس پاس اور سڑک کناروںپر درخت لگا نے کی مہم شروع کی جس میں چنار کے پودوں کے علاوہ دیگرکئی قسم کے پودے بھی لگائے گئے۔ ا س سلسلے میں مقامی ظہیر بٹ نے بتایا کہ ہمارا مقصد زیادہ سے زیادہ درخت اگانا ہے جس سے موسم گرما میں شدید گرمی کی لہر پر قابو پایا جا سکے اور ہماری مہم لگاتار جاری رہے گی۔انہوں کہا کہ بنی وادی قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور یہاں کی اونچی اونچی پہاڑیاں اور بہتے چشمے اور ندی نالے یہاں کی خوبصورتی کو حسین بناتے ہیں اور موسم گر ما کے شروع ہوتے ہی پڑوسی ریاستوں سے سیاحوں کا یہاں آنا شروع ہو جاتا ہے اور اگریہاں کی عوام قسم قسم کے پیڑ پودے لگا کر یہاں کی خوبصورتی کو اورزیادہ حسین بنا سکتے ہیں جس سے یہاں کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ بنی وادی سیاحوں کی نظروں میں دلچسپ سیاحتی مقام بن جائے گا اور عالمی سطح پر بھی سیاحتی مقام حاصل کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہریالی ماحولیاتی آلودگی سے انسانی زندگیوں کو محفوظ رکھتی ہے صبح سویرے کھلی فضا میں یا کسی باغیچے میں ننگے پاؤں چہل قدمی کرنا یا ہلکی پھلکی ورزش کرنا بھی انسانی صحت کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے صبح سویرے درختوں پر پڑے ہوئے شبنمی قطرے ایک اپنا ہی لطف دیتے ہیں یہ تبھی ہی ممکن ہے جب ہم سب زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں گے اور ان کو بچانے میں اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ درخت لگانے کے بے شمار فوائد ہیں جن میں سے ایک درخت ایک سال میں 10 ایئر کنڈیشنز کے برابر مسلسل ہوا دیتا ہے، 750 گیلن برساتی پانی کو جذب کرتا ہے، 60 پونڈ آلودہ ہوا کو صاف کرنے میں مدد دیتا ہے اور ہمیں درختوں کے فوائد سے آگاہی ہونا لازمی ہے جس کی مدد سے آئندہ نسلوں کو موسمی تغیرات سے بچانے کے قابل بھی ہو جائیں گے ۔