بلوں کی عدم ادائیگی پر تعمیراتی ٹھیکیداروں کی ہڑتال میں لچک

سرینگر//تعمیراتی ٹھیکیداروں نے ٹینڈروں اور تعمیراتی کاموں کے بائیکاٹ کے بیچ سڑکوں کی مرمت کوبائیکاٹ سے مستثنیٰ رکھتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی و سماجی انجمنوں کی اپیل کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ لیاہے۔ٹھیکیداروں نے20اپریل کو گورنر ہاوس چلو کال کو بھی موخر کرنے کا اعلان کیاہے۔ واجب الادا رقومات کی عدم ادائیگی کے خلاف ایک ماہ سے ہڑتال پر بیٹھے تعمیراتی ٹھیکداروں نے جمعہ کو اس وقت اپنے موقف میں لچک لائی،جب انہوں نے سڑکوں کی مرمت کوبائیکاٹ سے مستثنیٰ رکھنے کا اعلان کیا۔ چیف انجینئرنگ کمپلکس راجباغ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ کانٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے لیڈر فاروق احمد ڈار نے کہا کہ تجارتی پلیٹ فارم کشمیر اکنامک الائنس اور سوشو اکنامک کارڈی نیشن کمیٹی کے علاوہ محمد صادق بقال کی سربراہی والی کے ٹی ایم ایف کی اپیل کے بعد انہوں نے یہ فیصلہ لیا۔تاہم انہوں نے کہا کہ ٹھیکدار تعمیراتی کاموں اور ٹینڈروں کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیول سوسائٹی اور تجارتی انجمنوں نے اپیل کی تھی کہ سڑکوں کی حالات نا گفتہ بہہ ہے جس سے عوام بالخصوص مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اس تجویرز کو زیر غور لاتے ہوئے یہ فیصلہ لیا۔پریس کانفرنس میں موجود جوائنٹ کانٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے ایک اور لیڈر غلام جیلانی پرزہ نے کہا کہ وہ بھی سماج کا ایک حصہ ہے اور سڑکوں کی مرمت بھی ضروری ہے کیونکہ عوام کو اس سے دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پرزہ نے تاہم اس بات کو مسترد کیا کہ یہ فیصلہ دربار منتقلی یا سرکار و انتظامیہ کے کسی دبائو کے نتیجے کے بعد کیا گیا گیا ہے۔ انہوں نے 20اپریل کو گورنرآفس چلو کال کو موخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نئی تاریخ کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ ٹھیکداروں کی ہڑتال کے نتیجے میں سڑکوں کی مرمت اور تجدید کا کام ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے جس کے نتیجے میں عام لوگوں بالخصوص مریضوں کو اسپتال پہنچنانے میں دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔