بغیر ِجہیز کے بیٹیاں مظلوم کیوں؟

 عورت ۔جس کا مطلب ہے پردےمیں رہنے والی چیز ۔ لیکن افسوس ! آجکل کے پڑھے لکھے کچھ مرد حضرات بھی جاہل مطلق نظر آتےہیں ۔ جنہوں نے عورت پر اتنا ظلم و تشدد کیا کہ وہ اب عورت نہیںبلکہ سوشل میڈیا پرایک تماشا بن گئی ہے ۔ لوگوں نے زمانۂ جاہلیت کی طرح اسکو پیسہ کمانے کاذریعہ سمجھاہے ۔  ان کی بےپردہ تصاویر اپلوڈ کی جاتی ہیں۔ عورت کو بے پردہ کرنا ،بات بات پر ٹوکنا ،ذلیل و خوار کرنا جاہل مردوں کا ہی کام ہے۔ اسلام نے جہاں عورت کو شوہر کی اطاعت کا درس دیا وہاں شوہر کو بھی بیوی کے حقوق بتادیئے اور اسکے ساتھ محبت و شفقت کے ساتھ پیش آنے کا درس دیا ۔ لیکن آجکل ہمارا سماج اس کےبالکل اُلٹا کر رہا ہے ۔یہاںاگر شوہر بیوی کا قتل کرتا ہے پھر بھی بچ کے نکل آتا ہے۔ مجرم کو اپنے جرم کی مناسب سزا نہیں ملتی جبکہ اسلام نے قتل کے بدلے قتل کا فیصلہ آج سے چودہ سو سال پہلے سنایا ہے ۔ ہمارا موجودہ سماج اتنا بگڑ چکا ہے کہ عورت کو محض ایک کھلونابناکے رکھ دیا گیا ہے۔ اسکو زمانۂ جاہلیت کی طرح استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہے ۔ غلط رسم و رواجوں نے ایک عورت کا جینا حرام کر دیا ہے ۔ ابھی شادی کی بات ہی ہوتی ہے کہ سسرال والے جہیزکی فہرست دے ڈالتے ہیں ۔ نتیجتاً غریب باپ کو اپنا سب کچھ فروخت کرنا پڑتاہے یاقرضہ لینا پڑتا ہے ، جسکی ادائیگی وہ عمر بھر نہیں کرسکتا۔ 
 اسلام نےجو عزت و مرتبہ عورت کو دیا ہے، اُس سے باقی تمام مذاہب قاصر ہیں۔ لیکن آج کے پڑھے لکھے جاہل لوگ علم کی عظمت کو نہیں سمجھ پاتے،جسکی وجہ سے انکے دل انسانیت سے خالی ہوچکےہیںاور  وہ صنف نازک کے ساتھ ظلم و زیادتیاںکررہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ایک انسان کا کردار سنورارنے میں اس کی ماں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اگروہ اپنے بیٹے کو دین اسلام کے مطابق عورت کی عزت و حرمت کا سبق سکھائے تو وہ کبھی بھی اپنی بیوی کو ذلیل نہیں کرسکتا ہے۔ آج کل کے اس جدید دور میں جو طرزِ عمل خواتین کے ساتھ اپنایا جاتا ہےاُس سے دورِ جہالت کے زمانے کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔ بے غیرتی کا عالم یہاں تک پہنچا ہے کہ اسقاط حمل کرکے بچیوں کو اس دنیا میں آنے ہی نہیں دیا جاتا۔اس سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عورت کی کتنی تذلیل کی جاتی ہے۔ حالانکہ عورت کو عزت و مرتبہ درجہ  اللہ رب العزت نے دیا ہے تو کسی انسان کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ خواتین کے حقوق کو پامال کریں۔معلوم ہوا کہ ایک مرد فرعون بن کرعورت پر َظلم ڈھاتا ہےاور اس کی توقیرو تکریم کو پامال کرتا رہتا ہے اور وہ یہ بھول رہا ہے کہ اللہ کا ایک نام واحدالقہار بھی ہے،جس کے سامنے ایک دن جواب دہ ہونا ہے ۔ اگر انسان کی قرآن پہ نظر ہوتی کہ عمل ِخیر کیا ہے اور عملِ شَر کیا ہے تو وہ کبھی بھی غلط کام نہیں کرتا ۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے کہ کسی جان کو ناحق قتل کرنا گویا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ عورت جو کہ انسانی نسلوں کی بنیا د ہے،گھروں کی تاج ہے،جسکے قدموں تلے بہشت رکھا گیا، اگر وہ ماں ہے ۔ 
لیکن آج کل اسی عورت کو باریک کپڑوں میں ملبوس رکھ کر اسکے جسم کی ساخت نمایاںکی جاتی ہے ۔ایک شوہرا اپنی بیوی کی عزت نہیں کرتا مگر غیر محرم عورتوں سےبخوش و خرم ملتا رہتاہے۔ ایک بات انسان کو یاد رکھنی چاہئے کہ جس گھر میں عورت کی عزت نہ ہو، وہ گھر آباد نہیں برباد ہوجاتا ہے ۔ قرآن پاک پر نظر ڈالی جائے، تو زوجین کے متعلق فرمایا گیا کہ’’ وہ ایک دوسرے کے لیے لباس ہیں،جسطرح لباس انسان کے جسم کی ستر پوشی کرتا ہے،اُسی طرح میاں بیوی بھی ایک دوسرے کے لئے ستر پوشی ہوتے ہیں ۔ آج کا مرد اس بات کو جھٹلا کے عورت کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرتا ہے اور ساتھ ہی میں اسکے سسسرال والے بھی۔ناحق اس پر پھر ایسےالزامات لگاے جاتے ہیں جنکا کہیں وجود ہی نہیں ہوتا۔ جس قوم کی بھلائی کا راز عورت کو عزت و احترام کرنے میں تھا، وہی قوم اس کو ذلیل کرکے موت کے  کے کنویں میں دھکیل دیتی ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سُنا کہ مرد اپنی بیوی کو جب کم تر سمجھتا اور اسکو ذلیل کرتا ہے تو عورت کی دل سے نکلی ہوئی بددُعا مرد کی خوشحال زندگی کو ختم کر دیتی ہے اور وہ مرد ناکامی میں پڑ جاتا ہے ۔ عورت جو کہ اپنے دل سے گھر والوں کا خیال رکھتی ہے تو مرد اسکو کیوں ستائے ؟کیوں اسکے ساتھ ظلم کرے ؟چاہے ایک عورت غریب باپ کی بیٹی ہو یا امیر کی لیکن ہوتی تو کسی کی بیٹی ہے۔اسلام میں مساوات ہے، انسان اور انسانیت کو عزت و وقار حاصل ہے نہ کہ مال و دولت کا ۔ 
جہیز کی لعنت ہمارے سماج پھیلتی جارہی ہے ۔ معاشرے کے افراد کی ایک قلیل تعداد اس جہیز کی بدعت کو غلط سمجھتی ہے ۔ اکثریت اس بدعت کو پسند کرتی ہے۔ اسی لئے غریب والدین بیٹی کی ولادت کو بوجھ سمجھتے ہیں،حالانکہ بیٹی کی ولادت باعث رحمت ہے لیکن یہ معاشرہ اس بات کو قبول نہیں اس لئے قبول نہیں کرتا کیونکہ جہیز نہ ہونے کی صورت میںیا تو لڑکیوں کی شادیاں نہیں ہوپاتیںیا پھر سسرالیوں کے ہاتھوں ظلم و زیادتیوں کی شکار ہوجاتی ہیں۔جبکہ یہ بگڑا ہوا ظالم معاشرہ غلط رسومات کا خاتمہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ سوشل میڈیا اگرچہ غلط رسومات کومٹانے کے لیے بھر پور کوششوں میں نظر آتا ہے لیکن عملی طور پر معاشرے میںاس کا کوئی مثبت اثر نہیں پڑتا ہےاور نہ ہی کوئی کاروائی عمل میں نہیں آتی۔کوئی اپنے قول پہ ثابت قدم نہیں رہتا ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کتنی لڑکیاں جہیز کی بھینٹ چڑ جاتی ہیں،کتنوں کا طلاق ہورہا ہےاور کتنی خود کشیاں ہورہی ہیں۔ ایک بیٹی کو اسلام نے یہ حق دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کو انکی استطاعت کے مطابق مطالبہ کر سکتی ہے لیکن انکے داماد اور سسرال والوں کو کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ لڑکی والوں سے کسی چیز کا مطالبہ کریں ۔ اسلام نے بھیک مانگنے کی اجازت اُس سائل اور جو تنگدست کو دی ہے جس کا جینا انتہائی دشوار بن گیا ہو۔مھر اپنے یہاں تو بھک منگوں کی فوج بن گئی ہے۔معاشرے کی بیشتر لڑکیاں جہیز کی بنا پر شادی سے محروم رہ جاتی ہے ۔اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے قوم کے ہر فرد کو آگے آنے کی ضرورت ہےاور بدعت کو جٹ سے اُکھاڑنے کی کوشش کرنی چاہے تاکہ ہر بنت ِ حوا شاد و آباد اور محفوظ رہ سکے اور والدین کو بھی اس بات کا خیا ل رکھنا چاہئے کہ نکاح کے وقت ہی یہ عہد لیں کہ نہ جہیز لیں گے اور نہ دیں گے تاکہ ہر ایک لڑکی کا جینا آسان ہوجائے۔ اسلام ہمیں ہرگز اس چیز کی اجازت نہیں دیتا،جس سے معاشرے کا غریب طبقہ بُری طرح متاثر ہوجائے ۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہدایت دے اور دین کا فہم عطا کرے ۓ۔ آمین 
( آونیرہ شوپیان ،فارغہ جامعةالبنات سرینگر )