بزرگ روحانی رہنما اور سابق سیاسی لیڈر میاں بشیر فوت

ڈاکٹر فاروق ،عمر عبداللہ ،ڈاکٹڑ یوکول اور مولانا ریاض ہمدانی کی تعزیت

سرینگر // معروف مذہبی و سیاسی شخصیت و سرکردہ گوجر رہنما پدم بھوشن ایوارڈ یافتہ میاں بشیر احمد لاروی انتقال کرگئے ۔ خاندانی ذرائع کے مطابق باباجی آبائی رہائش گاہ بابا نگری وانگت کنگن میں سنیچر کی شام آٹھ بجے انتقال کر گئے ہیں۔ انکی عمر 98برس کی تھی۔خاندانی ذرائع کے مطابق میاں بشیر نے سنیچر کی شام دیر گئے 8بجکر 45منٹ پر آخری سانس لی۔خاندانی ذرائع کے مطابق انکی نماز جنازہ آج سہ پہر 4 بجے بابا نگری میں ادا کی جارہی ہے۔ میاں بشیر احمد لاروی کے پوتے میاں مہر علی نے بتایا ”بابا جی ہمیں چھوڑکر آخری سفر پر روانہ ہوچکے ہیں۔ انہوں نے رات تقریباًساڑھے آٹھ بجے اپنی رہائش گاہ وانگت کنگن میں آخری سانس لی“۔انہوں نے مزید کہا کہ بابا جی کی نماز جنازہ اتوار کی شام 4 بجے بابا نگری وانگت میں اداکی جائے گی اور بعد میں انہیںان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
میاں بشیر احمد لاروی جنہیں بابا جی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ، جموں و کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں اور ان کی مذہبی اور روحانی تعلیمات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر قابل احترام اور نمایاں تھے۔میاں بشیر احمد لاروی نومبر 1923 میں وسطی کشمیر کے گاندربل ضلع میں کنگن کے بابا نگری وانگت میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حضرت میاں نظام الدین لاروی اور ان کے دادا بابا جی صاحب لاروی بھی مذہبی شخصیات تھیں۔وہ نظام الدین لاروی کے فرزند اکبر تھے۔ میاںبشیر کے دو بیٹے میاں سرفراز احمد اور میاں الطاف احمد ہیں۔ میاں الطاف احمد جموں و کشمیر میں جنگلات ، ماحولیات اور ماحولیات کے وزیر رہ چکے ہیں۔ وہ جموں و کشمیر میں کابینہ کے وزیر رہ چکے ہیں۔ میاں نظام الدین لاروی ، میاں بشیر احمد لاروی اور میاں الطاف احمد نے سیاست میں قدم رکھنے کے بعد کبھی کوئی الیکشن نہیں ہارا۔ میاں بشیر احمد نے اپنے بیٹے میاں الطاف احمد کو جون 2017 میں
 122 ویں سالانہ عرس پر سجادہ نشین زیارت بابا جی صاحب لاروی وانگت کے طور پر نامزد کیا۔میاں بشیر بحیثیت گوجر لیڈر منفرد مقام رکھتے تھے۔
وہ 1997تک سیاست میں بہت سرگرم بھی رہے اور اس سے قبل 4بار 1967 ، 1972 اور 1977 میں جموں و کشمیر کی ریاستی قانون ساز اسمبلی کے لیے منتخب ہو ئے تھے۔میاں بشیر ، شیخ محمد عبداللہ ، سید میر قاسم اور بخشی غلام محمدکے قریبی ساتھی تھے اور تینوں کی کابینہ میں وزیر بھی رہ چکے تھے۔میاں بشیر نے پاکستان کے سابق صدر ضیاالحق کے دور اقتدار میں اسلام آباد کا دورہ کیا تھا اور انہیں فوج نے سیکورٹی فراہم کی تھی۔انہیں حکومت ہند نے 26 جنوری 2008 کو سماج میں ان کی خدمات کے لئے پدم بھوشن (تیسرا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ) سے نوازا۔دریں اثنا ، متعدد مذہبی ، سیاسی رہنماو¿ں ، تنظیموں نے ممتاز گوجر رہنما اور مذہبی شخصیت حضرت میاں بشیر احمد لاروی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ ، نائب صدر عمر عبداللہ نے ان کے انتقال پر تعزیت کی اور مرحوم کی روح کے لئے دعا کی۔ممتاز ماہر امراض قلب ڈاکٹر یو کول، جنہوں نے ایک طویل عرصے سے مرحوم میاں بشیر احمد لاروی کا علاج کیا، نے ان کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور میاں الطاف احمد اور اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔مولانا ریاض احمد ہمدانی نے بھی ان کے انتقال پر تعزیت کی ہے۔