عظمیٰ نیوز سروس
بریلی(یو پی)// حکام نے اتوار کو بتایا کہ اتر پردیش پولیس نے دو مشتبہ کشمیریوں کو اس وقت حراست میں لیا ، جب مبینہ طور پر گائوں والوں کی جانب سے بریلی ضلع میں ان کی مشتبہ سرگرمیوں کی شکایت کی گئی۔پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ ہفتہ کی صبح اس وقت پیش آیا جب گائوں والوں نے پولیس کے ایکس ہینڈل پر شکایت کی کہ دو کشمیری مبینہ طور پر احلاد پور علاقے کے ڈھمری گائوں میں گھروں میں بھیک مانگتے ہوئے پائے گئے۔انہوں نے بتایا کہ عزت نگر پولیس نے ان کی زبان اور بولنے کے انداز پر شبہ ہونے کے بعد تلاش شروع کی۔مشتبہ افراد نے ہجوم میں گھل مل کر اور نماز پڑھ کر پولیس سے بچنے کی کوشش کی۔ عزت نگر سٹیشن ہائوس آفیسر بیجندر سنگھ نے بتایا کہ تاہم، جب گائوں والوں نے انہیں دوبارہ دیکھا، تو پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔انہوں نے بتایا کہ پوچھ گچھ کے دوران ان افراد نے اپنی شناخت شوکت علی اور سجاد کے طور پر کی، دونوں جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع کے رہنے والے ہیں۔پولیس نے بتایا کہ دونوں نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ ایک مقامی مسجد میں مقیم تھے اور 10 دسمبر کو شہر پہنچے تھے اور تب سے وہ ڈھمری گائوں میں مقیم تھے۔زیر حراست شخص نے یہ بھی دعوی کیا کہ وہ غریب تھے اور بھیک مانگ کر زندہ رہتے تھے، پولیس نے کہا کہ ابھی تک کوئی اہم معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہیں۔ایس ایچ او نے کہا کہ ان کی حراست کے فورا ًبعد، مقامی انٹیلی جنس یونٹ بھی تحقیقات میں شامل ہو گیا۔ایس ایچ او نے کہا کہ دونوں افراد کی تصاویر اور آدھار کی تفصیلات جموں و کشمیر پولیس کو تصدیق کے لیے بھیج دی گئی ہیں۔