برمی مہاجرہ کی داستانِ غم

 میں اْس روز گھر کے باہر روز کی طرح اپنے ہم جولیوں کے ساتھ آس پاس کے ماحول سے بیخبر کھیل کود میں مصروف تھی، اچانک گولیوں کی دل دہلانے والی آواز کانوں میں گونجی، دیکھا لوگ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر چیختے چلاتے بھاگے جارہے ہیں،بچے بوڑھے، عمر رسیدہ عورتیں کچلی جارہی ہیں، میں نے دور سے ہی اپنے گھر کے ساتھ ساتھ دوسروں گھروں کو بھی منہدم ہوتے ہوئے دیکھا لیکن چاہ کربھی کچھ نہیں کرسکتی تھی، بھیڑ جس طرف بھاگتی گئی، میں بھی اس کا ایک حصہ تھی، اس کی تقلیدمیں آگے بڑھتی گئی، بغیر کھائے پیئے جنگلوں، سمندروں سے ہوتے ہوئے کئی دن گزر گئے ،کھانے تک کو کچھ میرے پاس نہیں تھا، معصوم بچی جان کر جس نے ہمدردی میں جیسا جو کچھ کھانے کو تھمادیا کھا کر گزارا کرتی رہی، نہ ہمارے سونے کا وقت متعین تھا اور نہ جاگنے کا ،بھیڑ جب تک چلتی رہتی ہم میں کا ایک ایک فرد رات دن کی پرواہ کیے چلتا ہی رہتا، بھیڑ جہاں ٹھہرجاتی سب لوگ بلاتا مل وہیں ٹھہر جاتے۔ جیسے جیسے لوگ آگے بڑھتے گئے، بھیڑ کئی حصوں میں منقسم ہوتی چلی گئی،۔مجھے نہیں پتہ تھا کہ میں کدھر جارہی ہوں؟ میری منزل کیا ہے؟ بس میرے ساتھ جو لوگ تھے میں اُن کے ساتھ چلتی رہی کہ لوگوں کو چلتے چلتے بھوک کی شدت سے دم توڑتے ہوئے دیکھا، کتنے بوڑھے اور بچوں نے سردی وبخار کی آگ میں تپ کر جنگلوں میں زندگی کی آخری سانسیں لیں، آخر لمبی مسافت کاٹنے کے بعد ایک ایسی جگہ قافلہ قیام پذیر ہوا، جہاں ہر جانب ہر یالی اور چہار سمت پہاڑوں کا حسین جال دکھائی پڑتا تھا۔ صبح صبح پرندوں کا چہچہانا، موسم کی خنکی بھلی معلوم ہونے لگی، وہاں رہتے ہوئے ہماری تھوڑی سی حالت اس وقت سنبھلی جب مسلمان بھائی لوگ گاڑیوں میں لالاکر کھانے پینے کو دینے لگے،کئی دن گزرگئے تو معلوم ہوا کہ ہم لوگ جس جگہ مقیم ہیں وہ بھارتی جموں و کشمیر کاحصہ ہے۔اس بیچ اکثر امی ابو، چھوٹے بھاء بہنوں کی یاد آتی رہی، کبھی انہیں خواب میں دیکھتی ، اُن سے باتیں کرتی ، اُن کے ساتھ گپیں لڑاتی، کئی بار ماں کو دیکھا میرے سر کی مالش کررہی ہے، چوٹیاں گندھ رہی ہے، اور گیت گارہی ہے جب تک عالم ِخواب میں رہتی یوں لگتا کچھ ہوا ہی نہیں ہو لیکن جیسے ہی صبح کا سورج طلوع ہوتا ، کرنیں آنکھوں پہ پڑتیں ،نیند سے جاگنے کے بعد آس پاس کا ماحول دیکھ کر چہرہ اُتر سا جاتا، میں روہانسی ہوجاتی اور اس سے بھی جی نہیں بھرتا تو کسی جھاڑی کی اوٹ میں گھنٹوں بیٹھ کر روتی رہتی لیکن اپنے خیمے میں جب واپس لوٹتی تو یہ دیکھ کر تھوڑی ہمت بندھتی کہ میں اس درد کی ماری اکیلی نہیں ہوں مجھ جیسی کئی ایسی لڑکیاں ہیں جن لوگوں نے اپنے ماں باپ بھا ئی بہنوں کو کھویا ہے لیکن اُس کے باوجود سب نے روتے روتے آنسو پینے کا ہنر سیکھ لیاتھا ،اسی لیے ان لوگوں کو دیکھتے دیکھتے میں بھی کچھ پتھر سی ہوگئی تھی، میرے اندر سے یہ احساس بھی ختم ہوگیا تھا کہ میں زندہ بھی ہوں یا نہیں…!
کچھ مہینے بعد ایک روز اچانک بڑوں کو کچھ پریشان دیکھا تو دل میں تجسس نے سراُبھارا، سبب جاننے کی کوشش کی تو پتہ چلا ہم سبھوں کو یہاں سے دوسری جگہ منتقل کیے جانے کا پروگرام بنا ہے ،دیکھتے ہی دیکھتے بڑی بڑی گاڑیاں آگئیں اور نہ چاہ کر بھی مختلف خیموں میں مقیم لوگوں کو جانوروں کی طرح گاڑیوں پہ سوار کردیا گیا، مائیں، بچے ،بڑے بوڑھے چیختے رہے لیکن خاکی وردی والوں نے اُن کی ایک نہ سنی اور سبھی لوگوں کو بے دردی کے ساتھ الگ الگ گاڑیوں میں ٹھونس دیا گیا، چلتی گاڑی میں ہم ایک دوسرے کے بدن پہ گرگر کر ایک دوسرے کو بے بس نظروں سے دیکھتے رہے، آنسوؤں کا سیلاب امنڈتا رہا، خشک ہوتا رہا، سسکیاں اُبھرتی ڈوبتی رہیں لیکن احتجاج کی ہمت پورے طور پر جواب دے چکی تھی ،یوں لگتا تھا جیسے اللہ کی پوری زمین گونگی ہوگئی ہوں یا ہم لوگ ایسی مخلوق ہیں جن کی صداؤں کو ہواؤں کا شور سمجھ کر دنیا والے یکسرنظر انداز کر رہے ہیں۔
گھنٹوں سفر کے بعد رات کی تاریکی میں جب ہم لوگوں کو ایک جگہ اُترنے کا حکم دیا گیا تو آسمان بری طرح بادلوں سے گھرا ہوا تھا، بجلی کڑک رہی تھی، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ بھی ہم ہی مظلوموں پہ ستم ڈھانے کو پاگل ہاتھی کی طرح چنگھاڑ رہی ہو،ہر طرف تاریکی پھیلی ہوئی، گمنام سی جگہ اور اس پر ستم یہ کہ دور دور تک انسانوں کی آبادی کا پتہ تک نہیں، ساتھ ہی بادلوں کا شور الگ کسی نئی قیامت کی خبر دے رہا تھا ،چند گھنٹے ہی بیتے ہوں گے تیز بارش نے وہاں پہ موجود سینکڑوں لوگوں کو گھیر لیا، جب تک آسمان کا بادل برستا رہا مدد مدد کی صدائیں، بے بسی میں ڈوبی ہوئی دلخراش کراہیں رونگٹے کھڑی کرتی رہیں۔ پوری رات آنکھوں ہی آنکھوں میں گزر گئی، صبح کی صحت افزاء ہوا چلی تو گیلی زمین کے اوپر ہی بھیگے پتوں کا ڈھیر جمع کرکے میں سوگئی… اور مجھ جیسے درجنوں بے بس لوگ درختوں، پیڑ پودوں سے لگ کر جھپکی لے رہے تھے، دن چڑھے کب تک میں سوتی رہی پتہ ہی نہیں چلا … پیشانی پہ کسی کے شفقت بھرے ہاتھوں کے لمس کی گرمی کا احساس ہوا تو آنکھ کھل گئی دیکھا تو سامنے کوئی جانی پہچانی سی صورت تھی، دل میں خیال آیا کہ شاید خواب دیکھ رہی ہوں تو میں نے جلدی سے آنکھیں بند کرلیں پھر کچھ دیر بعد جب مکمل یقین ہوگیا کہ میں سج مچ میں بیدار ہوچکی ہوں ، میں نے پورے طور پر اپنی آنکھیں کھول دیں…. پتہ چلا رات جہاں ہم لوگوں کو لاکر پھینک دیا گیا ہے وہ انڈیا کی راجدھانی دہلی کا جنگلی علاقہ ہے۔
سامنے میرے پڑوسی "عبدل" چچا تھے، میں اُنہیں دیکھ کر حیران تھی کیونکہ کئی مہینوں بعد پہلی بار کوئی ایسا چہرہ نظر سے گزرا تھا جسے میں باضابطہ جانتی تھی ورنہ اذیت ہی میری ساتھی، آنسو میرے رفیق، بھوک میری پڑوسن، چیخ وپکار میری غمگسار، کراہیں میری ہمراز، اور اللہ کی کچی زمین ہی میری بستر تھی…عبدل چچا کو جب یقین ہوگیا کہ میں اُسے پہچان چکی ہوں تو کہنے لگے بیٹی میں یونہی صبح کی نماز سے فارغ ہوکر گھوم رہا تھا تو تم پہ نظر پڑی، کئی لوگوں سے پوچھا کہ کوئی اس بچی کا گارجین ہے؟ تو سب نے نفی میں سر ہلایا تو مجھے لگا یہاں سے اب میری ذمہ داری بڑھ گئی ہے، میں یہیں گھنٹوں سے تمہارے پاس ہی تمہارے جاگنے کا انتظار کررہا تھا کیونکہ مجھے یہ خدشہ ستارہا تھا کہ یہاں سے جانے کے بعد شاید اس بھیڑ میں دوبارہ تجھے تلاش پانا مشکل ہو چونکہ یہاں سب مجبور وبے بس ہیں، کوئی کسی کی فکر نہیں کرسکتا اورچاہ کر بھی کوئی کسی کو سہارا نہیں دے سکتا۔میرا بھی یہاں اپنا کوئی نہیں، سب لوگ جان بچاکے بھاگے تو میں بھی بھاگا، گھر کے لوگوں کو تلاش کرنے تک کی مہلت نہ مل سکی، اللہ جانے میری بیوی بال بچے کہاں ہیں؟کس حال میں ہیں؟ زندہ بھی ہیں یا بودھ بلوائیوں کی بے رحم تحریک نے انہیں ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سلا دیا؟کچھ خبر نہیں اللہ اُن کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔
میں پاگلوں کی طرح ہر روز اِدھر اْدھر نظر دوڑا تا رہا مگر کوئی شناسا چہرہ نہیں دکھائی دیا۔۔۔زندگی کہاں سے کہاں لے آئی سمجھ میں نہیں آتا ہے….میرے مولا!میں کیوں زندہ ہوں؟.میری بچی ….. یہ کہتے ہوئے عبدل چچا مجھ سے گلے لگ کر پھوٹ ہھوٹ کر رونے لگے… اُنہیں روتا دیکھ کر آنسوؤں کا جو سیلاب سوکھ گیا ایک بار پھر سے اُمڈ پڑا… دیر تک ہم دونوں روتے رہے ایک دوسرے کے آنسو پونچھتے رہے….. پھر میں نے خود پہ قابو پاتے ہوئے اپنے چھوٹے منہ سے بڑا بول بولنا شروع کیا عبدل چچا! کا ہے کو روتے ہیں؟ اللہ کی جیسی مرضی، وہ جس حال میں چاہے بندے کو رکھے۔شروع میں کچھ دنوں تک میں بھی بہت روئی لیکن جب یہ دیکھا کہ مجھ جیسے اس مصیبت کے مارے سینکڑوں لوگ ہیں اور انہوں نے صبر کرنا سیکھ لیا ہے تو میں بھی ان ہی کی راہ چل پڑی،کیونکہ یہی ایک راستہ بچا ہے سانسوں کو محفوظ رکھنے کا۔ سچ تو یہ  کے کہ جس کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہیں… اگر رونے سے مسائل حل ہوجاتے تو اپنا گاؤں چھوڑتے وقت ہی میں نے کم آنسو نہیں بہائے تھے….. اب تو بس اللہ ہی محافظ ہے۔
عبدل چاچا سے ملنے کے بعد مجھے اب زیادہ اپنی فکر نہیں کرنی پڑتی وہی بے چارے کہیں سے کھانے پینے کا انتظام کر دیتے ہیں اور ہم دونوں مل بیٹھ کے جو روکھا سوکھا ملتا ہے کھا لیتے ہیں لیکن اپنے تو اپنے ہوتے ہیں اُن کی جدائی کی ٹیس رہ رہ کے مضطرب کرتی ہے ،خود سے اکثر سوال کرتی ہوں :کیا اب ہم کبھی اپنے ملک نہیں لوٹ سکیں گے؟ کیا اپنے گھر والوں سے نہیں مل سکیں گے؟ کیا اللہ کی زمین درد مند انسانوں سے خالی ہوگئی ہے؟ کیا اس جہان میں کوئی ایسا نہیں جو حلق سے نیچے لقمہ اتارنے سے پہلے، مسکرانے سے پہلے، آرام کی نیند لینے سے پہلے، اُٹھتے بیٹھتے، رکوع وسجود کرتے ہمارے بارے میں بھی ایک بار سوچے؟مجھے نہیں پتہ کیوں سانسیں چل رہی ہیں؟ کیوں جی رہی ہوں؟کم بخت موت بھی پتہ نہیں کہاں کہاں بھٹکتی رہتی ہے؟ جب کہ ہم جیسے مجبوروں اور بے کسوں کو بڑی ضرورت ہے اس کی ……کاش وہ اِدھر کا رخ کرلیتی تو ہمیشہ کے لیے اذیت کے اس جہنم سے ہمیں نجات مل جاتی، کاش، اے کاش……!
رابطہ9973234929