بحران کے پیچھے حقیقی وجوہات کے بارے میں نہیں جانتے: قطر

دوحہ //قطر نے سعودی عرب اور مصر سمیت چھ عرب ممالک کی جانب سے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے اعلان کے بعد سفارتی تنازع کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔قطر کے وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالرحمان الثانی کا کہنا تھا کہ تمام ممالک کو بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے اپنے اختلافات کو دور کرنے چاہئیں۔قطری وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا 'ہم قطر کے خلاف پیدا ہونے والے حیران کن تنازعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم اس بحران کے پیچھے حقیقی وجوہات کے بارے میں نہیں جانتے۔'محمد بن عبدالرحمان الثانی کے مطابق اگر اس بحران کے پیچھے اصل وجوہات تھیں تو ان پر گذشتہ ہفتے جی سی سی کے ہونے والے اجلاس میں بات چیت یا بحث کی جا سکتی تھی تاہم اس اجلاس میں اس بارے میں کوئی بات چیت یا بحث نہیں کی گئی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ریاض میں ہونے والے امریکی اسلامی عرب سمٹ میں بھی اس حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا۔ 'ان اجلاسوں میں ایسا کچھ بھی تھا تو ہمارے پاس اس بحران کے پیدا ہونے کا کوئی اشارہ نہیں ہے۔ بحران کے بعد قطر کے امیر شیخ تمیم آج رات خطاب کرنے والے تھے تاہم ان کا خطاب ملتوی کیوں کر دیا گیا کے جواب میں شیخ محمد کا کہنا تھا کہ قطر کے امیر قطر کے لوگوں سے خطاب کرنا چاہتے تھے لیکن انھیں کویت کے امیر نے فون کر کے اس بحران کو ختم کو حل کرنے کے لیے اس خطاب کو ملتوی کرنے کا کہا۔خیال رہے کہ امیرِ کویت نے سنہ 2014 میں ایک بحران کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا تھا۔شیخ محمد نے کہا کہ قطر کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات غیر معمولی اور یکطرفہ ہیں۔ 'ہم قطر میں ایسی نوعیت کا کوئی قدم نہیں اٹھاتے کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ مذاکرات کے ذریعے کوئی بھی مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔'ان کا مزید کہنا تھا 'ہمیں افسوس ہے کہ جی سی سی میں شامل کچھ افراد قطر پر اپنی خواہش نافذ کرنا چاہتے یا اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنا چاہتے ہیں جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔ تاہم ہمارا خیال ہے کہ اس نے جی سی کے کردار پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔پوچھے جانے والے اس سوال پر کہ اس بحران سے قطر میں عام زندگی کتنی متاثر ہو گی، شیخ محمد کا کہنا تھا کہ قطر میں اس سے پہلے بھی متعدد بحران آ چکے ہیں۔