بجلی کی عدم دستیابی،بابا پورہ کلن گنڈ اورپلوامہ کے بیشتر علاقوں میں لوگ برہم

کنگن+پلوامہ// بابا پورہ کلن گنڈ میں بجلی کی عدم دستیابی کے خلاف صارفین سراپا احتجاج ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر دو روز تک علاقے میں 100کے وی بجلی ٹرانسفارمر نصب نہیں کیا گیا تو وہ احتجاجی راستہ اختیار کرنے کیلئے مجبور ہوجائیں گے جس کی ذمہ داری محکمہ بجلی پر عائد ہوگی۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ان کی بستی گذشتہ ایک ماہ سے گھپ اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ہے اور انہیں سردی کے ان سخت ایام میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ ایک مقامی شہری علی محمد بابا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اُن کی بستی سو گھرانوں پر مشتمل ہے جہاں  63کے وی بجلی ٹرانسفارمرنصب ہے جو اکثر خراب رہتا ہے اور مارچ 2018سے اب تک کئی بار خراب ہو گیا اور لوگوں نے چندہ جمع کرکے ٹرانسفارمرکی مرمت کی۔ مقامی لوگوں نے علاقے میں 100کے وی ٹرانسفارمر نصب کرنے کا مطالبہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ ان کی بستی کے لئے 100کے وی ٹرانسفارمرمنظور کیا گیا ہے لیکن ابھی تک اسے نصب نہیں کیا گیا ۔ لوگوں نے بتایا کہ جمعرات کو محکمہ نے دوبارہ 63کے وی ٹرانسفارمرکی مرمت کرکے اُسے علاقے میں پہنچایا لیکن لوگوںنے اسے نصب کرنے نہیں دیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بابا پورہ کی بستی میں 100کے وی ٹرانسفارمر کو نصب کرنے کے لئے فوری طور اقدامات کئے جائیں ۔ضلع پلوامہ کے بیشتر علاقوں میں سخت سردی کے ان ایام میں بجلی کی عدم دستیابی کے نتیجے میں سخت مشکلات درپیش ہیں ۔ضلع کے قصبہ پلوامہ ،راجپورہ،کلر،شادی مرگ،اونتی پورہ،ترال سمیت کئی دیہات میںبجلی کی آنکھ مچولی کے باعث ان علاقوں میں شام ہوتے ہی اندھیرا چھاجاتا ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ دن اور رات کے دوران اکثر بجلی سپلائی غائب رہتی ہے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ محکمہ بجلی کے ناقص سپلائی نظام سے عوامی حلقوں میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے ۔ادھرضلع کے کئی علاقوں سے شکایت ہے کہ وہاں نصب بجلی ٹرانسفارمر خراب ہیں ۔ قصبہ ترال سے 3کلومیٹر دور نازنین پورہ ہاین کا علاقہ گزشتہ3ماہ سے بجلی سپلائی سے محروم ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ علاقے میں3ماہ قبل ٹرانسفارمر خراب ہوا اور تاحال اس کو واپس نہیں لایا گیا جس کے نتیجے میں علاقے کی وسیع آبادی کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ اگر چہ آج تک انہوں نے اس حوالے سے متعلقہ محکمہ کو آگاہ بھی کیا تاہم کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گی جس کی وجہ سے آبادی میں محکمہ کے خلاف سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے ۔