بجلی کرنٹ لگنے سے ایک اور خاندان پر بجلی گِری

گذشتہ روز جب یہ بُری خبر میری کانوں تک پہنچ گئی کہ بیروہ کا ایک بجلی اہلکار کرنٹ لگنے سے لقمہ اجل ہوگیا تو کچھ وقت کےلئے مجھ میں سکوت طاری ہوگیا اور رونگٹے کھڑا ہوگئے کیونکہ وادی کشمیر میں آئے روز ایسے واقعات سننے میں آتے ہیں کہ آج فلاں جگہ بجلی کرنٹ لگنے سے ایک شخص کی جان گئی یا مستقل طور ناتواں ہواہے ۔یہ محکمے کی غفلت شعاری نہیں تو اور کیا ہے؟لوگ اور محکمہ کچھ روز تو واویلا کرتے ہیں مگر پھر کئی روز بعد بھول جاتے ہیں کہ کہیں ایسا بھی ہوا۔ ایسے واقعات کے بارےمیں میں تب سے سنتا آرہاہوں جب سے میں نے جوانی کے دہلیز پر قدم رکھا اور میری جانکاری میں لگ بھگ ایسے دسیوں افراد ہیں جو محکمہ بجلی میں یا تو مستقل طور پر کام کرتے تھے یا کیجول لیبر تھے مگر یہ ضرور ہے کہ زیادہ تر کیجول لیبر ہی اپنی جان جوکھم میں ڈال کر اپنے اعلیٰ آفسران کو خوش رکھنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں مگر ان بیچارہ غریب اور نادار افراد کو بدلے میں کیا مل رہا ہے ،اس سے خدا ہی واقف ہے۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایک کیجول لیبر کی جان گئی تو اس کے بدلے میں اس کے گھر والے اب عیش و عشرت کی زندگی گزاریں گے کیونکہ محکمہ کے اعلیٰ عہدیداران اس کے موت واقع ہونے کے بعد ان کے گھر جاکر ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ بلند بانگ دعوے کرتے ہیں مگر نتیجہ اس کے برعکس ہوتا ہے ۔نوکری دلانے کی اوربات ہے مگرچار دن کے بعد نہ ہی کوئی ان کے اہل خانہ کی خبر گیری کرتا ہے اور نہ ہی کوئی ان سے پوچھتا ہے کہ آیا اس کے گھر میں بھی چولا جلتا ہے کہ نہیں۔نشاندہی کےلئے میں کس کس کا حال سناؤں ۔ہمارے گاؤں میں دو نوجوان بھائیوں شوکت احمد اور سجاد احمدکے والدین کا دکھ سناؤں یا چھل براس کے محمد رمضان کی بیوہ کا دکھ سناؤں یا بٹہ پورہ کھاگ کے محمد یوسف جو بجلی کرنٹ لگنے سے ایک ہاتھ کھو بیٹھا کی بیٹیوں جو مہندی رچنے کی آڈ میں ہیں کا دکھ سناؤں تو کس سے سناؤں؟ کون ان کےلئے سوچتا ہے؟ یہ سبھی بجلی محکمے کی غفلت شعاری کی وجہ سے اپنی جانیں کھو بیٹھے مگر ان بیچاروں کو اس کے عوض کیا ملا؟ اس سے میں کیا پورا علاقہ واقف ہے۔ان کے حق میں محکمے نے آج تک کچھ نہیں کیا اس کے علاوہ محکمہ بجلی کے علاوہ بہت سارے محکموں میں سینکڑوں افراد بحثیت کیجول لیبر کام کرتے ہیں، ان کیجول لیبروں کی لسٹ کو آج سے تین سال پہلے مرتب کیا گیا تھا مگر آج تک نہ ہی ان کی تنخواہ بڑھا دی گئی اور نہ ہی ان کے مستقلی کے اجازت نامے فراہم کئے گئے، ان میں سے زیادہ تر اب بڑھاپے میں پہونچ گئے ہیں۔ اگر محکمے کے پاس ان کو مستقل کرنے یا تنخواہ بڑھانے کاکوئی پلان نہیں ہے تو محکمے کو ان بیچاروں کی چھٹی کرنی چاہیے تاکہ ایسے لوگوں کی زندگیاں بچ سکیں گی اور یہ لوگ اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کےلئے مزدوری کرکے کچھ خرید سکیں اور ان کا پیٹ پال سکیں گے۔ دوسرا یہ کہ محکمے کو فیلڈ ورکرس کےلئے ایسے اسباب فراہم کرنے چاہیے کہ جن کے استعمال کرنے سے ان کی اور جانیں ضائع ہونے سے بچ سکیں گی، اس کے علاوہ محکمے کو ان افراد کی بازآبادکاری کےلئے اقدام اٹھانے چاہیے جنہوں نے اس محکمے کےلئے اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کیا یا مستقل طور پر ناتواں ہوئے ہیں۔ بجلی محکمے کےلئے یہ فیلڈ ورکرس کیجول لیبر ریڑھ کی ہڈی جیسی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ ان کے بغیر اس محکمے کا دیوالیہ نکل جائے گا کیونکہ یہ غریب اور نادار کیجول لیبرموسم سرما میں اس وقت بھی تاروں اور کھمبوں کو سدھارنےاور مرمت کرنےمیں لگے رہتے ہیں جب عام لوگ اپنے گھروں میں اپنے بچوں کے ساتھ بخاریوں کے آگے بیٹھ کر نرم نرم پلنگوں پر آرام فرما ہوتےہیں اور محکمے کے اعلیٰ عہدیداران دوسرے ریاستوں میں جاکر اپنے من کو لُبھانے کےلئے جاتے ہیں۔ یہ حال صرف محکمہ بجلی کے کیجول لیبروں کا نہیں ہے بلکہ محکمہ جھل شکتی اور میونسپل ایریا میں کام کرنے والے مفلوک الحال کیجول لیبروں کا بھی یہی حال ہوتا ہے، فرق بس اتنا ہے کہ بجلی محکمہ کے کیجول لیبر کرنٹ لگنے سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور محکمہ جھل شکتی کے کیجول لیبر برف کی تودوں کے نیچے آکر دب جاتے ہیں ۔غرض بارش ہو یا برف دھوپ ہو ہا آندھی یہ لوگ چوبیس گھنٹے لوگوں کی سیوا کرنے میں لگے رہتے ہیں مگر ان ہی کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جارہا ہے کہ یہ لوگ اب سماج میں رہنے کے لائق ہی نہیں رہے ہیں کیونکہ لوگوں کے نظروں میں یہ ملازم ہوتے ہیں، ان کو گورنمنٹ کی طرف سے مہیا اسکیموں جیسے بی پی ایل،آئی اے وائی،رہائشی کوارٹر وغیرہ کا فائدہ اٹھانے سے پیچھے رکھا جارہا ہے اور دوسری طرف محکمے کی طرف سے ان کو وقت پر ان کے مراعات حاصل نہیں ہوپارہے ہیں۔ یہ تہواروں پر اپنے لیے اور اپنے بیوی بچوں کےلئے کپڑے تک نہیں خرید سکتے ہیں، ان کے بچوں کو اسکولوں میں سکالر شپ اسکیموں سے دور رکھا جارہا ہے مگر یہ کیجول لیبراپنے افسران بالا سےاُف تک نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی ان کو کرنے دیا جارہا ہے۔ یہ اپنا حال سنائیں تو کس سے فریاد کریں تو کس سے کریں؟ کیونکہ ان کا کوئی فریاد رس نہیں ہے۔ ان کی آواز اتنی دھیمی ہے کہ ان کی کوئی سنتا ہی نہیں ہے۔ لگتا ہے کہ ان کےلئے سبھی دروازے بند ہیں۔ اس لئے ان سب چیزوں کا ازالہ کرنے کےلیے سرکار کو کوئی مثبت طریقہ کار اپنانا چاہیے تاکہ ان لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہونے سے بچ جائیں اور یہ بھی سماج میں اپنی زندگی احسن طریقے سے گزار سکیں۔
خان پورہ کھاگ
فون نمبر۔ 7006259067