جموں//شہرکے وسط میں واقع متعددمقامات پر بہت سی سڑکوں پربنے کھڈوں کے سبب بارش کے موسم میں گاڑیوں سے کیچڑکی چھینٹیں اڑنے سے عام لوگوں کوسخت دشواریوں کاسامناکرناپڑرہاہے لیکن شہرمیں خستہ حال سڑکوں پرضلع انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔سڑک پربنے کھڈوں سے پریشان لوگ ایک طرف جموں میونسپل جبکہ دوسری طرف ضلع انتظامیہ کوکوسنے پرمجبورہیں اورجے ایم سی جیسے اہم ادارے کی کارکردگی پرکئی سوالات کھڑے کررہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق باوے والی گلی جو کہ وزارت روڈ نزدیک شہیدی چوک واقع ہے کی اندرونی سڑک اس قدر خستہ حالی کاشکارہے جس کے سبب وہاں سے گذرنے والے راہ گیروں کومشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے۔اس بارے میں راہ گیروں نے بتایاکہ اس گلی سے کافی موٹر سائیکل و سکوٹروں کا بھی گذر ہوتا ہے یہاں تک کہ گوجر نگر سے آنے جانے والے لوگ اسی سڑک سے ہو کر گذرتے ہیں۔کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے یہاں سے گذرنے والے متعددلوگوں نے بتایاکہ یہاں سے بچے اپنے سکولوں کو جاتے ہیں اور سڑک خراب ہونے کی وجہ سے بچوں کے کپڑے (وردیاں)خراب ہو جاتی ہیں۔وہیں دوسری طرف عورتیں جو کہ یہاں سے بازار کی طرف آتی جاتی ہیں انہیں بھی اس گلی سے گذرتے ہوئے روز مرہ کی مشکلات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔گاڑیوں کو نکلنے میں بھی پریشانی ہوتی ہے۔انہوں نے بتایاکہ کئی بارسڑک پرکھڈے ہونے کی وجہ سے لوگوں کی گاڑی پھسل جاتی ہے اور کئی لوگوں کو چوٹیں بھی لگ جاتی ہیں۔لوگوں نے مزیدکہاکہ یہاں سڑک پر بے شمار گاڑیاں تو آتی ہی ہیں ساتھ ہی یہاں سے نمازیوں کا بھی گذرنامشکل ہو گیا ہے۔مقامی لوگ اکثرنماز کیلئے اس سڑک سے آتے جاتے ہیں تو ان کے کپڑے خراب ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں نماز ادا میں دشواری پیش آتی ہے۔ایک راہ گیرنے کہاکہ اب آپ ہی بتائیں کہ گندے کپڑوں کے ساتھ نماز کیسے قائم ہو۔ایسا نہیں ہے کہ یہ بات کسی کو معلوم نہیں ہے۔یہ بات نہ صرف اس سڑک سے گذرنے والا ہرکوئی جانتاہے بلکہ انتظامیہ کوبھی اس بات کابخوبی علم ہے لیکن اس کے باوجودضلع انتظامیہ اس اہم اورمصروف سڑک کی طرف توجہ نہیں دے رہی ہے۔ایک مسافر نے کہا کہ پہلے سے ہی یہ گلی اتنی تنگ ہے اور اب سڑک پر کھڈے ہونے کی وجہ سے انہیں یہاں سے نکلنے میں ہر روز پریشانی ہوتی ہے ۔اس گلی میں کچھ دکانیں بھی موجود ہیں اور لوگ ان دکانوں میں بھی سامان خریدنے جاتے ہیں اور یہیں سے بازار جانے کا راستہ بھی ہے۔ اگر یہ اس گلی سے گذرتے ہیں تو سامنے یا پیچھے سے آنے والی گاڑی ہوتی ہے وہ ہارن بجاتی ہے اور سینکڑوں ہارن کی آوازوں سے نائس پولیوشن ہوتا ہے ۔یہ روز کامعمول ہے یہ کوئی نئی بات نہیں کہ جس کے بارے میں کسی کو معلوم نہ ہو۔حیرت کی بات یہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن اورضلع انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے قاصرہے اورغفلت کامظاہرہ کررہی ہے ۔مقامی دکانداروں اورعام لوگوں نے متعلقہ حکام سے اپیل ہے کہ جلد سے جلد کوئی سخت اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ مقامی لوگوں کو روز مرہ کی پریشانیوں سے نجات مل سکے۔