کشمیر کی معیشت زراعت اور باغبانی پر انحصار کرتی ہے۔ سروسز کا شعبہ یہاں پر مفقود ہے۔ سرکاری شعبہ جات لوگوں کو روزگار دینے کیلئے کافی نہیں ہیں ۔ پرائیویٹ سیکٹر کا یہاں پر کبھی نام و نشان ہی نہیں پایا گیا ہے۔ صنعت و حرفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسے میں لوگ جن شعبہ جات کے رحم و کرم تلے بود و باش کر رہے ہیں ، ان میں سیاحت، تجارت، پرائیویٹ اسکول، زراعت و باغبانی کے شعبے قابل ذکر ہیں۔ پچھلے ستر برسوں کے حالات و واقعات کی بات اگر کی جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ سارے کے سارے شعبے حد درجہ متاثر رہے ہیں۔ اس فہرست میں لیکن ایک شعبہ ایسا ہے جس کو متعلق لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری مدد اور اعانت شورش میں بھی کرتا ہے۔ مدد ہی نہیں بلکہ باقی شعبہ جات کو سپورٹ کرنے میں بھی اہم رول ادا کرتا ہے ۔ اس شعبے کا نام زراعت و باغبانی ہے۔ لیکن پچھلے کچھ برسوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ اس شعبے کو اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے، جس کی وجہ سے اِس پیشے کے ساتھ منسلک لوگ طرح طرح کے مشکلات سے دو چار ہیں۔
اِس وقت وادی کشمیر کے جنوب و شمال سے یہ خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ میوہ باغات کو طرح طرح کی بیماریوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مالکانِ باغات اپنی طرف سے ہر کوئی تدبیر اختیار کر رہے ہیں، لیکن کوئی بھی طریقہ کارگر ثابت نہیں ہو رہا ہے۔ سنجو اسکیل، ریڈ مائٹ، اسکیب، آلٹر نیریا وغیرہ جیسی بیماریوں نے وبائی صورت اختیار کی ہے۔ پے در پے دوا پاشیاں کرنے کے باوجود بیماریاں باغات سے نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہیں۔ میوہ باغات پر ان بیماریوں نے مالکان کو اتنا پریشان کیا ہوا ہے کہ سائنسی طریقہ کار کے ساتھ ساتھ روایتی ٹوٹکوں کو بھی آزمایا جارہا ہے، لیکن نتیجہ صفر کے برابر ہے ۔
میوہ باغات کے اوپر قدرت کی طرف سے یہ اس(باغبانی) سال کا دوہرا حملہ ہے۔ دیا۔ نومبر 2019ء کے اوائل میں زمستانی ہوائیں چل پڑیں اور بے وقت برف باری لے کر کشمیریوں پر برس پڑیں۔ برف باری سے یہاں کے میوہ باغات کو ہزاروں کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ مقامی انتظامیہ نے اسے آفات سماوی قرار دیا تھا ۔ اُس وقت کشمیر کے باغات میں رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو مل گئے ۔
میوہ باغات کے ساتھ ہمارے یہاں ایک پرانا محکمہ منسلک ہے، جسے محکمہ ہارٹیکلچر کے نام سے لوگ یاد کرتے ہیں۔ لیکن اس محکمہ کو اکثر لوگ اِس وقت بھول گئے ہیں۔ کیوں کہ یہ ایک ایسا محکمہ ہے جو یا تو صرف دفاتر میں دکھائی دیتا ہے یا یہ لوگ کبھی کبھاار اخبار و ریڈیو یا ٹیلی ویژن کی زینت بنتے ہیں۔ حالاںکہ یہ ایک ایسا محکمہ ہے جس کا دائرہ کار زمینی سطح کا ہے۔( باغبانی) سال کے اختتام پر یہ لوگ ایک زبردست تقریب کا انعقاد کرتے ہیں اور مالکان باغات کے خون پسینے کی کمائی کو اس طرح بیان کرتے ہیں جیسے کہ یہ لوگ خود میوہ باغات میں مزدوری کر رہے تھے۔ یہ لوگ اعداد و شمار پیش کرتے ہیں، مختلف اسکیموں کے نام ظاہر کرتے ہیں، لوگوںکو مراعات کی صورت میں پہنچائیں گئیں ،مراعات کا خلاصہ پیش کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ حالاںکہ ان کاموں میں ان لوگوں کو اُتنا رول ہی نہیں ہوتا جتنا کہ یہ لوگ پیش کرتے ہیں۔
موجودہ حالات میں میوہ باغات کے اوپر برستے قہر کا خلاصہ مندرجہ بالا اقتباسات میں پیش کیا گیا ، لیکن محکمہ کا ایک بھی فرد کہیں دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ نہ کوئی مشورہ یہ لوگ لوگوں تک پہچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ محکمہ اگر اپنے کام کے تئیں سنجیدہ ہوتا تو ان کے پاس لوگوں تک پہنچنے کے بے شمار ذرائع تھے۔ لیکن جب کام کرنے کا جذبہ ہی نہ ہو، جب دوسروں کے دکھ درد کا احساس ہی جاتا رہے، تو کسی سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔ محکمہ کے اہلکاروں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ مالکِ باغ کے کے لیے میوے کا ایک پیڑ اپنے بچے کی طرح ہوتا ہے، جس کے اوپر نظر گذر رکھنا، کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں سے بچانا، قسم قسم کی دوائیوں کی پاشی کرنا، سرد گرم موسم میں خیال رکھنا اُس کا روز کا معمول ہوتاہے۔ بچہ اگر والدین کے لیے بڑھاپے کا سہار ا بن کے آتا ہے، تو مالکانِ باغات کے لیے باغ معاشی کفالت کی صورت میں خدمت کرتے ہیں۔میوہ باغات پر اتنی محنت کرنے کے بعد اگر خاطر خواہ منافع نہ آئے تو مالکان کی مالی و ذہنی پریشانی کا اندازہ لگانا کوئی دشوار کام نہیں ہے۔
اس سلسلے میں باغبانی شعبے کے ساتھ جو بنیادی المیے وابستہ ہیں، انہیں ہم کچھ گذارشات کے ساتھ مندرجہ ذیل نمبر وار پیش کرتے ہیں۔
۱۔ گائوں میں کھاد اور دوائی بھیجنے والے کو ماہر سمجھا جاتا ہے۔ وہی مالکان باغات کو صلح و مشورے دیتا ہے۔ کس موقع پر کیا دوا پاشی کرنی ہو، اس بات کا تعین یہی بندہ کرتا ہے۔
۲۔ محکمہ کے اہلکار ریڈیواور ٹیلی ویژن پر براجمان تو ہوتے ہیں، لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کا زمانہ کب کا گذر چکا ہے۔ رسل و رسائل کے ذرائع میں انقلاب آیا ہے۔ روایتی طور طریقے اپنا کر یہ کہنا کہ ہم اب بری ہو گئے ہیں صحیح نہیں ہے۔ محکمے کو چاہیے کہ جدید ذرائع کا انتخاب کر کے لوگوں کی بر وقت رہنمائی کریں۔ ان جدید ذرائع میں سوشل میڈیا کو آج کل کلیدی حیثیت ہے۔
۳۔ محکمہ کے ماہرین کو چاہیے کہ مالکان باغات کے ساتھ آن گرائونڈ دورہ کریں ۔ باغات کی زمین، نوعیت اور صورتحال کا از خود جائزہ لیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مالکان باغات کو بھی اپنے محکمے کے ساتھ منسلک کریں۔ انہیں باغات کی بہبود کے لیے بنیادی سطح کی تعلیم دیں۔
۴۔ مالکان باغات کی بروقت رہنمائی شاذ ہی دیکھنے کی ملتی ہے۔ جس طرح سے ایک انسان میںاگر کسی بیماری کی تشخیص کو بروقت کیا جائے تو بیماری کو قابو میں لانا کوئی دشوار کام نہیں ہوتا۔ ایسے ہی باغات میں اگر بیماریوں کا قلع قمع کرنے کے لیے بروقت رہنمائی کی جائے تو ہی کسی بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔
۵۔ بازاز میں قسم قسم کی دوائیاں موجود ہوتی ہیں۔ کیا ان دوائیوں کو کسی لیبارٹری میں ٹیسٹ کرکے ہی بازاز میں چھوڑا گیا ہے یا نہیں، اس بات کا تعین محکمے کو ہی کرنا ہے۔ کسی غیر معیاری دوائی کی شناخت پر مالکان باغات کو مطلع کرنا اور اُس کمپنی کے خلاف کاروائی کرنا محکمے کا فرض بنتا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ محکمے کے ماہرین اس بات کی جانب کم ہی دھیان دیتے ہیں۔
۶۔ میوہ باغات کی نشو نما میں موسم کا براہ راست عمل دخل ہوتا ہے۔ دوا پاشی کرنے سے پہلے مالکان کو اس بات کی انفارمیشن ہونی ضروری ہوتی ہے کہ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کیا ہے۔ لیکن یہاں کا محکمہ موسمیات صرف سیلابی صورتحال پر لوگوں کو کسی حد تک صحیح اَپ ڈیٹ فراہم کرتا ہے۔ مالکان باغات اُن کے لیے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے ۔ہر روز تو پیش گوئیاں کی جاتی ہیں لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ بہت کم صحیح ثابت ہوتی ہیں۔
۷۔ محکمہ کے پاس ابھی تک کوئی ٹھوس ہارٹیکلچر پالیسی نہیں ہے۔ رواں سال کے اوائل میں محکمہ کی طرف سے یہ اطلاع آئی تھی کہ کشمیر کو جلد ہی اپنی ہارٹیکلچر پالیسی مہیا کی جائے گی۔ لیکن ابھی تک اس بارے میں شاید کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ویسے یہ بھی ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ محکمے کے پاس کوئی سنجیدہ پالیسی ابھی تک نہیں ہے۔ یہ اس بات کا غماز ہے کہ محکمے نے باغبانی شعبے کو قدرت کے رحم و کرم پر چھوڑا ہے۔
۸۔ ٹیکنالوجی نے ہر کسی شعبے میں ایک انقلاب پید کیا ہواہے۔ لیکن یہاں بھی اس کا فائدہ اونچے طبقے کے لوگوں کو پہنچ رہا ہے۔ مساوات کی دنیا میں بیچارے غریب کو اس سے بھی مستثنیٰ رکھا جاتا ہے۔ باقی ممالک کے زراعت و باغبانی شعبے کی طرف اگر نظر دوڑائی جائے تو ان کی پیداوار کئی گنا زیادہ ہے۔ لیکن کشمیر کے لوگ ابھی بھی اپنے زراعت و باغات کے ساتھ روایتی طور طریقے ہی اَپنا رہے ہیں ۔ وہی اسے منسلک محکمہ بھی اس جانب کوئی خاص دھیان نہیں دے رہا ہے کہ ٹیکنالوجی اور جدیدمشینوں کا بھی استعمال ہمارے کشمیر کے زراعت پیشہ لوگ کریں۔ حالاں کہ جتنی محنت یہاں کے مالکان کر رہے ہیں ، اس کا کوئی مول ہی نہیںہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری پیداوار کو محنت کے مطابق خاطر خواہ قیمت نہیںمل پا ہی ہے۔
۹۔آفات سماوی و نا مسائد حالات کے تناظر میں محکمے کو کوئی ایسی اسکیم متعارف کرانی چاہیے جسے کہ بیچارے مالکان پورے سال دل ہاتھ میں لیے نہ پھریں ۔ سرما آیا تو برف کا خطرہ، بہار آیا تو بارش کا ڈر، گرما آیا تو اولے پرنے کا خوف، حالات خراب ہوئے تو پیداوار کو منڈیوں تک پہنچانے کی فکر۔ محکمہ اگر انہی انہی خطرات کا مداوا کرتا تو یہ بھی ان کاطرف سے ایک قابل قدر عمل ہوتی۔
۱۰۔ اس سلسلے میںایک اخری بات کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری ہے۔ پیداوار کو باہر کی منڈیوں تک پہنچانے میں مالکان کو قسم قسم کی دقعتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خزان کے موسم میں جب پیداوار کو پیڑ پودوں سے اتارا جاتا ہے تو انہیں ڈبوں میں پیک کرتے کرتے سرما کا موسم آجاتا ہے۔ سرما کے موسم میں باقی دنیا سے ملانے والی سرینگر جموں قومی شاہرہ ،شاہراہ کم خونین راستہ زیادہ ثابت ہوتی ہے۔ اس عرصے میں یہ راستہ متواتر طور پر بند رہتا ہے۔ ادھر سے کشمیر میں کولڈ سٹوریج کا کوئی خا طر خواہ انتظام نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے میوہ بردار گاڑیاں ہفتوں تک اس راستے میں درماندہ رہیتی ہیں۔ میوہ راستے میں ہی خراب ہو جاتا ہے ۔ اس کے بعد وقت پر منڈیوں میں بھی پہنچ نہیں پاتا ، نتیجتاً کوئی معقول قیمت ہاتھ نہیں آتی۔
(مضمون نگار جامعہ کشمیر کے محقق ہیں اور اُن سے برقی پتہ [email protected]پر رابطہ کیاجاسکتا ہے۔)