نوجوان دنیا بدل سکتے ہیں، اقلاب بپا کرسکتے ہیں اور قوم کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں جب بھی اور جہاں بھی انقلاب آیا ، اس کی قیادت نوجوانوں نے ہی کی۔ ہر ورق پر ان کا کردار بڑا اہم اور کلیدی نظر آتا ہے۔ زمانہ قریب میں مشرق وسَطِی میں یکے بعد دیگرے کئی ممالک میں آنے والے انقلابات میں بھی نمایاں کردار نوجوانوں کا ہی تھا ۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ماضی میں بھی ہر چھوٹی بڑی تبدیلی نوجوانوں ہی کے ذریعہ سے آئی۔ستّر کے عشرے کے آخری برسوںمیں ایران کی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب بیس فیصد تھا اور 1989 میں ایران میں انقلاب بپا ہوا۔ نوجوانوں نے اپنے جوش و خروش اور ولولے سے ہی قوموں کی تقدیریں بدل ڈالی ہیں۔ اسی لئےہر نیا زمانہ نوجوانوں کے عزم و استقلال کو یاد کرتا ہے۔زمانہ حال میں بھی ہر چھوٹی بڑی تنظیم یا تحریک چاہے سیاسی ہو یا مذہبی وسماجی ان میں نوجوان ہی پیش پیش رہے تھے۔ مستقبل میں بھی ہر قوم وملک ان ہی پر اپنی نگاہیں اور توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔تغیر، تبدیلی اور انقلاب فطرت کا قانون ہےلیکن آج کے نوجوان ان قوتوں کو پہچاننے سے قاصر ہیں۔ کبھی نوجوانوں سے دنیا بہادری اور شجاعت کا درس لیا کرتی تھی،آج وہ سرد ہوچکے ہیں۔ جس ملک کے پاس نوجوانوں کی بڑی تعداد ہو، اس کے باوجود اس کا ترقی کے بجائے پستی کی طرف جانا یقیناً قابل حیرت ہے۔
فی زمانہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نسلِ نو کی درست سمت میں رہنمائی کی جائے تاکہ ان کی توانائیاں، ولولہ، جوش و خروش اور خوداعتمادی روشن مستقبل کے لئے ایک سرمایہ ثابت ہوسکے۔ کسی دانا کا قول ہے ’’اس قوم کی ترقی کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی ،جس قوم کے نوجوان ذمے دار اور محنتی ہوں اور کسی قوم کی بربادی کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اس قوم کے نوجوان بے فکرے اور کاہل ہو جائیں‘‘۔اگر نوجوان اپنی تعلیمی قابلیت اور صلاحیتوں کے تحت چاہیں تو وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی اور انقلاب لا سکتے ہیں ۔دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انقلاب نوجوانوں کی وجہ سے تو آیا، یقیناً وہ ملک کے بہترین مستقبل کے لئے سرگرم کردار بھی ادا کرسکتے ہیں۔آج کے بیشتر نوجوان نہ صرف باشعور ہے بلکہ وہ بڑی جرأت مندی کے ساتھ اپنے خیالات اور نظریات کا اظہار بھی کرتے ہیں، سیاست میں بھی شراکت داری لیتے ہیں۔ اس لیے نسلِ نو کو چاہیے کہ دیگر اقوام کی صرف اُن باتوں سے مرعوب ہوں، جو اُن کی ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہورہی ہیں ۔ اپنی ایسی شناخت بنائیںجو دوسروں کے لیے قابل تقلید ہو ۔مواقع کوئی ایسا درواز ہ ہے ،جسے خود آپ کو ہی کھولنا ہے۔ طویل مدت سے ذہنوں میں لئے منفی سوچوں کو بدل کر اور ذہن کی ری پروگرامنگ کے ذریعہ اپنی زندگی کو خوشی و مسرت اور سکون و اطمینان سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔ جس کے لئے بنیادی چیز بہترین تعلیم کا حصول ہے، مطلب مہنگے اور مشہور تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنا نہیں ، بلکہ اپنے وسائل اور استعداد کے مطابق جہاں بھی تعلیم حاصل کریں، ایک ایک لمحہ سیکھنے کے عمل میں استعمال ہونا چاہیے۔ ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی آپ ہی کو اہم کردار ادا کرنا ہے، دنیا کے سامنے اپنے ملک و قوم کی شناخت اوراپنے بزرگوں کی امید اور اپنے بعد آنے والی نسل کے لئے ایک مثالی نمونہپیش کرنا ہے۔ نسلِ نو راہ راست پر ہو تو انہیں آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔وہ اپنے ہنر، طاقت اور توانائی سےملک و معاشرے کے حالات بدل سکتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو بہتر تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی ہنرمندانہ تربیت بھی کی جائے ، ہنرمند نوجوان ہی معاشی انقلاب لاسکتے ہیں۔ انہیں تہذیب اور اخلاقیات کا سبق سکھانا بھی ضروری ہے تاکہ اپنی معاشرتی روایات اور اقدار کا خیال رکھ سکیں۔ دور حاضر کے جدید تقاضوں کے مطابق نوجوان کوزندگی کے تمام شعبوں کے لئے علم و ہنر سے آراستہ ہونا چاہئے۔ تاکہ یہ نوجوان قومی خدمت اور فلاح کے جذبے سے قومی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ ابھی بھی وقت ہے کہ حکومت نوجوانوں کے مسائل اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے بارے میں عملی طور پر اقدامات کرےاور جو تربیتی پروگراموں کے اعلان کیے جاتے ہیں، اُن کامستقل بنیاد پر اطلاق کیا جائے تاکہ نوجوان ہنر مندانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اپنے ساتھ ملکی معشیت کو مستحکم کر نے میں فعال کردار ادا کر سکیں ۔چنانچہ جس تیزی سے نوجوانوں میں اخلاقی بیماریاں عام ہورہی ہے، اس کےعلاج کے لیے حکام کو بہت مضبوط اور منظم انداز میں فعالی منصوبہ بندی کرنا چاہئے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ہم اپنا قیمتی اثاثہ گنوادیں گے۔ اگر نسل نو قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے تعمیر ملت کی راہ میں آنے والی رکاوٹ کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جا ئیں اور ہر برائی کو اچھائی میں تبدیل کرنے کی ٹھان لیں، تو یقین کیجیے کہ تعمیر قوم کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ دریا میں تنکے کی طرح بہہ جائے۔دور حاضر میں نوجوان طبقہ بے شمار مسائل اور الجھنوں میں گھرا ہوا ہے۔ ایک طرف غیر متوازن نظام تعلیم کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے تو دوسری طرف اقتصادی مسائل سے دوچار ہے، پھر بے روز گاری نے پر یشانیوں میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں ماں باپ، علما اور دانشوروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مربیانہ رول ادا کریں تاکہ نوجوان طبقہ مستقبل میں قوم وملت اور سماج کی تعمیر اور اصلاح کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکے۔