بارہمولہ سب جیل کے قیدی بھوک ہڑتال پر

سرینگر // بارہمولہ سب جیل میں نظر بند قیدیوں نے منگل کی شام سے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔جبکہ جیل حکام نے سب جیل کی تمام 8بارکوں کو تالہ بند کر دیا ہے جس کے نتیجے میں یہاں مقید دیگر قیدیوںکا دانا پانی بھی بند ہوگیا ہے۔بدھ کو جیل میں نظر بند سوپور کا ایک قیدی بیمار ہوگیا تھا جسے فوری طور پر اسپتال منتقل نہ کرنے پر یہاں مقید نوجوان مشتعل ہوئے اور انہوں نے نعرے بازی شروع کی۔ اس موقعہ پر پولیس حرکت میں آئی تاہم قیدیوں نے ان پر پتھرائو کیا جس کے باعث صورتحال کشیدہ ہوگئی اور پولیس کو شلنگ کرنا پڑی۔قیدیوں نے یہاں فرنیچر، ایل سی ڈی، فریج اور دیگر الیکٹرانک اشیاء کو نذر آتش کیا جس کے بعد ان پر شدید لاٹھی چارج کیا گیا جس میں18قیدی زخمی ہوئے جبکہ چند پولیس اہلکاروں کو بھی چوٹیں آئیں۔زخمی قیدیوں میں 8کو شدید چوٹیں آئیں تھیں جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔اس واقعہ کے بعد بدھ کی شام سے بارک نمبر5,6,7اور 8میں نظر بند قریب 50قیدیوں نے بھوک ہڑتال شروع کی جو جمعرات کو دورے روز بھی جاری رہی۔تاہم جیل حکام نے بدھ کی شام سے ہی ان 4بارکوں کو باہر سے مقفل کرلیا اور کسی بھی قیدی کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔بھوک ہڑتال کرنے والوں میں سوپور کے امیر ضلع تحریک حریت 79سالہ غلام مصطفی بھی شام ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ جیل حکام نے سب جیل کی مزید 4بارکوں نمبر1,2,3اور 4کو بھی تالہ بند کردیا ہے جہاں دیگر قیدی نظر بند ہیں جن میں ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 4لیڈران بھی شام ہیں جن کی گذشتہ روز ہی مزید تین دن کیلئے ریمانڈ حاصل کی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ جمعرات کو دیگر قیدیوں کا دانا پانی بھی بند کردیا گیا اور انہیں بھی باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان قیدیوں کے پاس کھانے پینے کی اشیاء موجود نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ بھوکے پیاسے رہ گئے ۔بتایا جاتا ہے کہ نہ انکے پاس راشن ہے، نہ سبزیاں، نہ دوائیاں نہ دودھ میسر ہوا۔ جھمعرات کو جیل کے اندر کسی بھی شخص کو کسی بھی قیدی سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ادھر بھوک ہڑتال پر گئے قیدیوں کا مطالبہ ہے کہ جب تک نہ ان پر حملے میں ملوثین اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے انکی بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔