عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// وادی کشمیر میں جاری مسلسل بارشوں کے باعث اگرچہ سیب کے باغات میں کچھ پھل گرنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، تاہم باغبانی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بارشیں مجموعی طور پر سیب کی نشوونما، حجم، رنگت اور معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ماہرین کے مطابق یہ بارشیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب کئی ہفتوں سے خشک موسم اور شدید گرمی کے باعث باغبانوں کو اپنے باغات میں واٹر پمپوں کے ذریعے آبپاشی کرنی پڑ رہی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر زمین میں مناسب نمی سیب کے پھل کی بہتر افزائش کیلئے نہایت ضروری ہوتی ہے۔شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کشمیر کے سینئر سائنس دان اور ایسوسی ایٹ پروفیسر برائے پلانٹ پیتھالوجی، ڈاکٹر طارق رسول نے کہا کہ اس وقت ہونے والی بارش سیب کے پھل کے لیے فائدہ مند ہے۔ اس سے پھل کا سائز بڑھے گا، چمک میں اضافہ ہوگا اور درخت غذائی اجزاء کو بہتر انداز میں جذب کر سکیں گے۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بارش کا سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہا اور نمی کی مقدار زیادہ رہی تو باغات، خصوصاً نشیبی علاقوں میں، متعددفنگس بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر وہاں جہاں پانی جمع ہو جائے۔ ماہرین نے باغبانوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر بارش کا سلسلہ جاری رہے تو بیماریوں پر قابو پانے کے لیے بروقت حفاظتی اقدامات کریں، باغات میں نکاسی آب کا مناسب انتظام رکھیں اور مسلسل نگرانی جاری رکھیں تاکہ ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ حد سے زیادہ بارش اور پانی جمع ہونا باغات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، لیکن موجودہ بارشیں اس وقت تک فائدہ مند رہیں گی جب تک یہ غیر معمولی طور پر طویل نہ ہو جائیں۔دوسری جانب محکمہ موسمیات نے جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں کے لیے 23 جولائی تک شدید سے انتہائی شدید بارش کی پیش گوئی کرتے ہوئے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ محکمہ نے اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور دریاؤں و ندی نالوں میں طغیانی کے خطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔ادھر باغبانوں نے حالیہ بارشوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے طویل خشک موسم کا خاتمہ ہوا ہے، جس کے باعث پھل کی نشوونما متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہو گیا تھا۔شوپیاں کے ایک باغبان طارق احمد میر نے کہا کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے بارش نہ ہونے کے سبب کسانوں کو واٹر پمپوں کے ذریعے باغات کی آبپاشی کرنا پڑ رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں نے شدید گرمی سے راحت پہنچائی ہے اور درختوں پر پڑنے والا دباؤ کم کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر موسم سازگار رہا اور بیماریوں پر قابو پایا گیا تو اس سال سیب کی فصل کو نمایاں فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔قابل ذکر ہے کہ سیب کشمیر کی اہم ترین باغبانی فصل ہے اور وادی میں لاکھوں خاندانوں کا روزگار اسی سے وابستہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دن اس بات کا تعین کریں گے کہ حالیہ بارشیں فصل کے لیے کتنی مفید ثابت ہوتی ہیں اور آیا بیماریوں سے باغات کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔