اے نوائے صبح تیری جیت پکی اب کی بار

افسوس صد افسوس! اُدھر نیوزی لینڈ کے المیے نے خون کے آنسورُلایا،ا ِدھر الیکشن دھمال دنیا جہاں بھلا رہاہے ۔ خیر آج کل ہل والے قائد ثانی خوشی سے جھوم رہے ہیں بلکہ اپنی ہی مستی میں گھوم رہے ہیں اور کیا پتہ گرینڈ مستی میںاپنے آپ کو ہی چوم رہے ہیں کیونکہ ان دنوں نوائے صبح کے دروازے پر عید دیوالی جیسا سماں ہے۔کوئی کیک ،کوئی باقر خانی، کوئی حقہ تمباکو، کوئی ہریسہ زعفرانی لئے دربار ِ شیخاںمیںحاضر ہورہا ہے کہ ہریسہ کھاتے ہوئے باقر خانی کے ساتھ نمکین چائے اور ساتھ میں حقہ سنبھالے گڈگڈ کی آواز کے ساتھ سیاست کوٹنے میں جو مزہ ہے وہ اورکہاں ۔ سیاست بھی ایسی کہ فرقہ پرست بھاجپا کوملک کشمیر میں ٹکنے نہیں دیں گے اور سن سینتالیس کی وہ چوبی بندوقیں کندھوں پر لٹکائے لائو لشکر کے ساتھ دفعہ ۳۷۰ اور ۳۵۔ الف کے گرد ایسا مضبوط حصار بنا دیں گے تاکہ کوئی ناگپوری سرجیکل اسٹرائک نقصان نہ پہنچا سکے۔اس بات پر تبصرہ نگار دشمنِ کشمیر کہلائے گا کہ ہل والوں کا سن اٹھانوے کا دلی سرکار کے ساتھ یارانہ یاد دلائے جس کے سبب ٹویٹر ٹائگر کی منسٹری چلتی رہی۔ان حالات کے بیچ  اگر ساتھ ہی آنے والے انتخابات میں کھلی آنکھوں سے ممکنہ جیت کا خواب بھی دیکھا جائے تو سہانے پہ سہاگہ ۔ظاہر ہے ان سپنوں کے بیچ چہرے پر چمک اور ہونٹوں پر مسکان آ ہی جاتی ہے ۔اسی لئے تو بیروکریٹ کیا ٹیکنو کریٹ کیا ، جوڈیشل کیاآفیشل کیا، انجینیر کیا ٹھیکیدار کیا ، ڈاکٹر کیا مریض کیا، دندان ساز کیا طبلہ نواز کیا، غریب کیا ادیب کیا ، سیدھا کوتوال کیا الٹا چور کیا ،سب گپکار سے لے کر نوائے صبح تک اپنی قسمت سنوارنے کی تگ و دَو میں مصروف ہیں کہ کسی صورت گردش ایام میں ان کے ستارے کسی غلط مدار میں پرویش نہ کر پائیں ۔ان کا خیال تھا کہ قائد ثانی اور ٹویٹر ٹائیگر نے کہہ دیا کہ اب کی بار ہل والی سرکار اپنے بہومت پر قائم ہوگی کیونکہ ملی جلی کچھڑی سرکار سے ان کا نظام ہاضمہ برباد ہوگیا ہے۔ایسے میں ہل والا جھنڈا اونچا ہوگا تو وہ بھی اس کے گرد چکر لگا کر اپنے رشتہ داروں ہمسایوں کو گن چکر بنا دیں گے ۔ جبھی تو جان پہچان والے ان کے دروازے پر وردی پوش ہٹو ہٹو ریجمنٹ سے داخلے کی اجازت مانگیں گے۔ادھر اہل قلمدان بھی دوسروں کے ناراض حلقہ صدور اورسر پنچ چشم  بد دور کو اپنی پارٹی میں شامل کر کے مالائیں پہنا کر خوشی کا اظہار کرتے ہیںکہ چلو ہم بھی کسی کھاتے میں ہیں اور  اس وہم میں مبتلا ہیں کہ ہم سے لوگ دور ہوکر بر آمد نہیں ہوتے بلکہ درآمد بھی ہو رہے ہیں ۔خود ہندوارہ بریگیڈ بھی اپنی بھرتی میں مشغول ہے کہ ہماری فوجی طاقت میں بھی اضافہ ہورہا ہے اور جب ہم یلغار کریں گے تو خاندانی راج کے بل پر جینے والوں کے چھکے چھوٹیں گے۔کسے نہیں معلوم پارٹیوں میں آیا رام گیا رام والی ریت پرانی ہے ۔  الغرض سب اپنا سینہ پھلا رہے ہیں کہ دھیرے دھیرے بھلے ہی مودی مہاراج کے چھپن تک نہ پہنچے لیکن ایسا بھی نہ ہو کہ بس ان کے سامنے بچپن ہی دُکھ جائے۔
اپنے نیشنل والے ٹویٹر ٹایگر  سے لیکر سورسیار والے حکیم آف کھاگ آجکل بڑے زور و شور سے اسمبلی انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ایسا تو نہیں انتخاب کے نام سے قلمدان والی دودھ ٹافی آنٹی دور دور ہے بلکہ اس نے تو جماعت اسلامی کی نمایندگی کو اپنے ڈوپٹے میں باندھ کر ووٹنگ مشین کی آرتی اتارنے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے۔ ناگپوری فرمان ہے کہ جماعت والے آتنکی جوانوں کی اعانت کرتے ہیں اسلئے ان پر پانچ سالہ پابندی ضروری ہے۔یعنی مبینہ طوراعانت کرنے والے مجرم ہیں البتہ براہ راست شستر پوجا کوئی جرم نہیں ۔گلی گلی سڑک سڑک  شہر شہر  ہاتھوں میں تلواریں لئے، کندھوں پر بندوق سنبھالے چڈی پہنے جوانوں کی ٹولیاں گھما کر امن پسند آبادیوں کو خوفزدہ کرنے کے جملہ حقوق بحق ناگپو ر محفوظ ہیں اسلئے انہیں کوئی ہندو دہشت گرد نہیں پکار سکتا ۔کوئی ایسا کہنے کی جرات کرے تو دیش دروہی جتلا کر ملک بدر کیا جائے گا۔اس بیچ ہل والوں کو بھی جماعت کیڈر کے لئے دلوں میں پیار امنڈ آیا ہے بلکہ سب جماعتی آشیرواد کے حصول کے لئے سر پھٹول میں مشغول ہیں ۔اور تو اور وہ جو ینگ مولوی آف نگین کو بھی مرکزی ادارے کا نوٹس ملا تو اس میں بھی سیلف گول میں وہ سب جٹ گئے ہیں جو کل تک کیس بنوانے میں پیش پیش تھے۔واہ رے سیاست واہ!  اپنے اہل کشمیر مانا کہ اللہ میاں کی گائے ہیں پر تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں یا یوں کہئے کہ آنکھوں سے دلوں کا ڈیجیٹل ایکسرے نکال لیتے ہیں ۔سنا ہے ان ایکسرے فوٹووں میں ان کے دلوں میں فقط کرسی کرسی  اور وردی پوش  بندوق بردار دائیں بائیں گھومتے نظر آتے ہیں۔دروغ بر گردن  سپن شناس خواب  ریڈر کہ جس نے یہ تعبیر نکالی کہ سابق ممبران سیاست کی بیگمات اس بات پر سب سے زیادہ پریشان ہیں کہ چنائو جلدی سے ہوں ۔سنا ہے اتنے اوتاولے ممبر نہیں جتنی ان کے عزیز و اقارب ہیں کہ اقتدار کے مزے وہ زیادہ لوٹتے ہیں۔پر جس کا ڈر تھا بیدردی وہی بات ہوگئی۔مودی شاہ پرائیویٹ لمیٹڈ نے اپنا کمال دکھایا  اور سرجیکل اسٹرائک کے موسم میں ایک سٹرائک ملک کشمیر کی اسمبلی پر بھی کر ڈالی۔ الیکشن افسران نامی بم گرائے اور خود ممبران کی حفاظت کا چوں چوں مربہ والا بارود اڑا دیا کہ اس دھویں میں کچھ نظر ہی نہ آیا۔  چھپن انچ کی چھاتی سے بھلے پار والے ڈریں نہ ڈریں پر نرواچن بھون میں بھونچال آہی گیا اور اپنے چیف الیکشن کمشنر نے چیپ بن کر وہی کر دیا جو حکم حاکم تھا۔یہ کنول بردار جب تک مطمئن نہ ہوں کہ اگلی سرکار ان کی دم چھلا ہو گی اس وقت تک وہ کسی بھی صورت جمہوریت کی سون پری کو ملک کشمیر وارد نہیں ہونے دینگے۔ظاہر ہے ایسے میں اپنے سیاسی یومیہ مزدوروں کو ہر صبح کنول کی آبیاری کے لئے ایک ایک گھڑا پانی تو لینا ہی پڑے گا۔اب ہمیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ مانا ہل والے، قلمدان  والے یا ہندوارہ بریگیڈ ہی جیت لے تو بھلا دلی دربار کو کون آنکھیں دکھا سکتا ہے ۔کسے نہیں معلوم جب دلی دربار کو زکام ہوتا ہے تو ملک کشمیر کی ہوائیں ڈری ڈری سہمی سہمی چلتی ہیں کہ کہیں دلی دربار کا مزاج اور نہ بگڑ جائے   ؎
 اک طرز سیاست سو وہ ان کو مبارک 
 ہر روز کی خجالت سو وہ ان کو مبارک
 بدلے یہ بیانات ہر روز ہر گھڑی
 اور بے پناہ ضلالت وہ ان کو مبارک
سب نے سنا کہ لیتہ پورہ پلوامہ حملے کے بعد کنول بردار سرکار کی واردات ہوگئی۔ماڈرن اُڑن طشتریوں کی رات ہوگئی۔ الزام تراشی کی شروعات ہوگئی۔ مذاق مذاق میں بلکہ طنز و مذاح کے دور میں کسی کی جیت تو کسی کی مات ہوگئی۔ دو پڑوسیوں کے مابین مغلظات ہو گئی۔آسمانی گولوں کی برسات ہوگئی۔اس بیچ مدارس میں جو تعطیلات ہوگئیں تو اپنے پڑھاکو اساتذہ اور لڑاکو شاگرد  پر بھی مزے دار اور حسین شب برات ہوگئی۔  صاحبان اقتدار کے یہاں سیٹوں کی گنتی کی شروعات ہو گئی ۔ یعنی گھر میں گھس کر مارنے کی چیتائونی سیٹوں کی لسٹ تک سمٹ گئی جبھی تو کسی نے تین سو کا جوا کھیلا کوئی اپنی ریاست میں بائیس کا آنکڑہ لیکر چراغ جلا رہا ہے۔اور پھر یوں ہوا کہ جیت ہار کے معنی بدل گئے۔بلکہ اترتی ہوئی شلوار کو دستار بنا کر ناچنے لگے ۔ خوب ناچ نغمہ کیا ۔جو اپنے ہتھیار اور طاقت ہی سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا ، پھر  قید ہوا تھا اسے بہادر جتا کر بہت اونچا چڑھایا۔مطلب اپنے دیوالیے پن کو اپنی عزت و دولت جتا کر پیش  کیا کہ دنیا دنگ رہہ گئی ۔بھائی جو کل آسمان سے گر کر کھجور میں اٹکے تھے بلکہ بعد میں ادھر ادھر بھٹکے تھے ۔پھر کہیں جھٹکے سے قابو میں آگئے تھے۔دو دن وہاں گزارنے کے بعد خدا خدا کرکے واپس وطن پہنچے وہ بھی سوچ سوچ کر پریشان تھے ۔ جو ہم نے نہیں کیا تھا وہی باتیں ہوا کے دوش پر شہر شہر گائوں گائوں پہنچائی گئیں۔لوگ تو بیچارے قبول ہے قبول ہے کرکے مان گئے پر ابھینندن  سوچتے رہے کہ ایسے تو بھائی ہو انہیں۔یہ ہمارے نام کے ساتھ کیا کچھ جوڑا گیا۔ 
بس پھر کیا تھا دستار پہننے پر جھگڑا بڑھ گیا ۔کنول بردار فوجی بنے۔بھکت جن مارشل بنے ۔پنجہ مار پارٹی کے لوگ بھی میدان میں اُترے کہیں ہم پیچھے نہ رہہ جائیں۔بم باری کا حساب دو۔ مودی شاہ جواب دو۔کتنے لوگ مارے گئے۔کتنے پیڑ بے چارے گئے۔ کتنے کوے پرلوک سدھارے ۔کیا کھویا کیا پایا ۔ جہاں گئے وہاں سے کیا ثبوت لایا۔صفر سے تین سو کے آنکڑے ہوا میں اڑائے۔پریشانی کے عالم میںبلڈنگوں کی چھتوں میں تین چار سوراخ دکھائے ۔واہ کیا بات ہے ۔ایک ہزار کلو کا بم بس سوراخ کر گیا ۔ہو نہ ہو بم گر کر دروازے پر ٹک ٹک کرتا کھڑا ہوا،کہ بھائی! ہوشیار خبر دار پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی ۔نکل جائو روشن د انوں سے بھاگ جائو نہیں تومیں ذمہ دار نہیں۔پھر پتہ چلا یہ بم نیوز چینلوں کے مقابلے کم گو اور کم شور مچانے والے تھے۔نہایت خاموشی سے اندر گئے ، پھٹے ، کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔دھماکے کرنے کے لئے صحافت کا مچھلی بازار بھی ہے، مودی سرکار بھی ہے ، امت شاہ کا کاروبار بھی ہے ،بھکت جن  بیکار بھی ہیں۔  
ابھی تو آتنک کی بازی چل ہی رہی تھی کہ اس کو لے کر ڈھنڈھورا پیٹ لیں یعنی آتنک کا نام نہاد سوچھ ابھیان بقول کسے جاری و ساری تھا کہ منسٹر صاحب نے اپنا ابھیان چھیڑا ۔ اعلان کردیا کہ سڑک کے دائیں بائیں جو لکھا رہتا ہے یہاں پیشاب کرنا منع ہے یا یہ کہ دیکھو گدھا پیشاب کررہا ہے اسکو کنول برادری اپنے حساب سے پورا کرنا چاہتی ہے۔منسٹر صاحب نے ملک کا پیشاب جمع کرنے کا سائینس متعارف کرادایا کہ اس کے توسط یوریا کھاد کی درآمد ضرورت نہیں ہو گی۔مطلب کھاد کی کھاد ، پیداوار میں بڑھوتری اور زر مبادلہ کی بچت۔واہ مودی جی واہ! کنول بردار نت نئے کھیل کھیلتے ہیں اور ان کھیلوں میں کہیں کہیں چوٹ بھی لگنے کا خطرہ رہتا ہے۔دروغ برگردن راوی جس نے یہ سنایا کہ بھلے ہی فوجی اہلکاروں کو وقت پر بلٹ پروف جیکٹ نہ ملیں، ہوائی بیڑے میں رفال لڑاکا جہاز نہ شامل ہوں پر کنول پارٹی نے اپنے کار کرتائوں کو سر بچانے کے لئے ہیلمٹ مہیا کردئے ہیں۔معاملہ ہی کچھ ایسا ہے کہ بھاجپا اہلکاروں کو ایک دوسرے سے خطرہ ہے۔یہاں تو بڑا لیڈر یعنی ایم پی چھوٹے لیڈر ایم ایل اے پر جوتا لے کر دوڑتا ہے ۔گلا پکڑ کر پٹائی کرتا ہے۔سب کے سامنے دھنائی کرتا ہے۔سر بچانے کو ہیلمٹ تو ضروری ہے۔بھلے اولے گرے نہ گرے پر چپل جوتے تو پڑتے ہی ہیں۔کیا کریں کنول برادری ہے ہی ایسی کہ جوتے چپل اور سر کے بغیر سب کچھ غائب ہوتا ہے۔وہ سن چودہ کے وعدے یاد دلائو تو سب غائب کہتے ہیں۔پندرہ پندرہ لاکھ کا پیسہ ٹرانسفر پوچھو تو غائب ہے۔کروڑوں نوکریاں غائب ہیں ۔اور حدتو یہ کہ جنگی جہازوں کے کاغذ مانگو تو غائب ہیں ۔مطلب اچھے دنوں کی دہائی غائب ہے ۔ بنکوں کی صفائی غائب ہے ۔ مسلم اقلیتوںکی رہائی غائب ہے۔البتہ بھکت جنوں کی شدت پسندی غائب نہیں ۔کہاں سرف ایکسل سے کپڑے دھونے کا کام ہوتا بلکہ سفید اور چمکدار ہوتا  اور کہاں ہولی کے رنگوں کے بیچ سرف کا اشتہار بھی دیش دروہی قرار پایا ۔بھکت جن سرف پاوڈر کو لو جہاد کے زمرے میں لا کھڑا کئے تب ہمیں پتہ چلا سرف سے صرف بھکت جنوں کے مسلم کش فساد والے خونین داغ دھلتے ہیں ۔کچھ اور دھویا تو دیش سے غداری کا اعلان ہو گا۔کیونکہ مودی ہے تو سب ممکن ہے!!۔
رابط ([email protected]/9419009169)